بے سہاروں کا سہارا بنیں

بے سہاروں کا سہارا بنیں
بے سہاروں کا سہارا بنیں

  



ماہ مقدس رمضان المبارک تیزی سے اختتام کی جانب گامزن ہے اور عیدالفطر کی آمد آمد ہے۔لوگ دھڑا دھڑ عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں ایک دوسرے سے عید کی شاپنگ میں سبقت لے جانے کے لیے ایک دوڑ لگی ہے ہر کسی کی خواہش ہے کہ وہ عید پر دوسرے سے زیادہ منفرد اور اچھا دکھائی دے۔عید کا تہوار نہیں ”سٹیٹس سمبل“بن گیا ہے ہم نجانے کس طرف جا رہے ہیں۔فضول خرچیوں میں سبقت لے جانے کے اس موقع کو پوری طرح اپنے حق میں کرنے کے چکر میں عید کے تہوار کے اصل مقصد کو ہی بھول چکے ہیں۔حالانکہ یہ ایسا اسلامی تہوار ہے جو ایثار اور قربانی کا درس دیتا ہے،ایک دوسرے کے درد بانٹنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔غریب اور مستحقین کا احساس کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ہمارا پیارا دین اسلام تو ہے ہی سلامتی ہی سلامتی اور ایک دوسرے کی خیر خواہی پھر کیوں؟ہم دکھاوے اور ریا کاری کی دوڑ میں اندھوں کی طرح بنا سوچے سمجھے بھاگے جا رہے ہیں۔

انسان اور حیوان میں فرق ہی یہ ہے کہ حیوان یا جانور کی زندگی کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ کھایا،پیا اور سو گئے یا زیادہ سے زیادہ بچے پال لیئے۔

جبکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے،اپنا نائب بنایا ہے تاکہ وہ انسانیت کے کام آئے۔ایک دوسرے کا درد محسوس کرے،اپنے دوسرے بھائی کی خیر خواہی کرے،اس کا احساس کرے۔عید پر بے پناہ فضول خرچی کے بغیر بھی انسان ایک معقول مناسب خرچہ کر سکتا ہے اور اپنے خرچے میں سے کچھ بچت کر کے کسی مستحق اور ضرورت مند کے لیے اس کی عید کے لیئے اس کی مدد کر سکتا ہے۔ایک سچے مسلمان کا خاصہ ہے کہ وہ عید ہو یا کوئی اور موقع ہمیشہ مستحقین کی داد رسی کرتا ہے۔ایسا کرنے سے جو دلی خوشی اور سکون ملتا ہے وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا۔اس لیئے اے بندہ مسلم تو ایسا کر کے تو دیکھ،کسی کے کام آکر تو دیکھ کہ کیسے کسی کو اپنی خوشی میں شامل کر کے یا خوشی کے موقع کو انجوائے کرنے کا موقع فراہم کر کے تجھے کیسے اپنے تمام دکھ درد دور ہوتے محسوس نہ ہوں تو کہنا۔

جب انسان دوسروں کی مدد کر کے ان کے کام آکر مناسب طریقے سے عید کا تہوار بھی منا سکتا ہے۔تو پھر اس بار ہمیں کوشش کرنا چاہیے کہ عید کے پر مسرت موقع پر اپنے بجٹ میں سے کسی ایک یا دو بندوں کے کپڑے اور دیگر ضروریات زندگی کا بندوبست کر دیں تو وہ بندہ تو خوش ہو گا ہی آسمان پر بیٹھا ہمارا مالک،رازق،خالق ہمارے اس عمل سے ہمیں نجانے دنیا اور آخرت میں کتنا نصیب کرے گا۔ہمارے عمل میں صرف اور صرف خوشنودی خدا ہی ہونا چاہیے۔دکھاوے یا ریاکاری کے عمل سے اجتناب ہی بہتر ہے کیونکہ اس طرح دوسرے انسان کی عزت ِنفس مجروح ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔خاموشی سے کسی کی مدد کرنا مستحسن عمل ہے۔آیئے خوشی کے اس موقع پر بے سہاروں کا سہارا بنیں انہیں بھی خوشیوں میں شامل کریں تا کہ ہماری خوشیاں دوبالا ہو سکیں۔

مزید : رائے /کالم