روشنی کے جدید مینار

روشنی کے جدید مینار
روشنی کے جدید مینار

  

وہ انتہائی سادہ اور شریف آدمی ہے کسی نے تھانے میں اس کے خلاف ایک جھوٹی درخواست دے دی، پولیس کو وہ درخواست ملی تو وہ فوراً حرکت میں آ گئی۔تھانے سے سپاہی طلبی کا پروانہ لے کر آیا تو اسے اندازہ ہو گیا کہ موصوف مالدار بھی ہیں اور انتہائی بزدل بھی۔اس نے انہیں اچھی طرح ڈرایا اور اپنا حصہ وصول کرکے واپس چلا گیا۔اس نے ایک دوست کو فون کیا کہ تمہاری پولیس میں اچھی علیک سلیک ہے۔ میں کچھ پیسے خرچ کرنے کو بھی تیار ہوں،میری جان چھڑا دو۔ بات کوئی اتنی سنجیدہ نہیں تھی۔ کوئی اور ہوتا تو پرواہ بھی نہ کرتا مگر شرافت اور سادگی دو بہت بڑی کمزوریاں ہیں۔

پولیس سے زیادہ تعلقات رکھنے والے لوگ بھی عجیب ہوتے ہیں۔ پرانے زمانے میں وہ پولیس کے ٹاؤٹ یا مخبر کہلاتے تھے، مگر بدلتے وقت کے ساتھ وہ سارے انتہائی معزز ہو گئے ہیں۔ اب وہ پولیس کی مدد سے ہر طرح کی واردات بھی ڈالتے ہیں اور امداد باہمی کے تحت ایک دوسرے کے مالی شریک کار بھی ہوتے ہیں۔ الیکشن بھی لڑنے کے لئے پولیس کا تعلق ضروری ہے۔بہت سارے تو پولیس کی عنایات کے سبب آج اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔اس کے دوست کا کچھ دیر بعد فون آیا کہ اس نے ایس ایچ او صاحب سے بات کر لی ہے۔ آج وہ فائل دیکھ لیں گے تم صبح ان سے مل لینا۔ ساتھ اس نے بتا دیا کہ انہیں اتنی رقم بھی دے دینا۔ بہت مہربان آدمی ہیں تمہاری پوری مدد کریں گے۔

رات ساری پریشانی کے عالم میں کاٹنے کے بعد صبح اس نے ایک لفافے میں بتائی گئی رقم ڈالی اور تھانے پہنچ گیا۔ تھانے دار صاحب اپنے کمرے میں دوستوں سے گپ شپ میں مصروف تھے۔ اس کے پیغام پر اسے بلا لیا گیا۔ وہ تھانے دار کے سامنے بیٹھا اس بات کا منتظر تھا کہ اسے چانس ملے اور وہ لفافہ حقدار کو منتقل کر دے۔ تھوڑی دیر کوئی صورت نہ بنتی دیکھ کر اس نے میز کے نیچے سے لفافہ تھانیدار کی طرف بڑھایااور گویا ہوا کہ جناب مجھے فلاں نے آپ سے ملنے کا کہا تھااس لئے حاضر ہوا ہوں اور، اور، وہ سوچنے لگا کہ کیسے بتائے کہ میں وہ رقم بھی لایا ہوں۔ اس نے لفافہ ہلا کر تھانیدار صاحب کو محسوس کرایا کہ رقم بھی لایا ہوں۔

