سی ڈی اے کو بااثر طبقے نے کیپچر کر رکھا ہے ،1960سے متاثرین سے دربدردھکے کھارہے ہیں،چیف جسٹس اطہر من اللہ سی ڈی اے پر برہم

سی ڈی اے کو بااثر طبقے نے کیپچر کر رکھا ہے ،1960سے متاثرین سے دربدردھکے کھارہے ...
سی ڈی اے کو بااثر طبقے نے کیپچر کر رکھا ہے ،1960سے متاثرین سے دربدردھکے کھارہے ہیں،چیف جسٹس اطہر من اللہ سی ڈی اے پر برہم

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)کے ای 12 اور دیگر سیکٹرز کے متاثرین کو معاوضہ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سی ڈی اے وکیل اور نمائندہ سی ڈی اے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ سی ڈی اے کو بااثر طبقے نے کیپچر کر رکھا ہے ،عام آدمی کےلئے آپ کام نہیں کرتے،1960سے متاثرین سے دربدردھکے کھارہے ہیں،ایک خاتون بیوہ ہے اس کو ای 12 کے بجائے ڈی 12 میں پلاٹ کیوں نہ ملے ،اسلام عورتوں کو حق دیتا ہے سی ڈی اے اپنی لسٹ سے ان کو نکال رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں کے ای 12 اور دیگر سیکٹرز کے متاثرین کو معاوضہ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،عدالت نے استفسار کیا کہ سی ڈی اے کی پالیسی کیا اور ابتک معاوضے کیوں نہیں دیئے گئے؟جب سے سی ڈی اے بناتب سے ابتک کی ساری پالیسز جمع کرائیں ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ متاثرین کےلئے معاوضوں کی کتنی ادائیگیاں زیر التوا ہیں؟،وکیل سی ڈی اے نے کہاکہ اسلام آباد کے تو ابھی معلوم نہیں متعلقہ محکمہ ہی بتا سکتا ہے،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ آپ کو معلوم نہیں تو پھرچیئرمین سی ڈی اے کو بلا لیتے ہیں۔

عدالت نے سی ڈی اے وکیل اور نمائندہ سی ڈی اے پر اظہار برہمی کیا،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ سی ڈی اے کو بااثر طبقے نے کیپچر کر رکھا ہے ،عام آدمی کےلئے آپ کام نہیں کرتے،1960سے متاثرین سے دربدردھکے کھارہے ہیں،ایک خاتون بیوہ ہے اس کو ای 12 کے بجائے ڈی 12 میں پلاٹ کیوں نہ ملے ،اسلام عورتوں کو حق دیتا ہے سی ڈی اے اپنی لسٹ سے ان کو نکال رہا ہے،سی ڈی اے بڑے سیکٹرز میں پلاٹس کی سہولت عام آدمی کو کیوں نہیں دیتا؟جن سے زمینیں لی گئیں ان کیلئے تھکے ہوئے سیکٹرز ہی کیوں؟ایف اورای سیکٹرز میں عام آدمی کو پلاٹ کیوں نہیں دیا جاسکتا۔عدالت نے وفاقی دارالحکومت کے متاثرین کے زیر التوا معاوضوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -