ٹڈی دل نے ملک بھر میں طوفان برپا کردیا، لیکن یہ دراصل کیا ہیں اور آئی کہاں سے؟ آپ بھی جانئے

ٹڈی دل نے ملک بھر میں طوفان برپا کردیا، لیکن یہ دراصل کیا ہیں اور آئی کہاں سے؟ ...
ٹڈی دل نے ملک بھر میں طوفان برپا کردیا، لیکن یہ دراصل کیا ہیں اور آئی کہاں سے؟ آپ بھی جانئے

  

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) ٹڈی دل نے رواں سال پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں حملہ کیا اور لاکھوں ایکڑ پر محیط فصلیں تباہ کر ڈالیں۔ اس کا سب سے بڑا حملہ افریقی ممالک میں ہوا جہاں ان کے غول نے 70سال کی ریکارڈ تباہی مچائی اور فصلیں اور درخت تباہ کیے۔ گلف نیوز کے مطابق ٹڈی دل کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس کا حوالہ بائبل اور قرآن مجید سمیت دیگر آفاقی کتابوں میں بھی ملتا ہے جہاں اسے اللہ کا عذاب قرار دیا گیا ہے۔

ٹڈی دل دراصل عام پائے جانے والے ’گراس ہوپر‘ نامی کیڑے کی نسل سے ہیں تاہم ان کی ٹانگیں اس کی نسبت زیادہ لمبی ہوتی ہے جس کی بدولت یہ زیادہ اونچا اور لمبا جمپ لگا سکتی ہیں۔ ٹڈی دل کا واحد مقصد کھانا ہوتا ہے۔ ان کا ایک درمیانے سائز کا غول ایک دن میں 200کلوگرام سے زائد فصلوں اور پودوں کو کھا جاتا ہے۔ یہ صرف فصلوں اور پودوں کے لیے ہی نقصان دہ ہوتی ہیں۔ ان سے انسانوں اور جانوروں کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ نہ تو یہ انسانوں اور جانوروں پر براہ راست حملہ کرتی ہیں اور نہ ہی ان کے ذریعے کوئی خطرناک وائرس پھیلتا ہے۔ نم دار مٹی ا ن کی افزائش کے لیے بہترین جگہ ہوتی ہے جہاں یہ انڈے دیتی ہیں۔ ان انڈوں سے چند ہفتوں میں ہی بچے نکل کر جوان ہو جاتے ہیں اور پھر یہ ایک ساتھ غول کی شکل میں اڑنا اور فصلوں کو تباہ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ نیشنل جیوگرافک کے مطابق یہ غول ہزاروں میل کا سفر کرکے ملکوں ملکوں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

مزید :

عرب دنیا -