ملک کا وہ بڑا صوبہ جہاں پیٹرول کی  قلت پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا،شہریوں کے لئے پریشان کن خبرآگئی

ملک کا وہ بڑا صوبہ جہاں پیٹرول کی  قلت پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا،شہریوں ...
ملک کا وہ بڑا صوبہ جہاں پیٹرول کی  قلت پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا،شہریوں کے لئے پریشان کن خبرآگئی

  

کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان میں نجی کمپنیوں نے پیٹرول کی سپلائی معطل کر دی ہے جس سے صوبے بھر میں پٹرول کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جبکہ کوئٹہ میں پمپ مالکان کی ملی بھگت نے عوام کو سستے داموں پیٹرول کی فروخت بند کر دی ہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

نجی ٹی وی کےمطابق بلوچستان پٹرولیم ایسوسی ایشن کے صدر قیام الدین آغا نے بتایا کہ نجی کمپنیوں نے بلوچستان کے پیٹرول پمپس کو پیٹرول کی سپلائی سے انکارکردیاہے،صرف پاکستان سٹیٹ آئل کی جانب سےپیٹرول فراہم کیاجارہاہے۔قیام الدین آغا نے بتایا کہ بلوچستان میں رجسٹرڈ پیٹرول پمپس کی تعداد250سےزائدہےاورہرپیٹرول پمپ کےپاس25ہزارلیٹر پیٹرول ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے تاہم اس وقت صرف 10 ہزار لیٹر پیٹرول مل رہا ہے۔صدر پیٹرولیم ایسویسی ایشن نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی سپلائی میں تعطل کا نوٹس لیا جائے تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یاد رہے کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پٹرول پمپ مالکان کی ہٹ دھرمی جاری ہے اورپٹرول سستا ہونے کے بعد سے شہر بھر کے پٹرول پمپس بند کر دیے گئے ہیں اور شہر میں پٹرول کی مصنوعی قلت پیدا ہو گئی ہے،پٹرول کی قلت کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ حکومتی مشینری کی ناکامی کے باعث ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھی مکمل خاموشی  دکھائی دے رہی ہے۔یاد رہے کہ اوگرا کی سفارش پر پٹرولیم مصنوعات کی کمی بعد گذشتہ روز سے ہی  مالکان نے پٹرول پمپ بند کردیئے ہیں جس کی وجہ سے کوئٹہ کے شہری پٹرول کی تلاش میں دن بھر شدید گرمی میں سرگرداں رہے، اکادکا پٹرول پمپ کھلے رہے جن پر گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں تھیں۔شہریوں نے حکومت سے پمپ مالکان اور نجی کمپنیوں کی ملی بھگت کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید :

علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -