موسم گرما، صحت کے ساتھ

موسم گرما، صحت کے ساتھ
موسم گرما، صحت کے ساتھ

  



موسم گرما کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس ماہ دن راتوں سے کسی قدر بڑے ہو جاتے ہیں۔ موسم کے مزاج میں حرارت بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے انسانی اجسام میں قوت زیادہ ہو جاتی ہے۔ خون کی حدت میں اضافہ اور تیزی ہو جاتی ہے۔ موسمی تبدیلی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے اس لئے بلغمی امراض مثلاً کھانسی، وجع المفاصل، ذات الجنب وغیرہ میں کمی آجاتی ہے لیکن موسم گرما کے اوائلی امراض مثلاً وبائی نزلہ، زکام اور خسرہ وغیرہ کی شکایات اکثر دیکھنے میں آتی ہیں۔ یہ موسم تیز دھوپ اور تپتی ہواؤں کاموسم ہوتا ہے۔ زندگی گھر کے اندر اور سائے والی جگہ پر تو اچھی لگتی ہے لیکن باہر منہ نکالیں تو ’’قیامت کی گرمی‘‘ اور ’’دوزخ کے حالات‘‘ جیسے الفاظ منہ سے نکلتے ہیں۔ اس کے باوجود گھر سے باہر نکلنا اور کام کاج پر جانا یا ضروری کام کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس لئے اس شدید موسم میں رہن سہن کے بنیادی اصول ہر ایک کو معلوم ہونے چاہئیں۔ ہمارے جسم کا اندرونی نظام قدرت نے ایسا بنایا ہے کہ یہ ایک مخصوص درجہ حرارت پر کام کرتا ہے۔یہ مستقل درجہ حرارت ابتدائے حیات کی نمائندگی کرنے والے پودوں اور جانوروں میں اس اعلیٰ درجے کا نہیں پایا جاتا جس قدر یہ ارتقاء یافتہ جانداروں میں ملتا ہے۔

جسم انسانی کا اندرونی درجہ حرارت ایک مستقل درجہ پر ہونے کے متعلق سب سے پہلے ایک فرانسیسی فزیالوجسٹ کلاڈ برنارڈ نے اشارہ کیا تھا اور یہ انیسویں صدی کے تقریباً وسط کی بات ہے۔ جسم کے اندرونی درجہ حرارت کے ایک ہی درجہ پر رہنے کی ضرورت سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہمیں جسم کی ساخت اور اس کے افعال کی بنیادی باتوں سے آگاہی ہو۔

اس موسم میں اچھی اور خوبصورت نظاروں کی حامل جگہوں کی سیر کرنی چاہئے۔ سال بھر کی محنت ومشقت کے بعد چند دن جسم اور روح کو آرام دیا جائے تو تھکاوٹ اور بے دلی کم ہو کر انسان تازہ دم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام کے افراد ان دنوں مختلف جھیلوں، پہاڑوں اور جنگلوں کے پرفضا مقامات پر چند یوم ضرور بسر کرتے ہیں اور یہی چیز ان کی تندرستی میں مددگار ومعاون ثابت ہوتی ہے۔ ویسے تو رہائشی جگہوں کو صاف ستھرا رکھنا انسان کا لازمی فرض ہے مگر خاص طور پر ان ایام میں ذرا زیادہ ہی توجہ دی جائے تو اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو ملیریا اور ڈینگی جیسے موذی مرض سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے کیونکہ گندی جگہوں پر مچھر کی افرائش ہوتی ہے۔

اسی طرح مکھیاں بھی جو کہ ہیضے جیسی مہلک وبا کا باعث ہوتی ہیں گندی جگہوں پر پرورش پاتی ہیں۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ اپنے گھر میں سفیدی کرائیں‘ نالیوں میں صفائی کے بعد فینائل چھڑکیں‘ صحن اور کمروں کے فرش کو دھوئیں اور ہمیشہ صاف ستھرا رکھیں۔ کوڑے کرکٹ کو ڈھکنے والے ٹین میں جمع کریں۔ وقتاً فوقتاً اگربتی یا دھونی جلائیں تاکہ کمروں کی گندی ہوا صاف رہ سکے۔ سوتے وقت مچھر دانی کا استعمال نہایت مفید ہے۔ اس موسم میں بھنی ہوئی چیزیں، شکار کے گوشت اور سرکے میں تیار کی گئی چیزیں جیسے پیاز یا سکنجبین وغیرہ استعمال کرنی چاہئیں۔ روزانہ غسل کریں اور بدن پر روغن سرسوں کی مالش کریں۔ لباس میں خوشبو لگانا اور خوشبو دار پھولوں کا سونگھنا مفید ہے۔ اگرچہ اس موسم میں تیز مصالحہ والی بھنی ہوئی غذاؤں کو طبیعت چاہتی ہے مگر زیادہ تیز مصالحہ اچھی چیز نہیں ہے کیوں کہ یہ معدے کے فعل کو باطل کرتا ہے اور نہ ہی حد سے زیادہ بھنا ہوا گوشت مفید ہے کیونکہ اس کے تمام حیاتین جل کر تباہ ہو جاتے ہیں۔ اس لئے بھنے ہوئے سے مراد معتدل (درمیانہ درجہ) بھوننا ہے۔ اس کے علاوہ جو لوگ کڑاہی تکے کے گوشت کے بے حد شوقین ہوتے ہیں اور روزانہ استعمال کرتے ہیں،ان کی بھوک مر جاتی ہے۔ سوء ہضم کی شکایت ہو جاتی ہے۔ جگر صالح خون پیدا نہیں کر تا۔ آنتوں کا فعل خراب ہو جاتا ہے اور پھر پیچش، دست اور آخر میں سنگرہنی جیسی موذی اور جان لیوا بیماری کے شکار ہوتے ہیں۔ لہٰذا تھوڑی دیر کے مزہ کیلئے اپنی جان کو داؤ پر مت لگایئے۔ ہاں کبھی کبھار اور بالکل کم مقدار میں کھانے سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ پودینہ اور پیاز کی چٹنی نہ صرف کھانے ہی کو لذیذ بناتی ہے بلکہ ہضم کرنے میں بھی ممد ومعاون ثابت ہوتی ہے۔ رات کو کھانا کم کھائیں اور اس کے بعد کچھ دیر چہل قدمی کریں۔ کھانے کے فوری بعد سونے کے لئے نہ جائیں۔ موسم گرما کے آغاز میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی انسانی جسم میں بھی تبدیلی رونما ہونا شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

موسم گرما میں غذا ہلکی اور کم کھانا چاہیے۔ سبزیاں‘ ترکاریاں‘ دالیں اور پھل کثرت سے کھائے جائیں۔ ثقیل‘ بھاری‘ میٹھی‘ چکنائی والی غذائیں یا زیادہ لحمیات والی غذاؤں میں کمی کی جائے کہ ان سے گرمی اور حدت پیدا ہوتی ہے ( اسی لیے قدیم حکما اس قسم کی غذاؤں کو گرم کہتے ہیں) بالخصوص دوپہر کے کھانے میں ایسی ’’گرم‘‘ غذائیں نہیں ہونا چاہئیں۔ ان کو شام کو کھا سکتے ہیں جب کہ نسبتاً ٹھنڈ ہوتی ہے۔ یہ بات یاد رکھیں جس قدر کھانا بھاری ہو گا‘ آپ کے جسم کو اسی قدر زیادہ کام کرنا پڑے گا اور اسی قدر زیادہ گرمی جسم میں پیدا ہو گی۔ پانی بکثرت اور بغیر پیاس کے پیا جائے۔ پسینہ آنے سے جسم ٹھنڈا ہوتا ہے اور پسینہ لانے کا طریقہ یہ ہے کہ بے حساب رقیق اور سیال اشیا لی جائیں۔

الرجک دمہ

الرجک دمہ ہر عمرکے فرد کو ہو سکتا ہے۔ الرجک دمہ کسی خاص چیز کی الرجی سے ہوتا ہے جس چیز سے الرجی ہو کر دمہ ہوتا ہے اسے حساسیہ یا الرجن (Allergen) کہتے ہیں مثلاً گائے کا گوشت‘ دودھ‘ چاول وغیرہ، کیونکہ بعض افراد کو ان کے باعث الرجک دمہ ہو جاتا ہے۔ دودھ پیتے بچے کو گھر کے اندر کی اشیاء سے الرجی ہو جاتی ہے مثلاً بستر، دریوں، قالین، صوفوں کے گرد وغبار، پرندوں کے پر وغیرہ۔ اسی طرح سرد ہوا، خشک موسم، ماحولیاتی اور فضائی آلودگی ، فضا میں دھوئیں اور گیسوں اور مرطوب آب وہوا سے بھی حساس افراد کو الرجک دمہ ہو جاتا ہے۔دنیا میں اس وقت ایک سے ڈیڑھ کروڑ افراد دمے جیسے موذی مرض کا شکار ہیں اور ان کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے، مگر جن لوگوں کو الرجک دمہ (Allergic Asthma) ہے ان کے لئے یہ خوشگوار موسم ناخوشگواری کا پیغام لاتا ہے، کیونکہ موسم گرما کے شروع کے ایام ان کے لئے وبال جان بن جاتے ہیں۔ سانس لیتے وقت شدید مشکل پیش آتی ہے، دم گھٹتا ہے اور سینے میں جکڑن محسوس ہوتی ہے۔ کبھی کھانسی ہوتی ہے اور زور لگا کر سانس خارج کرنا پڑتا ہے۔ جوں جوں گرمی اپنا اثر دکھانا شروع کرتی ہے ایسے لوگوں کی طبیعت بحال ہوتی جاتی ہے۔

لو یعنی سن سٹروک

عام طور سے موسم گرمامیں جب کہ تیز دھوپ میں انسان چلے پھرے یاکام کرے تو خون میں حدت بڑھنے سے یہ مرض ہو جاتا ہے۔ پیاس زیادہ لگتی ہے اور بار بار پیشاب آتاہے۔ گردن کے پٹھے اکٹر جاتے ہیں۔آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں اور حملہ شدید ہو تو سرسام یا دیوانگی اور بیہوشی طاری ہو جاتی ہے۔ اور بسا اوقات مریض اسی حالت میں مرجاتا ہے۔ چنانچہ موسم گرما میں آمدورفت کے وقت سرگردن اور ریڑھ کی ہڈی کو سورج کی تپش سے بچانا چاہیے۔ ماضی اور حال میں ہمارے بزرگ اور نوجوان کھیتوں کھلیانوں میں گھنٹوں تمازت آفتاب میں کام کرتے چلے آرہے ہیں اور چونکہ وہ پگڑی باندھتے ہیں جس کا ایک حصہ گردن ،حرام مغز، ریڑھ کی ہڈی کو بھی ڈھانپے رکھتا ہے۔ اس لئے شاذو نادر ہی کوئی لو کے لگنے سے بیمار ہوتا ہے۔ نیز نمک ملا پانی یا لسی کا استعمال گرمی کی شدت اور حدت سے انسان کے بچانے کے لیے اندرونی طور پر نظام جسم کو ٹھنڈا اور معتدل رکھنے کے لیے ایک مفید ذرائع ہے جو اعلیٰ سے اعلیٰ مشروبات کے مقابلے میں سستا اور کہیں مفید ہے۔ اور فرحت بخش بھی ہے۔ چنانچہ گرمی اورخاص طور سے لو کے دنوں میں باہر جانے سے قبل نمکین یا سادہ پانی زیادہ مقدار میں پی لینا چاہیے۔ لو کے مریض کو فوراً سایہ دار ٹھنڈی جگہ پر منتقل کریں۔ گلے کے بند کھول دیں اور کپڑے ڈھیلے کر دیں اور حسب حالت ذیل میں سے کوئی نسخہ دیں۔

