مہنگائی کو روکیں!

مہنگائی کو روکیں!

  

ہماری معاشرتی اور منافع خوری کی یہ روایت رہی ہے کہ تہواروں خصوصاً رمضان المبارک کی آمد سے پہلے اور دوران اشیاء ضرورت اور خورو نوش کے نرخ بڑھا دیئے جاتے ہیں، تاہم عید الفطر تک کمائی ہو جاتی اور بعد ازاں بتدریج قیمتیں معمول پر آ جاتی ہیں۔ اس مرتبہ ایسا بھی نہیں ہو رہا اور ہمارے تاجر بھائی کورونا کے باعث کاروبار کی بندش کی کسر نکالنے پر تلے ہوئے ہیں چنانچہ اشیاء خوردنی و ضرورت کے نرخ نیچے نہیں آ رہے بلکہ آٹے کی قیمت میں بلا جواز اضافہ ہو گیا ہے، برائلر مرغی کے نرغ بھی بڑھ گئے، آٹے کی قیمت بڑھے تو اس کی وجہ سے بھی دوسری اشیاء کے نرخ متاثر ہوتے ہیں۔ گندم کی نئی فصل سے پہلے فلور ملز مالکان نے تعاون کیا اور 20 کلو کا آٹے کا تھیلا 805 روپے میں بک رہا تھا۔ اس کی قیمت بڑھا کر 840 روپے کی گئی اور اب ہول سیل (ایکس ملز) 900 کر دی گئی اور بازار میں یہ 925 (پرچون) قرار دیا گیا۔ لیکن صورت حال اس سے زیادہ پریشان کن ہے کہ نرخ ایک ہزار تک پہنچ گئے اس سے دوسری اشیائے ضرورت بھی بدستور مہنگی ہوں گی اور اب نان بائیوں نے روٹی کی قیمت دس روپے اور نان کی پندرہ روپے کر دی ہے اگرچہ یہ نرخ عام نہیں ہوئے۔ لیکن ایسوسی ایشن والے اجتماعی طور پر کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف حکومت نے پہلے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی کی اور اب پھر مجموعی طور پر گیارہ روپے فی لیٹر تک ریلیف دیا ہے پریشان کن صورت حال یہ ہے کہ اس کمی کا بھی عوامی سطح پر کوئی فائدہ نہیں ہوا حتیٰ کہ ٹرانسپورٹ (معہ رکشا وغیرہ) کے کرائے بھی کم نہیں ہوئے۔ عوام بے روزگاری اور بیماری کے بعد مہنگائی کی اس چکی میں پس رہے ہیں، وزرا کے دعوؤں اور انتظامیہ کے چھاپوں کے باوجود کچھ فرق نہیں پڑا، بہت سے لوگ تو یہ تک کہہ رہے ہیں کہ مارکیٹوں، منافع خوروں، تاجروں کو کھلی چھٹی دے دی جائے اور بازار پر کنٹرول بالکل ختم کر دیا جائے پھر عوام پر جو بیتے گی وہ بھگت لیں گے ان کو آس اور امید تو نہیں ہو گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -