سندھ فرانزک ڈی این اے لیب کے تحت سوختہ لاشوں کی تشخیص کا عمل مکمل

  سندھ فرانزک ڈی این اے لیب کے تحت سوختہ لاشوں کی تشخیص کا عمل مکمل

  

کراچی (این این آئی) بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس)جامعہ کراچی کے تحت ہوائی حادثے کا شکارمسافروں کی سوختہ لاشوں کی تشخیص کا انتہائی پیچیدہ عمل سندھ فرانزک ڈی این اے اور سیرولوجی لیبارٹری (ایس ایف ڈی ایل) جامعہ کراچی نے مکمل کرلیا ہے۔اب تک ایس ایف ڈی ایل کوحادثے کا شکار مسافروں کے لواحقین کے69نمونے موصول ہوئے تھے جبکہ پولیس سے مرنے والوں کے70نمونے موصول ہوئے، کچھ کیسز خاندانی حوالہ نمونوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے پینڈنگ میں ہیں، جبکہ لواحقین کے69نمونے مقابلے میں 50لاشوں کے ڈی این اے پروفائلنگ مکمل ہوچکی ہے۔بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس)جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹرمحمد اقبال چوہدری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے یہ پورا تجزیاتی عمل جدید مشینوں سے صرف آٹھ روز کے ریکارڈ وقت میں سوفیصد درستگی کے ساتھ مکمل ہوا ہے۔ تمام رپورٹس پولیس کو ارسال کردی گئی ہیں، اس آپریشن یعنی قومی فرض کی ادائیگی میں پاکستان کی اس جدید لیبارٹری میں سائنسدان اور رضا کاروں نے 24 گھنٹے(24/7) کام کیا ہے، جبکہ سندھ حکومت کی معاونت اور رہنمائی بھی قابلِ تعریف ہے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ، جامعہ کراچی کے تحت اس جدید ڈی این اے اور سیرولوجی لیبارٹری کا قیام عمل میں آیا تھا، یہ سندھ میں اپنی نوعیت کی پہلی اور پاکستان میں دوسری فرانزک لیبارٹری ہے جسے جمیل الرحمن سینٹر فار جینومکس ریسرچ میں قائم کیا گیا ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -