نوازشریف کی نئی تصویر اور پرانا سکرپٹ

نوازشریف کی نئی تصویر اور پرانا سکرپٹ
نوازشریف کی نئی تصویر اور پرانا سکرپٹ

  

نوازشریف کی نئی تصویر اور پھر مریم نواز کے ٹویٹ نے سیاست کے ٹھہرے ہوئے پانی میں پھر ہلچل مچا دی ہے۔ یہ کچھ ایسی ہلچل ہے، جیسے کسی کو اچانک پتہ چلے کہ مُردہ زندہ ہو گیا ہے۔ جب تک یہ تصویر منظرِ عام پر نہیں آئی تھی حکومتی ترجمانوں کا سارا رخ شہبازشریف اور بلاول کی طرف تھا، لیکن اس تصویر کے چھپتے ہی انہوں نے لنگر لنگوٹ کس کے یہ دہائی دینا شروع کر دی کہ دیکھو جو بیماری کا کہہ کر لندن گیا تھا، وہ سڑک کنارے بچوں کے ساتھ ہشاش بشاش بیٹھا لذت کام و دہن سے دل بہلا رہا ہے۔ فواد چودھری اپنی سائنس کے بل بوتے پر اب آئین سٹائن کہلاتے ہیں۔ نوازشریف کی تصویر دیکھ کر نڈھال لہجے میں کہنے پر مجبور ہو گئے کہ یہ تصویر ملک کے نطامِ عدل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ نظام عدل پر کیوں، نظام احتساب پر کیوں نہیں، نظام حکومت پر بھی سوال تو بنتا ہے۔

حکومت کتنا چاہتی ہے کہ نوازشریف واپس آئیں، یہ سب کو معلوم ہے۔ نوازشریف کے بغیر معاملات زیادہ احسن طریقے سے چل رہے ہیں۔ انہیں لندن سے واپس لا کر کوٹ لکھپت جیل میں بند کیا گیا تو آئے روز ان کی حالت کے باعث حکومت کے ہاتھ پاؤں پھولتے رہیں گے۔ پھر ان کورونا کے دنوں میں نوازشریف کو پاکستان کی کسی جیل میں رکھنا آبیل مجھے مار والی صورتِ حال پیدا کر سکتا ہے۔ اس لئے حکومت توصد شکر ادا کررہی ہے کہ نوازشریف لندن میں بیٹھے ہیں، تاہم حکومتی ترجمانوں کے لئے نوازشریف کی تصویر دیکھ کر ڈھولکی نہ بجانا انہونی بات ہوتی، اس لئے وہ اپنا کام کررہے ہیں۔ البتہ اس تصویر کی وجہ سے مریم نواز نے ٹویٹ نہ کرنے کی قسم توڑ دی، اب اگر وہ یہ محاذ مستقل طور پر کھول دیتی ہیں تو ایک ایک بڑا سیاسی طبل جنگ بج سکتا ہے۔

مریم نواز کی یہ بات شائد درست نہیں کہ یہ تصویر منصوبہ بندی سے بنائی اور ریلیز کی گئی۔ نوازشریف ایک معروف شخصیت ہیں، ان کا چہرہ دنیا بھر میں شناسا ہے۔ پھر وہ لندن کی ایک اوپن جگہ پر بیٹھے ہیں۔ غالباً راہ چلتے کسی پاکستانی کی ان پر نظر پڑی اور اس نے اپنے موبائل کیمرے سے تصویر بنا لی۔ اب ایسی تصویر کو آپ فیس بک، ٹویٹر یا واٹس اپ پر لگا دیں تو اس کا عام ہونا یقینی بات ہے۔ سو یہ تصویر اس طرح سامنے آئی اور نگر نگر پھیل گئی۔ میرے نزدیک یہ ایک معمول کی بات ہونی چاہیے تھی۔ایک شخص چاہے بیمار بھی ہو، اگر وہ چلنے پھرنے کے قابل ہے تو کہیں بھی آ جا سکتا ہے۔ میاں صاحب نے تصویر میں جو جوتے پہنے ہوئے ہیں وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نوازشریف صحت کے معاملے میں خاصے محتاط ہیں اور واک بھی لازمی کرتے ہیں۔ اس تصویر پر مسلم لیگ ن اور حکومتی ترجمانوں دونوں کا ردعمل غیر فطری ہے۔ مسلم لیگ ن والے معذرت خواہانہ اور صفائی دینے والے انداز میں تصویر کی وضاحت کررہے ہیں جبکہ حکومتی ترجمان اس تصویر کو بنیاد بنا کر نوازشریف کو ایک جھوٹا، دغا باز اور بزدل شخص قرار دے رہے ہیں۔ ڈاکٹرز تو دل کے مریضوں کو یہ ہدایت کرتے ہیں کہ وہ واک کیا کریں، کھلی آب و ہوا میں جائیں اور خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کریں۔ سو اس میں ایسا کون سا عجوبہ ہے کہ نوازشریف بیماری کے باوجود باہر کہیں بیٹھے پائے گئے اور ان کی تصویر بن گئی۔ ایسی سطحی باتوں اور ردعمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں ایشوز کا سخت فقدان ہے۔

