مظاہرین کا خوف، صدر ٹرمپ اہلیہ سمیت زیر زمین پناہ گاہ میں چلے گئے، سیاہ فام شہری کے قتل پر زمبابوے، امریکہ آمنے سامنے، ترکی، چین، ایران اور افریقی یونین کی بھی امریکہ پر شدید تنقید

مظاہرین کا خوف، صدر ٹرمپ اہلیہ سمیت زیر زمین پناہ گاہ میں چلے گئے، سیاہ فام ...

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی سیکرٹ سروس کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان کے تحفظ کے بارے میں اتنی تشویش تھی کہ اس نے مظاہرین کے وائٹ ہاؤس پر دھاوا بولنے کے وقت انہیں فوراً زیر زمین حفاظتی پناہ گاہ میں منتقل کر دیا۔25مئی کو میناپولیس کے شہر میں ایک سیاہ فام قیدی جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس افسروں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک گیر ہنگامے پھوٹنے کے بعد وائٹ ہاؤس بھی پر تشدد مظاہرین کی زد میں آ گیا تھا۔ جمعہ کی شب یہاں مظاہرین اور پولیس اور سکیورٹی حکام کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جس کی تفصیلات چھپ چکی ہیں تاہم نیو یارک ٹائمز نے اپنی تازہ اشاعت میں رپورٹ کیا ہے کہ اس دوران وائٹ ہاؤس کے اندر کیا کچھ ہوتا رہا۔ اخبار کے مطابق جب سینکڑوں مظاہرین وائٹ ہاؤس کے باہر جمع ہو گئے تو سکیورٹی حکام نے وہاں رکاوٹیں کھڑی کر دیں جس کے بعد مستقل مظاہرین نے خالی بوتلیں اور دیگر اشیاء سکیورٹی حکام پر پھینکنا شروع کر دیں جس کے جواب میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے سرخ مرچوں کا سپرے کیا گیا۔ اس دوران سیکرٹ سروس نے مناسب یہ سمجھا کہ صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کو زیر زمین حفاظتی پناہ گاہ میں منتقل کر دیاجائے۔ انہیں فوری طور پر اس پناہ گاہ میں پہنچا دیا گیا جسے ”صدارتی ایمرجنسی صدارتی آپریشنز سنٹر“ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں نائن الیون کے حملے کے وقت سابق صدر جارج بش اور سابق نائب صدر ڈک چینی کو اس پناہ گاہ میں چھپایا گیا تھا۔ اس کے بعد اس زیر زمین پناہ گاہ کو مزید مضبوط بنا دیا گیا تھا تاکہ وہ کسی طیارے کے عمارت سے ٹکرانے کی صورت میں دباؤ برداشت کر سکے۔نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور خاتون اول مظاہرین کے اتنا قریب آنے پر بہت پریشان تھے۔ ہفتے کی صبح اپنے ٹوئیٹر پیغام میں صدر ٹرمپ نے لکھا تھا کہ پناہ گاہ میں جانے کے بعد وہ اپنے آپ کو بہت محفوظ محسوس کرتے تھے انہوں نے مزید لکھا تھا کہ اگر مظاہرین وائٹ ہاؤس میں داخل ہو جاتے تو انہیں خونخوار کتوں کا سامنا کرنا پڑتا اور ان پر گولی بھی چلائی جا سکتی تھی۔

ٹرمپ، منتقل

نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں سیاہ فام شہری کے قتل پرجہاں گزشتہ ایک ہفتے سے پرُ تشدد احتجاج جاری ہے،وہیں یہ احتجاج امر یکہ سے باہر نکل کر برطا نیہ، جرمنی، فرانس سمیت دیگر ممالک بھی پہنچ چکا ہے، جبکہ سیاہ فام شہری کے قتل پر کئی ممالک کا ردعمل بھی سامنے آ گیا ہے، اس ضمن میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکہ میں سیاہ فام شہری کے قتل کو فاشسٹ اور نسل پر ستانہ اقدام قراد دیتے ہوئے کہا ہے کہ بطورِ مسلمان ہماری ذمہ داری ہے وحشیانہ قتل کی مذمت کریں۔ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے امریکہ میں اقلیتوں کیساتھ نسل پرستانہ رویہ پرانی بیماری ہے۔ امریکہ سیاہ فاموں کیساتھ امتیازی سلوک ختم کرے۔ادھرمیئر لندن صادق خان کا کہنا تھا سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کے قتل پر پوری دنیا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔دوسری طرف جارج فلائیڈ کے قتل پر زمبابوے نے امریکی سفیر کو طلب کر لیا ہے،جبکہ امریکی سفارتکار نے افریقی ملک زمبابوے پر مظاہروں کو بڑھاوادینے کا الزام لگادیاہے۔ادھرافریقن یونین نے سیاہ فام شہری کی ہلاکت کو قتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ سیاہ فام شہریوں کیخلاف نسلی تعصب کو ختم کرے۔ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا امریکی حکومت اپنے ملک میں بھی دھونس زبر دستی روا رکھتی ہے، عوام پر تشدد ختم کرکے لوگوں کو سانس لینے کا موقع دے۔

احتجاج

مزید :

صفحہ اول -