پاک بھارت تعلقات اور مودی سرکار کے بیانات

پاک بھارت تعلقات اور مودی سرکار کے بیانات
 پاک بھارت تعلقات اور مودی سرکار کے بیانات

  



گذشتہ دنوں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ باہمی تعلقات کی بہتری کے لئے پاکستان ریاستی و غیر ریاستی دہشت گردی روکنے کی حمایت کرے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اگر دہشت گردی کی خود ساختہ رکاوٹ دور کرے تو تعلقات بہت بلندیوں پر پہنچ سکتے ہیں ۔اب جس طرح وزیراعظم مودی پاکستان کو دہشت گردی روکنے کے بھاشن دے رہے ہیں اسے کہتے ہیں بغل میں چھری منہ میں رام رام۔ کون نہیں جانتا کہ اس وقت پاکستان میں دہشت گردی کی جو آگ لگی ہے اس کے سارے تانے بانے با لواسطہ یا بلا واسطہ ہمسایہ ملک سے جا کر ملتے ہیں ۔ مودی سرکار کے نزدیک اگر امن لانا واقعی دو طرفہ معاملہ ہے تو پھر نیک کام میں دیر کس بات کی یعنی نیکی کے کام اور پوچھ پوچھ کے۔لیکن یہ مودی سرکار کی پرانی عادت ہے کہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے وقتا فوقتا دو چار خوش نما بیانات داغ دیئے۔اس سے قبل بھی نریندر مودی خطے کی فلاح وبہبود،امن عامہ،افراد کی خوشحالی،اور تنازعات کے خاتمے کے لئے محاذ آرائی اور شر پسندی سے پاک ماحول میں مل جل کر کام کرنے کا یقین تو متعدد بار دلا چکے ہیں لیکن عملدرآمد کی نوبت آج تک نہیں آئی۔

اب ایک مرتبہ پھر ایک طرف تو مودی سرکار امن و امان اور عظیم تعلقات کا راگ الاپ رہی ہے لیکن دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ اپنے دور اقتدار سے لے کر تاحال موجودہ بھارتی حکومت نے نہ صرف پاکستان مخالف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ شاید ہی کوئی ایسا موقع گزرا ہو جس پر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کی گئی ہو ۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جب پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو مشرقی محاذ پر بھارت نے جان بوجھ کر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی شروع کردی تاکہ پاک فوج کی توجہ منقسم ہو سکے لیکن عزم صمیم کی پیکر دنیاکی اس بہترین فوج نے حالات پر قابو پالیا اور آج آپریشن ضرب عضب سو فیصد کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ اس وقت بھارت پاکستان کو خدا نخواستہ عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے تمام تر حربے استعمال کر رہا ہے۔بلوچستان اور پورے پاکستان میں ’’ را‘‘ کی کارروائیوں سے کون واقف نہیں ۔ گزشتہ دنوں بھارتی نیوی کا ایک حاضر سروس آفیسر کلبھوشن یادیو جو پاکستان میں ،را، کا ایجنٹ تھا بلوچستان کے علاقے سے پکڑا گیا جس نے برملا اعتراف کیا کہ اقتصادی راہداری منصوبے کو سبوتاژ کرنے ،بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کو ہوا دینے ، دہشت گردی اور متعدد وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا جس کا معاملہ پاکستان نے انڈیا کے سامنے رکھا لیکن بجائے تسلی بخش جواب دینے کے اانڈیا پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگا رہا ہے یعنی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔اس کے علاوہ بھی را کے ایجنٹوں کی گرفتاری آئے روز کا معمول بن چکی ہے ۔

پاکستان میں جاری دہشت گردی کے حالیہ کئی واقعات میں را کے ملوث ہونے کے ثبوت پاکستان اقوام عالم اور بھارت کو فراہم کرچکا ہے لیکن سردست تمام اطراف سے خاموشی چھائی ہوئی ہے۔صرف یہی نہیں پاک چین اقتصادی راہداری پر انڈیا نے جو واویلا مچایا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی بھی سرحد پار کے لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔ ایک طرف انڈیا تمام تر اخلاقی حدوں کو پار کرنے کی کوشش میں مصروف ہے تو دوسری جانب پاکستان اپنے پرامن نقطہ نظر پر قائم ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ یہ تو مسائل کو جنم دیتی ہیں۔ ہاں البتہ اگر مودی سرکار کو جنگ کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے یا وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو کسی بھی قسم کے دباؤ میں لا سکیں گے تو یہ محض ان کی خام خیالی ہے، پاکستان نہ صرف ایٹمی قوت ہے بلکہ عالم اسلام کا مضبوط ترین قلعہ بھی ۔ اس لیے پڑوسی ملک انڈیا کے لیے واحد راستہ یہی ہے کہ مذاکرات کی میز پر آئے ۔ المختصر تمام اختلافات کو اگر پس پردہ ڈال دیا جائے تو جناب مودی سرکار کیا دہشت گردی ، بم دھماکے ، قتل و غارت ، مہنگائی اور بیروزگاری پاکستان اور انڈیا کے مشترکہ مسائل نہیں ہیں؟ کیا جنگی جنون اور دفاعی بجٹ میں بے ہنگم اضافے قوموں کی ترقی کا باعث بنتے ہیں؟ آپ انڈیا میں رونما ہونے والے کسی بھی واقعہ کا الزام بغیر تصدیق کے پاکستان کے سر تھوپ دیتے ہیں حالانکہ پاکستان میں اس وقت جاری دہشت گردی میں انڈیا کتنا ملوث ہے؟ کیا آپ کو سب معلوم نہیں؟ہم صرف اتنا عرض کرینگے کہ خطے میں چودھراہٹ جمانے کے خواب دیکھنے اور نام نہاد طاقتوں کے اشاروں پر ناچنے کی بجائے کشمیر ، پانی،سر کریک او ر سیا چن کے معاملات پر ٹھوس حکمت عملی اپنائی جائے کیو نکہ ان معاملات کو حل کئے بغیر دونوں ممالک کے تعلقات کبھی بحال نہیں ہو سکتے۔ ترقی کی راہوں پر گامزن ہونے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات نہایت ضروری ہیں۔تو اس ضمن میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اور مخالفت برائے مخالفت کی پالیسی کو چھوڑ کر مفاہمت کی راہ نکالی جائے تب جا کر کہیں تناؤ کی فضا ختم ہو گی باقی اگر آپ یہ سمجھیں کہ چند بیانات کے سہارے سب اچھا ہو جائے گا تو اب ان بھولی بسری باتوں پر کون یقین کرے گا ۔ کیونکہ معاملات کے حل کے لئے پاکستان نے ہر بار پہل کی ہے لیکن بھارت نے ہمیشہ پہلو تہی کی ہے، اب آپ کو خلوص نیت کے ساتھ عملی قدم اٹھانا ہو گا۔ورنہ حالات کی کشیدگی اسی طرح برقرار رہے گی۔

مزید : کالم