ہم شخصی سیاست میں اس طرح پھنسے ہوئے ہیں کہ ہر بات کو اسی کے تناظر مین دیکھتے ہیں۔ یہ دل پشوری کرنے والی بات ہے کہ حکومتی ترجمان یہ پھلجھڑی چھوڑیں کہ نوازشریف کی سیاست ختم ہو گئی ہے اور وہ قومی دولت لوٹ کر بیرون ملک فرار ہو گئے ہیں۔ سیاست تو کسی کی اس وقت ختم ہو سکتی ہے جب عوام اسے اپنے دلوں سے نکال دیں۔ نوازشریف کی سیاست تو عوام نے ختم کرنی ہے، لیکن ابھی یہ وقت نہیں آیا۔ آج بھی ملک کی دوسری بڑی جماعت نوازشریف کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ حکومت کو سب سے زیادہ خطرہ بھی مسلم لیگ ن ہی سے ہے،جس کی قومی اور پنجاب اسبملی میں اکثریت ہے۔ نوازشریف منظر سے غائب ہونے کے باوجود ہروقت پاکستانی سیاست میں موجود ہیں۔ ان کی ایک تصویر ہی ہلچل مچا دیتی ہے۔ نوازشریف کو اس بات کا تجربہ ہے کہ منظر سے غائب ہونے کے باوجود انپی جماعت اور سیاست پر کیسے گرفت رکھنی ہے۔ وہ مشرف دور میں اس تجربے سے گزر چکے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے صدر شہبازشریف ہیں، مگر انہیں بھی پارٹی کے اندر اپنی بات منوانے کے لئے نوازشریف کا حوالہ دینا پڑتا ہے۔

مریم نواز کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ نوازشریف نے انہیں اپنا سیاسی جانشین نامزد کر رکھا ہے۔ جو اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا کہ پاکستان میں ایک طرف اشرافیہ اور دوسری طرف عوام ہیں۔ وہ پرلے درجے کا احمق ہے۔ سارے کھیل تماشے عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ نوازشریف پر دھوکہ دہی سے باہر جانے کا الزام لگانے والے ترجمانوں کو شاہد وہ لمحے یاد نہیں جب آناً فاناً کیا حکومت اور کیا اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کے باہر جانے کی راہ ہموار کرنے میں اپنا پورا زور لگاتی رہیں۔ آخر وہ کون سی طاقت تھی، جس نے ساری رکاوٹیں ہٹا کر نوازشریف کو چارٹر طیارے پر سوار کرا دیا۔ اس وقت تو کیا حکومت، کیا اسٹیبلشمنٹ، کیا عدلیہ اور کیا فوج سب ایک پیج پر تھے۔ کیا نوازشریف اپنے طور پر اتنا بڑا چکمہ دے سکتے تھے کہ وہ بیمار نہ ہوں، مگر بیماری کا مجموعہ قرار دے کر بیرون ملک بھیج دیئے گئے ہوں، کیا پہلے بھی ملک کی تاریخ میں ایسا کبھی ہوا کہ ایک سزا یافتہ مجرم جیل سے نکال کر بیرون ملک بھیجا گیا ہو۔ تو صاحبو! آخر عوام کو بھی تو مطمئن کرنا تھا کہ لوگو اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہے اور کوئی قانون کے بغیر ملک سے باہر نہیں جا سکتا۔

پاکستان میں اشرافیہ چاہے جتنے مرضی ہتھکنڈے اختیار کرے وہ پاکستانیوں کی سرشت تبدیل نہیں کر سکتی۔ وہ جس کے ساتھ کھڑے ہیں، جو نظریہ انہوں نے اپنا لیا ہے، اس سے اِدھر اُدھر نہیں ہوئے۔ بھٹو کو پھانسی دے کر منظر سے ہٹایا گیا، مگر وہ عوام کے دلوں میں موجود ہے، جونہی موقع ملا عوام نے اپنا فیصلہ سنا کے بے نظیر بھٹو کو اقتدار سونپ دیا۔ پرویز مشرف نے نوازشریف کو منظر سے ہٹا کر بہتیری کوششیں کیں کہ نوازشریف پر الزامات لگا کر،انہیں عوام کے دلوں سے نکالا جائے، مگر کامیابی نہ ہوئی اور انہوں نے نوازشریف کو واپس لا کر پھر اقتدار سونپ دیا۔ اب پھر وہی فلم چل رہی ہے، وہی ڈرامہ دہرایا جا رہا ہے۔ نوازشریف کو نااہل بھی قرار دیا جا چکا ہے اور وہ سزا یافتہ بھی ہیں لیکن پاکستانی سیاست کا سب سے اہم کردار آج بھی وہی ہیں۔ ان کی خاموشی بتا رہی ہے کہ وہ معاملات طے کرکے لندن گئے ہیں، تاہم ایسا نہیں ہو سکتا کہ انہوں نے معاملات طے کرتے وقت اپنی سیاست کو بھی ختم کرنے کی حامی بھر لی ہو۔

اشرافیہ چونکہ عوام کو اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتی ہے اس لئے انہیں اندھیرے میں رکھنے کے لئے مختلف حربے آزمائے جاتے ہیں۔ نوازشریف کا ووٹ کو عزت دو والا بیانیہ بہت مقبولیت اختیار کر رہا تھا، اس لئے انہیں زبان بندی کی شرط پر باہر جانے دیا گیا۔ یہ اتنی بڑی حقیقت ہے، آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے، مگر عوام چونکہ بھولے بادشاہ ہیں، اس لئے انہیں سیاسی کھیل تماشے دکھا کر بہلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اشرافیہ کا یہی تو کمال ہے کہ وہ پرانے اور گھسے پٹے سکرپٹ کو بھی اس خوبصورتی سے نیا کرکے بیچتی ہے کہ عوام نیا سمجھ کر تالیاں بجانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -