ڈاکٹر مجید نظامی اور مولانا جعفر قاسمی

ڈاکٹر مجید نظامی اور مولانا جعفر قاسمی
ڈاکٹر مجید نظامی اور مولانا جعفر قاسمی

  



امام صحافت ڈاکٹر مجید نظامی اور معروف مذہبی سکالر مولانا جعفر قاسمی کا باہمی تعلق ان ایام میں شروع ہوا جب قیام پاکستان کے فوراً بعد دونوں شخصیات گورنمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھیں۔ انہی دِنوں میں پطرس بخاری کالج کے پرنسپل تھے، جبکہ معروف اور فعال راوینز میں جناب حنیف رامے، اشفاق احمد، مولانا جعفر قاسمی اور جناب مجید نظامی کا آپس میں کالج کی علمی، ادبی و غیر نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں کے سلسلے میں رابطہ رہتا تھا مولانا جعفر قاسمی مجلس اقبال کے اجلاس میں باقاعدہ شریک ہوتے تھے اور اپنی علمی قابلیت شگفتہ مزاجی اور ملن ساری کے باعث اپنے کلاس فیلوز میں بے حد ہر دلعزیز تھے۔ اس سے پہلے انہوں نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان گورنمنٹ کالج لائل پور(فیصل آباد) سے امتیازی حیثیت سے پاس کیا تھا اور پنجاب یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی اس وجہ سے بھی ان کا شمار گورنمنٹ کالج کے لائق ترین طلباء میں ہوتا تھا۔

گورنمنٹ کالج سے گریجوایشن کے بعد مولانا جعفر قاسمی قانون کی اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان روانہ ہوئے اور لنکن ان لندن میں داخلہ لیا انہی دِنوں مَیں جناب مجید نظامی بھی لنکن ان میں قانون کی تعلیم میں مصروف تھے دونوں شخصیات کا یہاں بھی باہم رابطہ رہا اور ان کے ایک تیسرے دوست جسٹس نذیر احمد غازی بتاتے ہیں کہ جناب مجید نظامی شام کے اوقات میں مولانا جعفر قاسمی کے ہاں تشریف لاتے تھے اور مولانا جعفر قاسمی انہیں اپنے ہاتھوں سے چائے بنا کر پیش کرتے تھے اور چائے کی میز پر دنیا جہان کی حالات و واقعات پر تبادلہ ئ خیال ہوتا تھا، چونکہ جناب مجید نظامی اس دور میں بھی نوائے وقت کے لئے ”مکتوب لندن“ لکھتے تھے اور مولانا جعفر قاسمی نے بھی اپنی تعلیمی اخراجات پورا کرنے کے لئے بی بی سی لندن کی اُردو سروس میں شمولیت اختیار کرلی تھی اس لئے دونوں کی دلچسپیاں مشترک تھیں۔ مولانا جعفر قاسمی نے بی بی سی کی اردو سروس سے ”صدائے عام“ اور ”سیربین“ کے علاوہ متعدد نئے پروگرام شروع کئے۔ بی بی سی کی اردو سروس میں بعض ایسے پاکستانی بھی تھے جو برطانوی مفادات کے لئے پاکستان کے مفاد کو نظر انداز کر دیتے تھے، لیکن مولانا جعفر قاسمی نے ہمیشہ اپنے پروگراموں اور نشریات میں پاکستان کے مفاد کو مدنظر رکھا۔

مولانا جعفر قاسمی کو برطانیہ میں مقیم اہم شخصیات سے ملاقاتوں اور رابطے کا بہت شوق اور دلچسپی تھی اور وہ ان شخصیات سے دُنیا بھر کے مسائل و معاملات پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔ ان شخصیات میں راجہ صاحب محمود آباد، ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی اور دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔ اکثر و بیشتر ان ملاقاتوں میں جناب مجید نظامی اور ڈاکٹر رشید احمد جالندھری بھی شامل ہوتے تھے۔ مولانا جعفر قاسمی 1948ء سے 1965ء تک انگلستان میں قیام پذیر رہے، لیکن اس دوران بانی نوائے وقت جناب حمید نظامی کے اچانک انتقال کے باعث جناب مجید نظامی کو واپس پاکستان آنا پڑا البتہ مولانا جعفر قاسمی، جسٹس نذیر احمد غازی اور دیگر دوستوں سے جناب مجید نظامی کا ہمیشہ رابطہ رہا۔

