وزیراعظم کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے گئے، 11ہزار سے زائد ملازمین فارغ

وزیراعظم کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے گئے، 11ہزار سے زائد ملازمین فارغ

  

کراچی (این این آئی)نیشنل ایمرجنسی پروگرام کے تحت گھر گھر پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے گیارہ ہزار سے زائد پولیو ورکرز کو یونیسیف کی تھرڈ پارٹی نے اپنے کنٹریکٹ بیسڈ ملازمین کو بنا کسی پیشگی تحریر کے فارغ کردیا۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کے احکامات تھے کہ لاک ڈاؤن اور کووڈ 19 کے دورانیے میں کوئی بھی کمپنی اپنے ملازمین کو فارغ نہیں کرے گی۔ مگر سدات حیدر مرشد ایسوسی ایٹس نے ان احکامات کو ہوا میں اڑا تے ہوئے ہزاروں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کا معاشی قتل عام کرڈالا۔ مذکورہ فرم نے اپنے ملازمین کو مزید فنڈز نہ ہونے کا جواز دیا ہے اور کہا ہے کہ یونیسیف نے ان کا تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ ختم کردیا ہے لہذا وہ بھی مجبور ہیں۔ ذرائع کے مطابق گذشتہ سال جب کنٹریکٹ کی تجدید کی جارہی تھی تو خبروں کے مطابق اس سال پولیو پروگرام کے لیے ناصرف یونیسیف نے بلکہ دیگر ممالک جن میں سعودی عرب سرفہرست ہے نے گذشتہ سال سے دو گنا زیادہ فنڈز فراہم کئے تھے۔ جبکہ ماہ فروری میں اس پروگرام میں کئی تجدید کی جارہی تھی جس پر عمل درآمد میں صرف چند یوم ہی باقی تھے اس دوران کرونا وائرس کے کیسز پاکستان میں دریافت ہوگئے جس کے باعث وہ تبدیلیاں روک دی گئی تھیں، مگر ماہ مئی کے اختتام پر اچانک ہی 89 یوسیز کے ملازمین کو زبانی طور پر ملازمت ختم ہونے کا عندیہ دے دیا گیا۔ پولیو ورکرز نے یہ مدعہ بھی اٹھایا ہے کہ اگر یونیسیف نے تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ ختم کردیا ہے تو باقی رہ جانے والی ہائی رسک یوسیز کے اخراجات کہاں سے پورے کیے جارہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ نہ ہی پولیو پروگرام ختم ہوا ہے اور نہ ہی فنڈز بلکہ نجی کمپنی نے ملک کے موجودہ حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے فنڈز بچائے ہیں، پولیو ورکرز کا کہنا ہے کہ یہ وہی ورکرز ہیں جنہوں نے ملک سے پولیو کے خاتمے کے لیے نہ دن دیکھا نہ رات ہر طرح کے موسم میں اور ہر طرح کہ حالات میں مکمل خلوص اور لگن سے خدمت کی ہے یہ وہی پولیو ورکرز ہیں جن پر قاتلانہ حملے بھی ہوئے اور یہ شہید بھی ہوئے، یہ وہی پولیو ورکرز ہیں جنہوں نے دو قطرے پلانے کے لیے والدین کی گالیاں بھی کھائیں اور دھکے بھی کھائے، یہ وہی پولیو ورکرز ہیں جن پر کتے چھوڑے گئے جن پر گندا پانی پھینکا گیا جن کو دھمکیاں دی گئیں مگر انہوں نے ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کیا اور اپنے جذبے سے مستقل مزاجی سے پولیو کے خاتمے کے لیے شب روز کوشاں رہے مگر آج انہی ورکرز کو اس طرح ملازمتوں سے برطرف کردینا ان کا یوں معاشی قتل عام کرنا انسانیت کی توہین ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ پولیو ورکرز کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اس وقت ان کا ساتھ نہ دیا تو ہزاروں خاندان تباہ ہوسکتے ہیں ہزاروں لوگ بیروزگاری سے خودکشی کرینگے جس کا خون پھر حکومت کی گردن پر ہوگا۔ پولو ورکرز کا کہنا ہے کہ ہم صدر مملکت، وزیراعظم پاکستان، آرمی چیف، گورنر سندھ، وزیراعلی سندھ، وزیر صحت، لیبر ڈیویژن، ہیومن ریسورس، یونیسیف، ڈبلیو ایچ او، اور ملک میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تمام این جی اوز سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا ہماری دادرسی کی جائے اور اس ظالمانہ جابرانہ فیصلے کو واپس لیتے ہوئے ہمیں ہماری ملازمتیں واپس کی جائیں۔

مزید :

صفحہ اول -