حکومت سندھ نے بلدیاتی اداروں کو ختم کرنے کی سمری پر دستخط کر دیئے 

حکومت سندھ نے بلدیاتی اداروں کو ختم کرنے کی سمری پر دستخط کر دیئے 

  

کراچی (این این آئی) صوبے کے انتہائی باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت سندھ نے بلدیاتی اداروں کی قانونی مدت ختم ہونے پر عوامی نمائندوں کو گھر بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بھیجی گئی سمری کو منظور کرلیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق میونسپل اور ٹاؤن کمیٹی کے چیئرمینوں کی جگہ اسسٹنٹ کمشنرز کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے گا۔ ضلعی کونسل اور ضلعی میونسپل کارپوریشنوں کے چیئرمینوں کی جگہ اس ضلع کے ڈپٹی کمشنرز کو چارج دیا جائے گا جبکہ شہری علاقوں کی میونسپل کارپوریشنز میں کمشنرز کو ایڈمنسٹریٹرز تعینات کرنے کی بھی تیاریاں مکمل کرلیگئی ہیں۔ یونین کونسلوں اور یونین کمیٹیوں کے ایڈمنسٹریٹرز کا اختیار مختیارکاروں کو دیا جائے گا۔ سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ نے بڑے پیمانے پر چیف میونسپل آفیسرز، ٹاؤن آفیسرز اور چیف آفئسرز کے تبادلوں اور تعیناتیوں کا عمل مکمل کرلیا ہے۔ اال پاکستان لوکل گورنمنٹ ورکرز فیڈریشن سندھ کے چیئرمین حافظ مشتاق کوریجو (نودیرو) صدر سید ذوالفقار شاہ (کراچی) جنرل سیکریٹری اکرم راجپوت (حیدرآباد) ڈپٹی جنرل سیکریٹری علی مردان شیخ (سکھر)، جوائنٹ سیکریٹری عبدالہادی مرکیانی (رتوڈیرو)، غلام عباس سہاگ (دادو) اور فنانس سیکریٹری قلندر بخش شاہانی (لاڑکانہ) نے کہا ہے کہ موجودہ بلدیاتی اداروں کی مدت 19 فروری کو ختم ہوچکی ہے لیکن حکومت سندھ بلدیاتی اداروں میں بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت کے باعث بلدیاتی اداروں کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ عید سے قبل سمری منظور ہونے کے باوجود کورونا وباء کے باعث بلدیاتی اداروں کو ختم کرنے سے الجھن میں گرفتار ہے لیکن اس ہفتے کسی بھی وقت بلدیاتی قیادت کو گھر بھیجا جاسکتا ہے۔ تاکہ آئندہ بجٹ ایڈمنسٹریٹرز پیش کریں جس کی تیاری مکمل ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بلدیاتی چیئرمینوں کی کرپشن کے باعث ان کے گھر بھیجنے کے فیصلے سے بلدیاتی ملازمین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اب گیند حکومت سندھ کی کورٹ میں ہے کہ وہ سمری پر کب عملدرآمد کرواتی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -