زیورات تیار کرنے والے 30فیصد کاریگروں کا روزگار ختم

  زیورات تیار کرنے والے 30فیصد کاریگروں کا روزگار ختم

  

اسلام آباد (اے پی پی) کورونا وائرس کی وباء کے باعث سونے کے زیورات کی فروخت میں کمی کی وجہ سے زیورات تیارکرنے والے 30 فیصد کاریگروں کا روزگار ختم ہو ا ہے، کاریگر گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لئے رکشے چلار ہے ہیں اور گھروں میں کھانا پکا کر بازاروں میں فروخت کررہے ہیں۔ آل پاکستان جیولرز ایسوسی ایشن (اے پی جے اے) کے چیئرمین محمد ارشد نے کہا ہے کہ سونے کے کاروبار میں مندی کی وجہ سے ایک طرف تاجر اور کاریگر پریشان ہیں تاہم دوسری جانب کم آمدنی اور متوسط آمدن والے طبقات کے لئے کورونا وائرس کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پابندی کے باعث غریب طبقات اپنی بہن اور بیٹیوں کی رخصتی کے لئے20 سے کم افراد کو مدعو کر کے گھر میں کھانا وغیرہ تیار کرکے نکاح اور رخصتی کے فرائض پورے کر رہے ہیں جس سے ان کو اضافی اخراجات سے نجات حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سونے کے زیورات کی فروخت میں کمی کے نتیجہ میں سونے کا کاروبار صرف 20 فیصد رہ گیا ہے کیونکہ پہلے کے مقابلہ میں صرف 10 فیصد گاہک ہی مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرافہ مارکیٹوں میں آنے والے زیادہ تر کسٹمرز نئے زیورات خریدنے کی بجائے پرانے زیورات فروخت کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ معاشی سست روی کے باعث ان کو گھریلو اخراجات پورے کرنے میں مشکل ہے جس کے لئے وہ پرانے زیورات فروخت کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشی سست روی کے باعث سونے کے زیورات تیارکرنے والے30 فیصد کاریگروں کا روزگار متاثر ہوا ہے اور وہ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے کئی دوسرے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کاریگر رکشے وغیرہ چلا کر یا گھروں میں کھانے وغیرہ تیار کرکے بازاروں میں بیچ رہے ہیں۔

مزید :

کامرس -