مولانا جعفر قاسمی 1965ء میں کچھ عرصے کے لئے پاکستان واپس آئے تو اس دوران بھی ان کی ملاقاتیں جناب مجید نظامی اور دیگر ہم عصر دوستوں سے رہیں۔ازاں بعد مولانا جعفر قاسمی دوبارہ انگلستان چلے گئے جہاں وہ 1968ء تک قیام پذیر رہے۔پاکستان واپسی پر مولانا جعفر قاسمی نے یہاں کی سماجی زندگی میں ایک متحرک اور فعال کردار ادا کیا وہ روم کے سلسلہ ء تصوف الشازلیہ سے وابستہ تھے اور پاکستان میں سلسلہ الشازلیہ کے مقدم تھے۔ تصوف کے اس سلسلے میں ڈاکٹر حسین نصر، اے کے بروہی، سراج منیر، سہیل عمر اور دیگر شخصیات بھی وابستہ تھیں اور مولانا جعفر قاسمی جناب مجید نظامی کو بھی اس سلسلے کی اہم تعلیمات سے آگاہ کرتے رہتے تھے۔راقم الحروف گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایشن کے بعد ایرانی ثقافتی مرکز لاہور سے وابستہ ہوا۔ اس دوران جناب مجید نظامی شاہراہ قائداعظم سے گزرتے ہوئے کبھی کبھار ایرانی ثقافتی مرکز (خانہ ئ فرہنگ ایران) میں تشریف لاتے تھے اور خانہ ء فرہنگ ایران کی تقریبات میں بھی شرکت کرتے تھے۔

جناب مجید نظامی پہلی بار اپنے دوست موج الدین خان ریٹائرڈ ممبر بورڈ آف ریونیو کے ہمراہ ایرانی ثقافتی مرکز شاہراہ قائداعظم تشریف لائے تو ان کی ملاقات بہاؤ الدین اورنگ ڈائریکٹرخانہ فرہنگ ایران سے ہوئی۔راقم الحروف نے ان سے مولانا جعفر قاسمی سے اپنے تعلق کا تذکرہ کیا تو انہوں نے مجھے دفتر نوائے وقت آنے کی دعوت دی اور ازاں بعد ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ ہمیشہ برقرار رہا۔1991ء میں مولانا جعفر قاسمی کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادوں مدثر حسن قاسمی اور مزمل حسن قاسمی نے ایک میموریل سوسائٹی تشکیل دی جس کی پہلی تقریب کے مہمان خصوصی جناب مجید نظامی تھے۔ ازاں بعد ان تقریبات میں جناب اشفاق احمد، جاوید قریشی، مجیب الرحمن شامی، ڈاکٹر امجد ثاقب اور دیگر شخصیات کی شرکت بھی ہوتی رہی۔

جناب ڈاکٹر مجید نظامی نے بطور چیف ایڈیٹر نوائے وقت طویل صحافتی خدمات سرانجام دیں اور ان کے روابط ہر دور کے اہل سیاست کے علاوہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج صاحبان، ماہرین قانون، دانشوروں، ادیبوں، شاعروں اور ہر مکتبہ ئ فکر کی شخصیات سے رہے تاہم وہ اپنے کلاس فیلوز قدیم دوستوں اور باصلاحیت افراد سے بطور خاص اپنے روابط کو برقرار رکھتے تھے۔ اب اس جہانِ فانی میں نہ تو مولانا جعفر قاسمی رہے ہیں اور نہ ہی جناب مجید نظامی۔ لیکن دونوں شخصیات کی گرانقدر خدمات اور اعلیٰ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مزید : رائے /کالم