جناب جاوید جبار کا استعفیٰ

جناب جاوید جبار کا استعفیٰ

  

سابق سینیٹر اور سابق وزیر اطلاعات جاوید جبار نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کی رکنیت سے استعفا دے دیا ہے انہیں صدر مملکت نے بلوچستان سے کمیشن کا رکن نامزد کیا تھا، ان کی نامزدگی پر صوبے سے جہاں ان کی حمایت میں آوازیں آئیں وہیں ان کی مخالفت بھی ہوئی، قومی اسمبلی کے ایک رکن اسلم بھوتانی نے نامزدگی کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، جس پر جاوید جبار نے رضا کارانہ طور پر مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنے استعفے کا تفصیلی خط براہِ راست صدر کو ارسال کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میری نامزدگی کی سیاسی مخالفت کی گئی اور تحفظات کا اظہار کیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مثبت کاموں کی بھی مخالفت کی گئی خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ بلوچستان کے لئے چاہے جتنی بھی کوشش کر لیتے مخالفین نے مطمئن نہیں ہونا تھا اس لئے انہیں یہ فیصلہ کرنا پڑا، ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کے تمام فیصلے متعلقین کی مشاورت سے ہونے چاہئیں۔

صدر نے جب سے این ایف سی تشکیل کیا ہے اس کی ہیت ترکیبی پر مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات ہو رہے تھے۔ جاوید جبار کے علاوہ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ پر بھی اعتراضات کئے گئے اور کہا گیا کہ ان کی نامزدگی آئین کے خلاف ہے کہ وہ وزیر خزانہ نہیں مشیر ہیں، لیکن اس اعتراض کا وزن ابھی تک محسوس نہیں کیا گیا۔جاوید جبار نے مستعفی ہو کر اپنے مخالفین کے ہاتھ سے ایک ہتھیار چھین لیا ہے ان کی اس بات میں وزن ہے کہ جو حلقے ان کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے تھے انہوں نے ہر حال میں مخالفانہ طرزِ عمل ہی اپنانا تھا اس لئے وہ بلوچستان کی جتنی بھی خدمت کر لیتے اس کا اعتراف نہ ہو پاتا اس لئے انہیں استعفا دینا پڑا جاوید جبار اگرچہ وفاقی وزیر اور سینیٹر بھی رہ چکے ہیں ٹیکنو کریٹ بھی ہیں اور دانشور بھی۔ان کا فیصلہ اس لحاظ سے مثبت ہے کہ جب انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی مخالفت ہو رہی ہے تو علیحدگی اختیار کر لی۔ بدستور رکن رہنے پر اصرار نہیں کیا اس کے برعکس ایک رویہ اس وقت سامنے آیا تھا جب صدر نے بلوچستان اور سندھ سے الیکشن کمیشن کے دو ارکان نامزد کئے تھے جس پر اپوزیشن کو اعتراض تھا کیونکہ اس کے لئے آئین میں درج طریق کار اختیار نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی ایسی با معنی مشاورت کی گئی تھی جو آئین کا منشا ہے بس یک طرفہ طور پر نوٹی فیکشن جاری کر دیا گیاتھا۔یہ نامزد حضرات جب الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچے تو چیف الیکشن کمشنر نے اعتراض کیا چونکہ دونوں حضرات کی نامزدگی کے لئے آئین میں مندرج ہدایات کی پابندی نہیں کی گئی اس لئے ان کا تقرر غیر آئینی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے انہیں ذے داریاں سنبھالنے سے روک دیا لیکن اس پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا، حکومت اپنے فیصلے پر ڈٹ گئی اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا اعلان تک کر دیا، اپوزیشن جماعتیں تو پہلے ہی دونوں ارکان کی نامزدگی کی مخالفت کر رہی تھیں کہ ان سے مشاورت نہیں کی گئی تھی جس کے نتیجے میں ایسا ڈیڈ لاک پیدا ہوا کہ کئی ماہ تک معاملات ٹھہر کر رہ گئے، الیکشن کمیشن میں دو صوبوں کی نمائندگی ختم ہو گئی لیکن نامزد ارکان نے اپنے طور پر کوئی پیش رفت نہ کی وہ اگر یہ موقف اختیار کرتے کہ ان کی نامزدگی کو چونکہ الیکشن کمیشن کا سربراہ غیر آئینی قرار دے رہا ہے۔ اس لئے وہ رضا کارانہ طور پر دستبردار ہوتے ہیں تو ان کی عزت میں اضافہ ہوتا لیکن انہوں نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

