امریکہ میں ہنگامے شدت اختیار کرگئے، 4پولیس والوں کو گولی ماردی گئی، سڑکوں پر بدامنی کا راج

امریکہ میں ہنگامے شدت اختیار کرگئے، 4پولیس والوں کو گولی ماردی گئی، سڑکوں پر ...
امریکہ میں ہنگامے شدت اختیار کرگئے، 4پولیس والوں کو گولی ماردی گئی، سڑکوں پر بدامنی کا راج

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ریاست منیسوٹا کے شہر منیپولیس میں پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شہری کی ہلاکت پر شروع ہونے والے ہنگاموں نے پورے امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور شہر شہر سڑکوں پر بدامنی کا راج ہے۔ ان ہنگاموں کو سات روز گزر چکے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں شدت آ رہی ہے۔ گزشتہ روز ویگاس اور سینٹ لوئس میں چار پولیس اہلکاروں کو گولیاں مار دی گئیں۔ ویگاس میں پولیس آفیسر کو سر میں گولی ماری گئی جس سے اس کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی۔بفیلو میں ایک جگہ پولیس آفیسرز مظاہرین کو روکنے کے لیے کھڑے تھے کہ مظاہرین میں سے ایک شخص نے گاڑی آفیسرز پر چڑھا دی جس سے 2آفیسرز شدید زخمی ہو گئے۔

میل آن لائن کے مطابق نیویارک سمیت درجنوں شہروں میں لوٹ مار بھی جاری ہے اور مختلف لگژری برانڈز کے سٹورز لوٹے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں لوگ ان سٹورز کے دروازے اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ کر اندر داخل ہو رہے ہیں اور سامان لوٹ کر جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز ہی وائٹ ہاﺅس کے سامنے ہزاروں مشتعل مظاہرین جمع ہو گئے اور تمام دن وہاں میدان جنگ کا منظر رہا۔ مظاہرین نے وائٹ ہاﺅس کے سامنے موجود تاریخی گرجا گھر سینٹ جانز کو بھی آگ لگا دی۔ رپورٹ کے مطابق اب تک سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، 40سے زائد شہروں میں کرفیو لگایا جا چکا ہے۔جگہ جگہ مظاہرین اور پولیس آفیسرز میں جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

واشنگٹن میں ملٹری پولیس کی بٹالین بھی تعینات کر دی گئی ہے اور صدر ٹرمپ کی طرف سے پورے ملک میں فوج کو تعینات کرنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ منیپولیس میں پولیس نے جارج فلوئیڈ نامی سیاہ فام شہری کو گرفتار کیا تھا اور ایک آفیسر نے اسے زمین پر لٹا کر اس کی گردن پر گھٹنا دیئے رکھا جس سے اس کی سانس بند ہو گئی اور وہ ہلاک ہو گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد ہنگامے شروع ہوئے جن کا دائرہ اب پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -