”کہیں فنڈنگ کیلئے جاتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ بھیک مانگ رہے ہیں“ کراٹے میں سبز ہلالی پرچم بلند کرنے والے سعدی عباس نے دل کا حال سنا دیا

”کہیں فنڈنگ کیلئے جاتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ بھیک مانگ رہے ہیں“ کراٹے میں ...
”کہیں فنڈنگ کیلئے جاتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ بھیک مانگ رہے ہیں“ کراٹے میں سبز ہلالی پرچم بلند کرنے والے سعدی عباس نے دل کا حال سنا دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے ٹاپ کراٹیکا سعدی عباس نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے علاوہ کسی اور کھیل سے وابستہ ایتھلیٹس کو کوئی نہیں پوچھتا، کہیں فنڈنگ کیلئے جاتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ بھیک مانگ رہے۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں ایشین اور کامن ویلتھ کراٹے چیمپئن شپ میں گولڈ میڈلز جیتنے والے پاکستان کے ٹاپ کراٹیکا نے پاکستان میں دیگر کھیلوں سے وابستہ کھلاڑیوں کا حال بیان کیا اور جذباتی انداز میں کہا کہ اگر یہی حال رہا تو کھلاڑی کیسے محنت کریں گے؟

سعدی عباس نے کہا کہ صوبائی حکومت ہو یا وفاقی حکومت یا پھر نجی کمپنیاں،کرکٹ کے علاوہ کسی پر پیسہ لگانے کو کوئی تیار نہیں، جو کرکٹ پر کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں ، وہ کسی اولمپک کوالیفائرز پر 15،20 لاکھ کی سپانسرشپ پر بھی تیار نہیں ہوتے، کہیں فنڈنگ کیلئے جائیں تو یوں لگتا ہے کہ بھیک مانگ رہے ہیں۔

ایک سوال پر سعدی عباس نے کہا کہ اگر وہ کرکٹر ہوتے تو زندگی کافی مختلف ہوتی، پاکستان سے نہیں بھی کھیلتے تو لیگز اور دیگر ایونٹس کھیل کر اچھا پیسہ بنالیتے۔جب میں نے کیریئر شروع کیا تو اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے دبئی سے پاکستان آتا تھا، اس وقت ساتھی ایتھلیٹس کہتے تھے کہ کیوں اپنی جیب سے خرچہ کررہے ہو۔

سعدی عباس نے بتایا کہ دنیا کی ٹیمیں جب ٹورنامنٹس میں شرکت کیلئے جاتی ہیں تو کھلاڑیوں کیلئے سارا بندوبست کیا جاتا ہے، ہوٹلز بہترین ہوتے ہیں، کوچز ہوتے ہیں، ڈاکٹرز ہوتے ہیں جبکہ ہماری ٹیم کے دوروں میں پیسے بچانے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے پلیئرز کے حوصلے متاثر ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایشین گیمز کے دوران ملک کیلئے میڈل کی جدوجہد کے دوران میرا گھٹنا خراب ہوا لیکن کسی نے علاج کیلئے پوچھا تک نہیں، فائٹ کے موقع پر بھی کورین ٹیم کے ڈاکٹرز نے مدد کی تھی۔میں پاکستان میں کراٹے لیگ کرانا چاہتا ہوں لیکن سپانسرشپ اب تک نہیں ملی، اگر کراٹے لیگ ہوئی تو اس سے پاکستان میں کھیل کو بہت فائدہ ہوگا۔

مزید :

کھیل -