تھانیدار صاحب نے کوئی چیز چھوتی محسوس کرتے ہوئے میز کے نیچے دیکھا اور غصے سے اچھل کر کھڑے ہو گئے۔ پاگل ہو کیا؟، مجھے رشوت دے رہے ہوچوروں کی طرح، میں تمہیں حرام خور لگتا ہوں۔ وہ بھی کانپتا ہوا کھڑا ہو گیا۔ تھانیدار صاحب غصے میں کچھ باتیں کرنے کے بعد بیٹھ گئے اور اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ارد گرد بیٹھے لوگ بھی اسے لعن طعن اور تھانیدار صاحب کی گوناگوں خوبیاں بیان کرنے لگے۔دو منٹ بعد تھانیدار نے سر اٹھایا اور کہا، ”لاؤ لفافہ اب مجھے دو“۔ اس نے ڈرتے ڈرتے لفافہ پیش کیا۔ تھانیدار نے لفافہ کھول کر رقم گنی اور جیب میں ڈال لی اور کہنے لگا، رقم تھوڑی ہے لیکن چلو میرے دوست نے تمہاری سفارش بھی کی ہے۔ میں نے ساری رات تمہاری فائل پر پوری محنت کی ہے۔ ہم بھی جواب دہ ہیں۔ منشی بھی جواب لکھ سکتا تھا مگر افسروں نے مطمن نہیں ہونا تھا اور فائل دوبارہ آ جانی تھی، آپ مزید خراب ہوتے۔ بڑی محنت سے جواب لکھا ہے اب آپ بے فکر ہو جاؤ اور یہ جو رقم تم نے دی ہے اس محنت کا بہت کم معاوضہ ہے جو میں نے کی ہے۔ مگر چلو خیر ہے جاؤ عیش کرو۔ سو وہ جان بچا کر چلا آیا۔وہاں بیٹھے لوگ تھانیدار صاحب کی ایمانداری کے قصے ایک دوسرے کو سناسنا کر سر دھن رہے تھے۔دو دن بعد اس نے مجھے سارا واقعہ سنایا، مجھے ہنسی بھی آئی اور میں خوش بھی ہوا کہ کتنی خوبصورتی سے تھانہ کلچر تبدیل ہو گیاہے۔ اب پولیس کے لوگ رشوت نہیں اپنی محنت کا ثمر کھاتے ہیں۔ میں نے تھانے کی طرف منہ کیا اور روشنی کے اس جدید مینار کو سلیوٹ پیش کیا۔ سوچتا ہوں پولیس میں اب کتنے اچھے لوگ آ گئے ہیں۔وہ لوگ جنہوں نے کرپشن کا نام تک ختم کر دیا ہے۔

چھوٹا سا کام تھا مجھے ایک ڈاکومنٹ درکار تھی۔ روٹین میں شاید ایک ہفتہ لگ جاتا۔جلدی کی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا کہ اس دفتر کے انچارج سے بات کی جائے۔ انچارج بڑے ہنس مکھ آدمی نظر آئے۔ اتنے تپاک سے ملے جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔ چپراسی سے چائے لانے کا بھی کہہ دیا۔ ان کے رویے سے حوصلہ پا کر میں نے اپنا مدعا فوراً کہہ دیا۔کہنے لگے آپ کا بھائی یہاں بیٹھا ہے جس کی زندگی کا مقصد ہی خدمت کرنا ہے۔ چائے آرہی ہے آپ پیئیں، اتنی دیر میں کوشش کرتا ہوں آپ کا کام ہو جائے۔مجھے حیرت بھی ہوئی اور دل باغ باغ بھی ہوا کہ دھرتی پر اتنے نیک لوگ بھی موجود ہیں۔

انہوں نے فون گھمایا اور کلرک کو بلایا اور اسے کہا، ”بیٹا یہ میرے دوست ہیں۔تھوڑا وقت نکال کر ان کا کام پہلے کر دو۔ کلرک نے اچھا کہا اور میرا مطلوبہ کاغذ تیار کرنے چلا گیا۔ انچارج بتانے لگے، ”میرے دفتر میں کام کرنے والے سارے ملازم بہت اچھے ہیں مجھے تو اپنے بچوں کی طرح عزیز ہیں، کوئی وقت ہو میرے کہے کا انکار نہیں کرتے، میرا ہر طرح احترام کرتے ہیں، سرکاری ملازمت بھی عجیب ہے، سارا دن کام اور تنخواہ بہت معمولی۔ اس کے باوجود ان میں کوئی نہ تو لوگوں کو خراب کرتا ہے اور نہ ہی رشوت لیتا ہے۔ لیں بھی کیوں، میں جو،ان کا خیال رکھتا ہوں۔ان بچوں کو خوش رکھنا میں نے ہمیشہ اپنا فرض جانا ہے۔باتوں ہی باتوں میں انہوں نے مہنگائی اور حکومت کی بے حسی کا رونا شروع کر دیا کہ جس کی وجہ سے ان کے یہ دفتر والے بچے بہت پریشان ہیں۔ آٹھ آٹھ اور دس دس بندے گھر میں ہیں، بیچاروں کے گھر کا چولہا جلنا مشکل ہو گیا ہے۔

