بداخلاقی کیسز کی تفیتش میں غفلت برتنے والے افسروں کیخلاف کارروائی کی ہدایت

بداخلاقی کیسز کی تفیتش میں غفلت برتنے والے افسروں کیخلاف کارروائی کی ہدایت

  

لاہور(کرائم رپورٹر)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر نے کہا ہے کہ بچوں اور خواتین کے ساتھ بداخلاقی کے مقدمات کی تفتیش ڈی پی اوز ہر صورت اپنی نگرانی میں کروائیں اور ایسے واقعات میں ڈی این اے سیمپل بروقت جمع نہ کروانے والے ذمہ داران افسر و اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے محکمانہ کارروائی میں ہرگز تاخیر نہ کی جائے۔انہوں نے مزیدکہاکہ صوبے کے تمام اضلاع میں سنگین جرائم میں ملوث خطرناک اورپیشہ ور مجرمان کو پابند سلاسل کرنے کیلئے ضلعی پولیس افسران اپنی نگرانی میں خصوصی مہم شروع کریں تاکہ معاشرے میں قانون کی حکمرانی اور عوام کی جان ومال کے تحفظ کا عمل مزید بہتر ہوسکے۔انہوں نے مزیدکہا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں قائم کئے گئے ماڈل پولیس سٹیشن کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے مانیٹرنگ اور انسپکشن کے عمل کو جاری رکھا جائے اور وہا ں تعینات سٹاف کو سروس ڈلیوری میں مزید بہتری کے حوالے سے موثر بریفنگ بھی دی جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ صوبے کے تمام اضلاع میں تعلیمی اداروں کے گردونواح میں منشیات فروشی کے مکروہ دھندے میں ملوث سماج دشمن عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی لائی جائے تاکہ نوجوان نسل کو نشے کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔

انہوں نے مزید کہاکہ پتنگ و دھاتی ڈور کی تیاری، استعمال اور خریدوفروخت میں ملوث قانون شکنوں کے خلاف آپریشنزکو نہ صرف مزید موثر بنایا جائے بلکہ جن علاقوں میں پتنگیں اڑانے کے زیادہ واقعات سامنے آرہے ہیں وہاں ڈولفن، پیرو اور دیگر پٹرولنگ فورسز کے گشت پلان کو از سر نو ترتیب دیا جائے تاکہ اس خطرناک جرم میں ملوث ملزمان کو پابند سلاسل کرکے شہریوں کی قیمتی جانوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ اسلحہ کی نمائش اور ہوائی فائرنگ کے واقعات میں مزید کمی کیلئے پولیس ٹیموں کے کریک ڈاؤن میں مزید تیزی لائی جائے اور سوشل میڈیا پر فائرنگ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والے ملزمان کو ہرگز کوئی رعائیت نہ دی جائے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر خدمات سر انجام دینے والے فورس کو کورونا وبا ء سے محفوظ رکھنا محکمہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے لہذا تمام اضلاع میں فیلڈ ڈیوٹی پر تعینات فورس کوحفاظتی سامان بشمول فیس ماسک، ہینڈ سینیٹائزرز اور حفاظتی کٹس سمیت دیگر سامان کی فراہمی میں کوئی تعطل نہ آنے پائے اور اگر اس سلسلے میں فنڈز یا وسائل کے حوالے سے کوئی مدد درکار ہے تو فوری طور پر سنٹرل پولیس آفس رابطہ کرکے حفاظتی سامان کی خریداری کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیاجائے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ صوبے بھر میں حساس سیکیورٹی مقامات اور دفاترکیے سیکیورٹی پلان کا از سر نوجائزہ لیا جائے اور سیکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر سے بہتر کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کارلاتے ہوئے اقدامات کئے جائیں۔ یہ ہدایات انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس میں ویڈیو لنک کرائم میٹنگ کی صدارت کے دوران افسران کو ہدایات دیتے ہوئے جاری کیں۔دوران میٹنگ صوبے کے تمام اضلاع کے ماہانہ کرائم اور پولیس کاروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ صوبے کے تمام آر پی اوز، سی پی اوزاور ڈی پی اوز نے بذریعہ ویڈیو لنک کرائم میٹنگ میں شرکت کی۔ ایڈیشنل آئی جی آپریشنز انعام غنی نے صوبے کی تمام رینجز اور اضلاع میں سنگین جرائم کی صورتحال اورضلعی پولیس ٹیموں کی کارکردگی کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے تفصیلات سے آگاہ کیاجبکہ آئی جی پنجاب نے آرپی اوز اور ڈی پی اوز کو جرائم کی روک تھام اور سماج دشمن عناصر کے خلاف کاروائیوں کو مزید تیز کرنے کے حوالے سے ہدایات جاری کیں۔ آئی جی پنجاب نے افسران کو تاکیدکی کہ رابری، ڈکیتی، قتل اور اغوا ء برائے تاوان جیسے سنگین جرائم کی روک تھام کیلئے پولیس کریک ڈاؤن میں مزید تیز ی لائی جائے اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ زیادہ دلجمعی کے ساتھ اپنے فرائض ادا کریں۔ آئی جی پنجاب نے مزیدکہاکہ شہریوں کی سہولت کیلئے شروع کئے گئے پراجیکٹس کی افادیت کو برقرار رکھنے کیلئے مانیٹرنگ اور انسپکشن کا سخت نظام انتہائی ضروری ہے لہذا تمام افسران جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق انسپکشن کے عمل میں مزید تیزی لائیں اور سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور افسران او اہلکاروں کو درپیش چیلنجز سے موثر طور پر آگاہ کیا جائے تاکہ وہ زیادہ لگن اور ہائی الرٹ ہوکر عوام کی خدمت اور حفاظت کا فریضہ سر انجام دے سکیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ تھانوں کی عمارتوں کیلئے زمین کے حصول کیلئے متعلقہ اداروں کے ساتھ کوارڈی نیشن کے عمل کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ اس کام کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ صوبے کے تمام اضلاع میں حساس مقامات کے گردونواح میں سرچ، سویپ، کومبنگ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کو جاری رکھا جائے اور جرائم کی روک تھام اور حساس اقلیتی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کیلئے سمارٹ پٹرولنگ پلان بنایا جائے۔کرائم میٹنگ میں ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی اظہر حمید کھوکھر، ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس طارق مسعود یٰسین، ایڈیشنل آئی جی لاجسٹکس علی عامر ملک، ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن فیاض احمد دیو،،ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ بی اے ناصر، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ زعیم اقبال شیخ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی محمد طاہر رائے، ڈی آئی جی لیگل جواد احمد ڈوگر، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر سید خرم علی،ڈی آئی جی ویلفیئر شارق کمال صدیقی اور اے آئی جی آپریشن عمران کشور سمیت دیگر افسران موجود تھے۔

مزید :

علاقائی -