۱ سر د تاثیر کشتہ فولاد ایک تولہ‘ سنگ جراح خالص بائیس تولے۔ دونوں کو خوب ر گڑ کے ملا لیں اور ایک تا دو ماشے دودھ کی لسی یا چھاچھ سے دیں۔ صبح وشام اسکی دو خوراکیں بھی دے سکتے ہیں۔ شدت گرمی کے امراض کے علاوہ یہ نسخہ دل کی دھڑکن ‘ کثرت حیض اور پیچش و اسہال میں بھی مفید ہے۔

۲ تخم بالنگو، گوند کتیرا پانی میں کچھ دیر بھگو کر کہ پھول جائے۔شربت صندل یا شربت بزوری یا پھر سادہ میٹھے پانی ایک گلاس میں ملا کر دیں۔

۳ املی چار تولے آلوبخارہ پانچ دانے ایک پاؤ پانی میں ہلکا سا جوش دے کر مل کر چھان کر ایک پاؤ پانی کا اضافہ کر کے ٹھنڈا کر لیں اور نمک یا چینی ملا کر پلائیں۔ قبض کی صورت میں د و چار تولے گلقند پہلے کھلا دیں۔

۴ چاروں مغز کا ہو خرفہ کا سنی ہر ایک ایک تولہ اور بادام شیریں مقشر گیارہ عدد باہم پیس کر سردائی بنا لیں اور پانی ملا کر ایک گلاس صبح و شام پلائیں۔

پیاس کی زیادتی

گرمی میں چلنے پھرنے کے علاوہ ہاضمہ کی خرابی، حرارت جگر، بخار کی شدت، سوزش معدہ، جلن بول نیز زیادہ پیاز لہسن کھانے سے بار بار پیاس لگتی ہے۔ اصل سبب معلوم کر کے اس کا علاج کریں مثلاً بخار کی حالت میں سکنجبین لیموں دو تولے، عرق گلاب خالص چار تولے اور عرق گاؤزبان آٹھ تولے کوملا کر اور ٹھنڈا کر کے تھوڑا تھوڑا پلائیں۔ ذیل کے شربتوں میں سے کوئی ایک دیں۔ شربت دینار‘ شربت فالسہ‘ شربت تمرہندی‘ شربت بزوری‘ شربت صندل ۔ ہاضمہ کی خرابی سبب ہو تو کشتہ خبث الحدید نصف رتی جوارش انارین ایک چھوٹی چمچی میں ملا کرصبح اور شام کو دیں۔ اور بعد از دوپہر اور رات کو حبِ پپیتہ دو عدد پانی سے دیں۔ لو لگنے اور شدت پیاس میں وہ خوراک اور مشروب بندکر دیں جن کی تاثیر گرم ہے۔ بچوں میں جب پیاس کی شدت بڑھنے لگے تو ہو سکتا ہے کہ مرض عطاش کا حملہ ہو۔ جس کی پہچان یہ ہے بے چینی‘ ہونٹوں کا خشک ہونا‘ پانی دیکھتے ہی بے حال ہو جانا‘ سرکا ادھراُدھر مارنا‘ قے اور دستوں کی زیادتی اور بسا اوقات تشخیصی کیفیات کا نمودار ہونا۔ موسم گرما کی دھوپ میں کام کرنے یا آگ کے پاس کام کرنے کے فوراً بعد جو عورتیں اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہیں وہ بچے بھی اکثر اس مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بچوں کے ان امراض کا واحد علاج یہ نسخہ بنا کر دیں۔ طباشیر خالص‘ انار دانہ‘ زہرمہرہ‘ نارجیل‘ سماق‘ الائچی خورد ہموزن لے کر الگ الگ پیس کر ملا لیں۔ مقدار خوراک دو تا تین رتی بلحاظ عمر پانی سے دیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