ٹیم ورک کی ضرورت اور عمران خان کا امیج

ٹیم ورک کی ضرورت اور عمران خان کا امیج
ٹیم ورک کی ضرورت اور عمران خان کا امیج

  

حکومت کو Multiple چیلنجز کا سامنا ہے اور یہ کوئی عجیب بات نہیں، ہر حکومت کو کچھ چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے اور ان پر قابو پانا ہی اُس حکومت کی اہلیت کا ٹیسٹ ہوتا ہے۔ پچھلے دور میں مسلم لیگ کو خالی خزانے کے روایتی مسئلے کے علاوہ دو بڑے گھمبیر مسئلے درپیش تھے۔ وہ تھے دہشت گردی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ۔ ان میں کوئی مسئلہ ایسا نہیں تھا جس پر دنوں یا مہینوں میں قابو پایا جا سکتا۔بہرحال چند سالوں میں بڑی حد تک ان مسائل پر قابو پا لیا گیا۔ عمران خان کی حکومت آئی تو انہوں نے کہا کہ انہیں تین ماہ درکار ہیں جس میں وہ معاملات کو سنبھال لیں گے، لیکن اب دو سال ہونے کو آئے ہیں لیکن معاملات سنبھل نہیں سکے، بلکہ نئے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ میں نے اِن دنوں ایک کالم میں تجویز کیا تھا کہ ہمارے ملک میں تین ماہ بہت کم ہیں کم از کم حکومت کو ایک سال دیا جانا چاہئے۔

جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہے تو مسائل کی ایک لسٹ اُس کی پلیٹ میں ہوتی ہے، لیکن ہمارے ہاں مسائل کے حل کے لئے کوئی ٹھوس گراؤنڈ ورک نہیں کیا جاتا بلکہ سارا زور اقتدار حاصل کرنے پر لگایا جاتا ہے۔ مسلم لیگ کی حکومت نے بھی کوئی پیشگی گراؤنڈ ورک غالباً نہیں کیا تھا اور پی ٹی آئی نے بھی ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔ دراصل ہمارے ہاں ایسا کوئی رواج ہی نہیں۔ عمران خان اِن معاملات میں اکثر یورپ کی مثالیں بہت دیا کرتے تھے لیکن اُن کی طرز پر شیڈو گورنمنٹ بنانے پر تیار نہیں ہو سکے۔ پارلیمنٹ میں سوالوں کے جواب دینے کا آئیڈیا انہیں پسند آیا، لیکن کاش وہ اِس پر عمل کرتے کم از کم پارلیمنٹ میں ایک اچھی روایت کا آغاز ہو جاتا۔ بہرحال کچھ مسائل اچانک پیدا ہو جاتے ہیں اُن کے لئے کوئی پیشگی منصوبہ بندی ممکن نہیں ہوتی۔ کرونا کی وباء ایک ایسا ہی چیلنج ہے، جس کی وجہ سے حکومت مشکل میں آ گئی اِس صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے حکومت نے کیا حکمت عملی اپنائی یا کیا نہیں کر سکی یہ بہت وسیع موضوع ہے اور اِس پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔ کرپشن کا خاتمہ حکومت کا سب سے بڑا نعرہ تھا یہ معاملہ بھی بڑی Contraversy کا شکار ہے اب آٹے اور چینی کا سکینڈل حکومت کے گلے پڑ گیا ہے۔ یہ تو وقت بتائے گا کہ حکومت اِس سکینڈل اور کرونا کے مسئلے سے کس طرح نپٹتی ہے، لیکن یہ طے ہے کہ اِن مسائل کے اثرات بہت دور رس ہوں گے۔

مَیں ایک ایسے چیلنج کی بات کرنا چاہتا ہوں جو نہ تو اچانک سامنے آیا ہے اورنہ ہی یہ پچھلی حکومت سے ورثے میں ملا ہے نہ ہی اِس کی ذمہ دار اپوزیشن ہے، لہٰذا یہ خالصتاً حکومت کا اپنا بے بی ہے یہ معاملہ ہے حکومت میں ٹیم ورک کا فقدان۔ کوئی ادارہ ہو یا حکومت اِس کی کامیابی کے لئے ٹیم ورک بنیادی عنصر ہے۔ اب حکومت کا دعویٰ ہے کہ ریاست کے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں بہت اچھی بات ہے یہ گویا ٹیم ورک ہی ہے، لیکن اداروں سے زیادہ اہم حکومت کے تمام اجزا کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے،لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ یہاں تو حکومت کا سب سے اہم ادارہ کابینہ بھی ایک پیج پر نہیں یہ ٹیم لیڈر یعنی وزیراعظم کی لیڈرشپ کا ٹیسٹ ہے۔ عمران خان کہا کرتے تھے کہ اوپر آدمی ٹھیک ہو تو نیچے چیزیں خودبخود ٹھیک ہو جاتی ہیں، لیکن یہاں تو ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