اٹھارہویں ترمیم میں قائدِ حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت کے عمل کو بہت سے امور میں لازمی قرار دے دیا گیا ہے لیکن اپوزیشن لیڈر کی شخصیت چونکہ حکومت کے لئے پسندیدہ نہیں ہے اس لئے وہ ان سے مشاورت کا اہتمام نہیں کرتی اور اگر با امر مجبوری کوئی خط وغیرہ لکھ کر مشورہ کیا جاتا ہے تو اس کے پس منظر میں بھی یہی جذبہ کار فرما ہوتا ہے کہ آئین کا لفظی تقاضا پورا کر دیا گیا حالانکہ آئین جس ”با معنی مشاورت“ پر زور دیتا ہے اگر وہ کہیں نظر نہ آئے تو یہ آئین سے انحراف ہوگا، شاید یہی وجہ ہے کہ جو حلقے اٹھارہویں ترمیم کی ”ناپسندیدہ شقوں“ کے خاتمے کی بات کرتے ہیں ان کی سوچ یہ ہے کہ گر کبھی ایسا کرنا ممکن ہو تو قائد حزبِ اختلاف کے ساتھ مشاورت کا کانٹا بھی نکال دیا جائے جس کی چبھن وقتاً فوقتاً محسوس ہوتی رہتی ہے۔جناب جاوید جبار پر اگرچہ کہ اس معاملے کا اطلاق نہیں ہوتا۔انہیں وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے صوبے کی نمائندگی کے لئے نامزد کیا تھا اور اس سے پہلے بھی سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک ممتاز ماہر معیشت کو قومی مالیاتی کمیشن میں بلوچستان حکومت نے اپنی نمائندگی کا حق دیا تھا۔ جاوید جبار کی دستبرداری پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ان کاصوبہ ایک انتہائی ممتاز شخصیت کی خدمات سے استفادہ نہ کر سکا۔جناب جاوید جبار کی نمائندگی کی مثال یوں تھی کہ جیسے کوئی صوبائی حکومت کسی مقدمے میں اپنی وکالت کے لئے کسی دوسرے صوبے میں رہائش رکھنے والے کسی قانون دان کی خدمات حاصل کرلے۔ جاوید جبار بلوچستان میں ایک عرصہ سے سماجی خدمات انجام دے رہے ہیں، اس صوبے کے مسائل کو اجاگر کرنے میں انہوں نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ وہ قومی مالیاتی کمیشن میں بلوچستان کا مقدمہ خوش اسلوبی سے لڑنے کی صلاحیت رکھتے تھے لیکن گروہی سیاست نے ان کو نشانے پر رکھ لیا۔ انہوں نے بہرحال بڑے وقار کے ساتھ اپنے آپ کو کمیشن سے الگ کر لیا۔ یہ ان سب لوگوں کے لئے ایک مثال ہے جو مناصب اور عہدوں کے پیچھے بھاگنے کو حاصل زندگی سمجھتے ہیں۔اگر اہل دانش اور اہل سیاست اس طرح استعفا کا مظاہرہ کر سکیں تو کہا جا سکتا ہے کہ ہماری قومی زندگی میں اس کے یقینا خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ جاوید جبار کے استعفے میں بہت سی نشانیاں ہیں انہیں دیکھنے کے لئے چشمِ بصیرت کی آزمائش شرط ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -