ہمارے ہاں آئین میں ترمیم کیلئے کوئی حدود ہی نہیں ،سپریم کورٹ

ہمارے ہاں آئین میں ترمیم کیلئے کوئی حدود ہی نہیں ،سپریم کورٹ

  

 اسلام آباد (آن لائن،این این آئی ،مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ میں اٹھارہویں اوراکیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران میں جسٹس اعجاز افضل خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ بنیادی آئینی حقوق ، عدلیہ کی آزادی، جوڈیشل رویو ہی کو ختم کر دیا گیا تو پھر آئین میں باقی کیا رہ جائے گا؟جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہاکہ ابھی تک اسی بات کا تعین نہیں ہو سکا کہ پارلیمنٹ کے آئین ترامیم کرنے کی کیا حدود ہیں اور سپریم کورٹ انہیں کس حد تک کالعدم قررا دے سکتی ہے ۔ 2008ء کے سیاسی جماعتوں کے منشور میں کہہ دیا گیا تھا کہ ججز تقررکا طریقہ کار تبدیل کیا جائے گا۔ اس حوالے سے کی گئی ترامیم کی اجازت عوام نے دی ہے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ ججز سے زیادہ بااختیار ہے ،کیا پارلیمنٹ میں اکثریتی حمایت کے تحت کیا جانے والا فیصلہ یا ترمیم کے ذریعے بنیادی حقوق کو معطل کیا جا سکتا ہے ؟ جسٹس دوست محمد خان نے کہا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 6 بنیادی آئینی ڈھانچہ ہے ۔ کیا بنیادی حقوق سے متصادم کوئی ترمیم کی جا سکتی ہے جبکہ افتخار گیلانی نے اپنے دلائل سمیٹتے ہوئے کہا کہ اٹھارہو یں ہو یااکیسویں ترمیم یہ سیاسی معاملہ ہے جس کی سماعت کا سپریم کورٹ کو کوئی اختیار نہیں ہے۔یہ معاملہ پارلیمنٹ اور عوام پرچھوڑ دینا چاہئے، پارلیمنٹ غلط کرے گی تو عوام کے سامنے بھگتے گی ۔ انہوں نے یہ دلائل پیر کے روز چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 17 رکن فل کورٹ بنچ کے روبرو دیئے ہیں ۔خیبرپختونخواحکومت کے وکیل افتخار گیلانی نے دلائل کا آغاز کیا ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 33 ممالک نے بنیادی آئینی ڈھانچہ کے حوالے سے ترامیم کی ہیں جبکہ پاکستان میں تمام تر معاملات مختلف ہے۔ افتخار گیلانی نے کہا کہ مارشل لاء کا دور ختم ہوا تو بہت سے معاملات بھارت کے آئین سے لئے گئے ۔بھارتی سپریم کورٹ نے کئی معاملات ختم کر دیئے ہم ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں ۔ جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ کیا آئین کا آرٹیکل 6 بنیادی ڈھانچہ ہے ۔آئین کو معطل یا منسوخ ہونے سے بچانے کے لئے آرٹیکل 6 میں تبدیلی لائی گئی، کیا بنیادی حقوق ڈھانچہ کہلا سکتے ہیں؟کیا بنیادی حقوق کے متصادم کوئی آئین سازی کی جا سکتی ہے؟کیا آرٹیکل 239 میں پارلیمنٹ کا ترمیم کا اختیار محدود ہے ۔ وکلاء محاذ کیس میں 4 ججز نے ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے؟کیا آئین کے تحت اختیارات کی تقسیم کو بنیادی ڈھانچہ ہی تسلیم نہیں کیا گیا؟ کیا آئینی ترمیم کے ذریعے کسی کو نجی آرمی بنانے کی اجازت دی جا سکتی ہے ۔افتخار گیلانی نے کہا کہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ ہے پارلیمنٹ بادشاہت سے زیادہ طاقتور اور بااختیار ہوتی ہے ۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آئینی ترمیم کے تحت بنیادی تبدیلیوں کی اجازت دی جا سکتی ہے، گیلانی نے کہا کہ ایک جج بھی کہ دے تو ججز کی رائے تو آ گئی ۔ بنیادی ڈھانچہ اور بنیادی خدوخال میں فرق ہے۔جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہاکہ کیا اکثریت رکھنے والی جماعت حکومت میں رہتے ہوئے بنیادی آئینی حقوق میں تبدیلی کر سکتی ہے؟افتخارگیلانی نے کہا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔ بنیادی آئینی حقوق کو نہیں چھیڑنا چاہئے ۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا فیصلوں میں کہا گیا ہے کہ ججز سے پارلیمنٹ زیادہ بااختیار ہے جو تین چوتھائی سے قانون بناتی ہے ؟اگر آئین تبدیل ہو جاتا ہے تو پھر کیا کیا جائے گا ؟اگر پارلیمنٹ آرٹیکل 2 ختم کر دیتی ہے تو یا ہم بھی کر دیں گے اس آرٹیکل 2کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بنگلہ دیش میں آئینی ترمیم کے بارے میں بتلا رہے تھے ۔ افتخارگیلانی نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ پر ہے وہ کیا کرتی ہے امریکہ ، جاپان سمیت 4 ملکوں میں آئین نے حدود متعین کر دی ہیں ۔ 29 آئین ایسے ہیں جن میں معاملات لامحدود اختیارات دیئے گئے ہیں ۔جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک کی پارلیمنٹ جانتی ہے کہ آئینی ترامیم کرتے ہوئے ان کی کیا حدود و قیود ہیں جب کہ ہماری پارلیمنٹ نہیں جانتی کہ جو وہ ترمیم کر رہے ہیں اسے عدالت بنیادی آئینی ڈھانچے کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد بھی کر سکتی ہے ۔افتخار گیلانی نے کہا کہ اداروں میں اختیارات کی تقسیم کا طریقہ کار آئین نے دیا ہے ۔ بعض ممالک میں بنیادی ڈھانچے کو جزوی طورپر تسلیم کیا گیا ہے اور شرائط طے کی گئیں ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ کیا ولندہ بھارتی کیس میں بنیادی ڈھانچے کو تسلیم کیا گیا ۔ مختلف ممالک نے اپنے طریقے سے بنیادی ڈھانچے کو تسلیم کیا ہے پاکستان میں صورت حال مختلف ہے۔ 239(5) ، اور آرٹیکل 6 میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ درخواست کو سن ہی نہیں سکتی ۔ افتخارگیلانی نے کہاکہ آئین میں بنیادی حقوق مساوی ہیں جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ پوری دنیا میں بنیادی حقوق مساوی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ پارلیمنٹ بنیادی حقوق کو معطل کر سکتا ہے کیا بنیادی حقوق آئین کے ڈھانچے کا حصہ ہیں؟افتخارگیلانی نے کہاکہ اعلی عدلیہ کا ایک جج بھی کسی نقطے پرمتفق ہو جائے تو وہ اہمیت رکھتا ہے ۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں جو سیاسی جماعت اکثریت میں ہوتی ہے وہ حکومت قائم کرتی ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بنیادی حقوق کو معطل کر سکتی ہے ۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا یہ بات واضح ہے کہ ہمیں اٹھارہویں ترمیم سے متعلق پارلیمانی کمیٹی پر سنگین تحفظات نہیں ہیں ۔ افتخارگیلانی نے کہا کہ 33 ممالک کے آئین میں بنیادی ڈھانچے کو تسلیم کیا گیا ہے۔جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا کہ آپ نے 33 ممالک کا حوالہ دیا جنہوں نے بنیادی ڈھانچے کو تسلیم کیا لیکن کیا انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بنیادی ڈھانچے سے متصادم ترمیم نہیں ہو سکتی ۔ افتخار گیلانی نے کہاکہ جن ممالک کا حوالہ دیا ان میں بنیادی ڈھانچے سے متصادم ترمیم نہیں ہو سکتی ۔ جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ عدالتی نظیروں میں کہا گیا کہ بنیادی ڈھانچہ سیاسی سوال ہے ۔ افتخارگیلانی نے کہ اگرآرٹیکل 239 کو فالو نہ کیا جائے تو سپریم کورٹ ترمیم کو کالعدم قرار دے سکتی ہے ۔ جسٹس آصف سعید نے کھوسہ نے کہا کہ ابھی تک اس بات کا تعین نہیں ہو سکاکہ پارلیمنٹ کس حد تک ترمیم کر سکتی ہے اور عدالت کس حد تک اس کو کالعدم قرار دے سکتی ہے ۔ افتخار گیلانی نے کہاکہ جسٹس میاں اجمل نے بھی انفرادی رائے دی تھی ۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جب عوام کا اعتماد نہ لیا گیا ہو توکیا پھر بھی پارلیمنٹ کو ترمیم کا حق حاصل ہے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 2008ء کے انتخابات کے بعد منشور میں واضح کہا گیا تھا کہ ججز کے تقرر کا طریقہ کار تبدیل کریں گے اور پارلیمنٹ نے تمام ترامیم عوام کی اجازت سے کی ہے ۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ بنیادی آئینی حقوق ، عدلیہ کی آزادی ، عدلیہ رویو میں ختم کردیا جائے تو پھر آئین میں باقی کیا رہ جائے گا ۔افتخار گیلانی نے کہا کہ اس حوالے سے آئین نے تمام تر معاملات واضح کررکھے ہیں ،عدالت کو اس ترمیم کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں ،پارٹی ڈسپلن کی کہیں بھی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس پر عدالت کو مداخلت کا اختیار ہے ۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اگر اس پٹیشن میں مذکورہ آرٹیکلز کا جائزہ لیا جائے تو دیکھنا پڑے گا کہ اس میں آمروں نے بھی حصہ ڈالا تھا یہ صرف پارلیمنٹ کا ہی کام نہیں تھا ،اداروں نے بھی اس میں کسی نہ کسی طرح سے اپنا حصہ شامل کیا ۔ افتخارگیلانی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی رہنمائی کیلئے آئین کی دفعات موجود ہیں ،جو بھی کسی بھی قسم کی آئین کی خلاف ورزی کرے گا اس سے آئین خود ہٹ نمٹ لے گا ۔ عدالت کو اپنا دائرہ کار نہیں چھوڑنا چاہیے اور نہ ہی دوسروں کے اختیار کو چھیڑنا چاہیے ۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ کیا آئین پاکستان میں شروع دن سے ترمیم کی جاسکتی ہے اور اس حوالے سے کوئی حدود بھی نہیں رکھی گئیں۔ کچھ بنیادی آئینی خدوخال ہیں اور اسے کس طرح سے ہمیں استعمال کرنا ہے، آئین کی سکیم کے تحت ہم اپنی حدود کو متعین کرسکتے ہیں وجوہ دونوں اطراف موجود ہیں ۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کا معاملہ بھی ہے آرٹیکل 4 اور 5میںآج تک کوئی ترمیم نہیں کی گئی ۔ پابندی کے باوجود کیا ہم عدالتی رویو کے اختیار کے تحت ہم ترامیم کو کالعدم قرار دے سکتے ہیں یا نہیں؟ پاکستان میں دائرہ کار بنیادی آئینی ڈھانچے کو تسلیم نہیں کیا گیا،بھارتی آئین کے معاملات کو ہم نے اپنے آئین میں کوئی جگہ نہیں دی کیا ہمیں اس کو جگہ دینی ہے یا نہیں ؟افتخارگیلانی کہا کہ سرپیم کورٹ بہت سے فیصلے دے چکی ہے ،میں یہی کہوں گا کہ ہمیں دنیا کے گلوبل وزڈم کا احترام کرنا ہوگا اور آئین میں ترمیم کے اختیار کو تسلیم کرنا ہوگا ۔ جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا کہ ایک اور اینگل ہے ایک بل جو قانون بنتا ہے ،اگر وہ آئین کا حصہ بن جاتا ہے تو ہم آئین کا تحفظ کررہے ہیں کیا آئین کا حصہ بننے والے قانون کو ہم کالعدم قرار دے سکتے ہیں ،ہم بھی تو آئین کے تحت کام کررہے ہیں ۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جسٹس منیر اختر نے اس پہلو کو اجاگر کیا ہے۔افتخار گیلانی نے کہا کہ ولی خان فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ترامیم کو کالعدم قرار دینا عدالت کا کام نہیں ہے یہ ایک سیاسی سوال ہے ۔ چیف جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ بنگلہ دیش میں پندرہویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ آئین میں ترمیم کی جاسکتی ہے ۔افتخارگیلانی نے کہا کہ ان کے مطالعے میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ بارہ نکات ہیں جن کی وجہ سے آئین میں ترمیم نہیں کی جاسکتی ۔ پارلیمنٹ کو بھی اچھائی برائی کا خیال خود رکھنا چاہیے ،آخر کو انہوں نے لوگوں کے روبرو پیش ہونا ہوتا ہے،کیا وہ عوام کے حقوق سے متصادم کوئی ترمیم کرنے کی جرات کرسکتے ہیں، اگر وہ کر بھی لیتے ہیں تو کیا عوام اسے برداشت کریں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بنگلہ دیش میں بنیادی آئینی ڈھانچہ مقرر شدہ ہے ،کیا ہم کسی اور ملک کے بنیادی ڈھانچہ کے معاملے کو اپنے ملک میں نافذ کرسکتے ہیں ۔افتخار گیلانی نے کہا کہ ریونیو ریکارڈ میں قوم کے نام میں فرق نہیں رکھا جاتا ،پٹھان ہو یا افغان ان کی قوم کا نام محفوظ رکھا جاتا ہے،کے پی کے تاریخی نام ہیں جبکہ اس کا ایک نام سلیمان بھی تھا ۔ ہزارہ سے ڈی آئی خان تک ریونیو ریکارڈ میں قوم افغان لکھا ہے اور یہ نام چھٹی صدی سے چلا آرہا ہے ۔البیرونی نے بھی افغان قبائل کو اور نام نہیں دیا ہے 1980ء سے 1990ء تک پختونستان کا معاملہ پس پردہ چلا گیا تھا، باچا خان کی حکومت کے دوران میں افغانستان کا عمل دخل بڑھا ،سول وار کے بعد یہاں کوئی پختون رہنے کو تیار نہیں تھا۔ سیاسی جماعتوں نے 2008ء کے عام انتخابات کے دوران کے پی کے کا نام اپنے منشور میں دیا تھا اور اس حوالے سے قرارداد بھی منظور کی گئی ۔انہوں نے تقریروں کا ریکارڈ بھی پیش کیا ۔پیپلز پارٹی کے ایم پی اے نجم الدین خان نے قراردادپیش کی تھی آئینی ترمیم کرکے شمال مغربی سرحدی صوبہ کا نام خیبرپختونخوارکھا جائے ۔اے این پی نے بھی اپنے منشور میں کہا تھا کہ یہ نام رکھا جائے ۔یہ ترمیم ان انتخابات کے بعد کی گئی جمہوریت اور قانون کی بالادستی پاکستان کے چاروں صوبوں کے حقوق ، زبان و ثقافت کی ترویج نام لوگوں کی رائے کے مطابق رکھا جائے۔ اس قرارداد میں مسلم لیگ (ن) سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی اگر ہم یہ فرض بھی کرلیں کہ بنیادی آئینی ڈھانچہ موجود ہے یا نہیں بھی کوئی فرق نہیں پڑتا جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ اگر صوبے کی عوام کہتے ہیں کہ ہمارا یہ صوبہ ہو تو ایشو کیا ہے ؟ اس پر افتخارگیلانی نے کہا کہ ہمارا کوئی قصور نہیں ہے ،آپ کی درخواستوں کو دیکھیں وہ اصرار کررہے ہیں ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج منگل تک ملتوی کردی ۔

مزید :

صفحہ اول -