اگر اداروں پر نظر دوڑائیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ایک اہم ادارے بیوروکریسی اور حکومت کے درمیان اب تک ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکی اور یہ بہت اہم بات ہے، کیونکہ حکومت نے اپنی پالیسیاں بیوروکریسی کے ذریعے نافذ کرنا ہوتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے سندھ میں دو تین دفعہ آئی جی پولیس کو تبدیل کیا گیا تو سندھ حکومت کی بیڈگورننس کے لئے یہ مثال دی جاتی تھی لیکن پھر پنجاب میں آئی جی اور چیف سیکرٹریوں کے کافی تبادلے ہوئے ظاہر ہے جب کسی کو چیف سیکرٹری یا آئی جی لگایا جاتا ہے تو تمام متعلقہ لوگوں سے تفصیلی مشورہ تو کیا جاتا ہے پھر پنجاب میں اہل افسروں کی کوئی کمی نہیں دوسرے صوبوں سے لینے کی پابندی کا مسئلہ بھی درپیش نہیں۔ وفاقی وزارتِ صحت میں ایک دو ماہ میں تین چار سیکرٹری تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے کیا یہ ناتجربہ کاری ہے یا کچھ اس سے آگے۔

سب سے اہم بات یہ کہ کابینہ میں ہم آہنگی نہیں کابینہ کی تشکیل پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں تین چار گروپ ہیں، جن کے مفادات، تجربے اور سوچ میں بہت فاصلہ ہے۔ سیاسی گروپ میں شاہ محمود قریشی اور خسرو بختیار جیسے کئی تجربہ کار لوگ ہیں وہ ہر حکومت میں شامل رہے ہیں اور عین ممکن ہے کہ اگلی حکومت میں بھی شامل ہوں پھر پی ٹی آئی کے اپنے لوگ بالکل نئے اور ناتجربہ کار ہیں بعض کی تو اہلیت پر بھی سوال اُٹھائے جا چکے ہیں گویا سیاسی گروپ میں بھی دو گروپ ہیں۔ پھر ایک مضبوط گروپ ٹیکنو کریٹس کا ہے اُن کا طریقہ کار اور ایجنڈا اپنا ہوتا ہے۔ معین قریشی اور شوکت عزیز کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ موجودہ مشیر خزانہ ہر حکومت میں شامل ہوتے ہیں کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمیں 22 کروڑ کے ملک میں ایسا وزیر خزانہ دستیاب نہیں جو یہیں رہتا ہو۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اب یہ گروپ بندی اندر تک محدود نہیں بلکہ پبلک ہو رہی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چودھری نے پبلک میں کہا کہ عید ہفتے کو ہو گی، جبکہ مذہبی امور کے وفاقی وزیر نورالحق قادری نے کہا عید کا فیصلہ علمائے کرام کریں گے یہ معاملہ تو اختلافات سے بڑھ کر Indisciplene کا ہے، لیکن وزیراعظم خاموش ہیں۔

ایک اور وفاقی وزیر غلام سرور خان نے ایک ٹی وی چینل پر کہا کہ کابینہ میں ایسے ایسے لوگ بیٹھے ہیں، جنہیں کوئی جانتا ہی نہیں۔ کیا ایک سیاسی حکومت میں ایسی سخت بات برداشت کی جا سکتی ہے یہ تو دراصل عمران خان کی ذات پر حملہ ہے پھر چند دن بعد انہی وزیر صاحب نے ٹی وی پر مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کے معاونین اور مشیروں کو اپنے اثاثے ڈکلیئر کرنے چاہئیں۔ ایک مقبول اینکر نے کہا کہ یہ مشیر تو یہاں رجسٹرڈ ہی نہیں لہٰذا یہ ٹیکس ادا نہیں کرتے اور پھر کئی لوگوں کی دوہری شہریت ہے۔ اب ان لوگوں سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اثاثے ڈکلیئر کریں لیکن یہ فیصلہ عمران خان کی سوچ اور پالیسی کا اظہار نہیں، بلکہ کچھ وزرا کے دباؤ پر کیا گیا ہے۔ پھر شیخ رشید ریلوے پر کم اور سیاسی باتیں زیادہ کرتے ہیں اور پیش گوئیاں کرتے ہیں۔ کوئی انہیں نیب کا ترجمان کہتا ہے ایک ٹی وی اینکر نے انہیں اسٹیبلشمنٹ کا اندر کا آدمی کہا تو انہوں نے بالکل برا نہیں منایا اور خاموش رہے۔

یہ تو طے ہے کہ عمران خان کو حکومت کا کوئی تجربہ نہیں تھا،لیکن اُن کا امیج یہ تھا کہ وہ تمام فیصلے میرٹ پر کریں گے اور اداروں میں ڈسپلن قائم کریں گے اور اس طرح ڈیلیور کریں گے اور یوں قوم کو صحیح معنوں میں لیڈر شپ فرامہ کریں گے۔ اگر عمران خان اپنا یہ امیج قائم رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں کچھ فیصلے کرنے ہوں گے اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔

مزید :

رائے -کالم -