یکایک انہوں نے پینترا بدلہ۔میں اپنی پرواہ بھی نہیں کرتا مگر ان بچوں کے لئے جو بھی آپ جیسا اچھا اور شفیق دوست آتا ہے اس سے خصوصی شفقت کی درخواست کرتا ہوں، وہ ان کی فر ض شناسی، فرمانبرداری اور محنت کے بدلے کچھ نہ کچھ دے جاتے ہیں،یوں یہ بچے حرام خوری اور رشوت سے بچ جاتے ہیں، یہی سوچتے ہیں کہ اللہ کا حکم ہے لوگوں کی خدمت کرو،سو کر رہے ہیں۔میں ان کے زبردست قسم کے صوفیانہ ارشادات پر غور کر ہی رہا تھا کہ کلرک میرا کاغذ تیار کرکے لے آیا۔ انہوں نے کاغذ پر دستخط کئے اور کلرک کو کہا کہ بیٹا جاؤ، ابھی بلاتا ہوں۔ پھر کاغذ میری طرف بڑھاتے ہوئے بولے، آپ نے دیکھا کتنا پریشان نظر آ رہا ہے۔ جو جائز سمجھیں ان کے لئے دے دیں۔،میں اب ان کی اخلاقی مار کی زد میں تھا۔ نہ چائتے ہوئے بھی جیب سے ہزار روپے نکالے اور پیش کر دئیے۔ انچارج صاحب ہنسے اور کہا آپ جیسے مخیر شخص سے زیادہ کی توقع تھی۔ چنانچہ ایک ہزار مزید نکالا اورانہیں پیش کر دیا۔ انہوں نے دو ہزار دراز میں پھینکا، جیب سے دو سو روپے نکالے کلرک کو بلایا اور اسے دو سو روپے پکڑائے کہ لو تمہارہ انعام۔کلرک پلٹا تو کہنے لگے، دفتر میں میرے ساتھ دس بارہ بندے کام کرتے ہیں۔ تھوڑے تھوڑے سب کو دوں گا۔ سارا دن بیچارے محنت کرتے ہیں صلہ تو ملنا چائیے۔ لیکن میں لوگوں سے زبردستی وصول کرکے رزق کو حرام نہیں کرنے دیتا، یہ تو خوشی کا سودا ہے، لوگوں کی خدمت بھی۔میں اٹھا اور روشنی کے اس جدید مینار کو سلام پیش کرتا واپس لوٹ آیا۔ اب وہ اور اس کے رفقا رشوت نہیں لیتے، محنت کا صلہ لیتے ہیں۔

ضیا الحق کو لوگ کچھ بھی کہیں۔ اس کے دور تک رشوت کا نام زندہ تھا اور لوگ اسے معیوب سمجھتے تھے۔ دو عظیم لیڈروں محترمہ بے نظیر بھٹو اور جناب نواز شریف نے رشوت کے نام کے خاتمے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اس لئے کہ جو چیز اشرافیہ کو خود قبول ہو وہ انتہائی معزز ٹھہرتی ہے۔اب رشوت نہیں خدمت ہے اس لئے چوری چھپے نہیں سرعام ہے۔ہمارے امیرالمومنین جناب خان صاحب نے رشوت کے نام کے ساتھ جہاد کرنے کے بعد اسے کمال تک پہنچا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب لوگ رشوت پر لعنت بھیجتے اور محنت قبول کرنے میں نا صرف حرج نہیں سمجھتے بلکہ اپنا حق جان کر کھلے عام تقاضا بھی کرتے ہیں اور وصول بھی کرتے ہیں۔ اب روشنی کے جدید میناروں کی اس قدر کثرت ہے کہ کوئی کام کرانا ہو، چاہے وہ بد دیانتی کا ٹائی ٹینک ہی کیوں نہ ہو، مینار سامنے نظر آتا ہے اور آپ کے لئے آسانیاں پیدا کر دیتا ہے۔بس خدمت کا صلہ دیتے جائیں، کام ہو جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -