لاہورگیریژن یونیورسٹی میں  ایک یاد گار محفل مشاعرہ

لاہورگیریژن یونیورسٹی میں  ایک یاد گار محفل مشاعرہ

  

ڈاکٹر محمد اشرف کمال

 لاہورگیریژن یونیورسٹی لاہور میں گزشتہ دنوں ایک یاد گار محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت اردو کے معروف شاعر جناب امجد اسلام امجد نے کی۔اس محفل مشاعرہ میں ملک بھر سے معروف شعراء نے شرکت کی اور اپنے کلام پیش کیا۔یہ محفل مشاعرہ اس حوالے سے یادگار رہی کہ اس میں شامل تمام شعرا کے کلام کو سامعین نے خوب سراہا اور لطف اٹھایا۔

 تلاوت کلام پاک کے بعد نعت رسول مقبول پیش کی گئی۔جناب وائس چانسلر لاہور گیریژن یونیورسٹی لاہور جناب میجر جنرل شہزاد سکندر (ر)اور صدر مشاعرہ جناب امجد اسلام امجد نے مل کر مشاعرہ کے لیے شمع روشن کی۔

محترمہ شاہین زیدی،محترمہ ڈاکٹر صائمہ ارم، ڈاکٹر تنویر صاحب، ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے بھی کلام پیش کیا۔

اس پر یقین کے سوا چارہ کوئی نہ تھا

وہ جھوٹ بولتا تھا بڑے ہی کمال کے

محترمہ صائمہ کامران

خوبصورت ہے زمین وآسماں ترتیب سے

حسنِ فطرت نے بنایا ہے جہاں ترتیب سے

ڈاکٹر شاہد اشرف

میں انقلاب پسندوں کی اک قبیل سے ہوں 

جو حق پہ ڈٹ گیا اس لشکرِ قلیل سے ہوں 

میں یونہی دست وگریباں نہیں زمانے سے

میں جس جگہ پہ کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہوں 

ڈاکٹر اشرف کمال

لب خموش مرا بات سے زیادہ ہے

ترا فراق ملاقات سے زیادہ ہے

یہ اک شکست جو ہم کو ہوئی محبت میں 

زمانے بھر کی فتوحات سے زیادہ ہے

بہت ہی غور سے سنتا ہوں دل کی دھڑکن کو

یہ اک صدا سبھی اصوات سے زیادہ ہے

ڈاکٹر طارق ہاشمی

خوابوں سا کوئی خواب بنانے میں لگی ہوں 

اک دشت میں ہوں پیاس بجھانے میں لگی ہوں 

بتلاؤ کوئی اسم مجھے رد بلا کا

میں آخری کردار نبھانے میں لگی ہوں 

ڈاکٹر شاہدہ دلاور 

ترتیب سے رکھے ہیں خوابوں کے جنازے

تقریب تری یاد کی کمرے میں بپا تھی 

تو جو زلفوں کو جھٹکتا ہے معلوم ہے تجھ کو

اک اودھم سا مرے دل میں مچایا ہوا ہے

ناصر علی سید

جو میسر ہے یہاں جتنا بھی اس پار نہ ہو

ایسی جلدی میں ادھر جانے کو تیار نہ ہو

دیکھ سوداگریِ دنیا کہ کچھ دیرکے بعد

تو طلب گارِ تماشا ہو تو بازار نہ ہو

ڈاکٹر عابد سیال

اب تو لازم ہے اضافہ مری مشکلات میں 

جب سے تم شامل ہوئی ہو مرے معمولات میں 

تم نے جب سوچ لیا ہے جدا ہونا ہے

میرے بارے میں نہ سوچو کیا ہونا ہے

بالوں میں اترے ہوئے چاندی کے اجالے 

گردِ مہ وانجم کی نشانی کی طرح ہیں 

ڈاکٹر محمد کامران

بلا آئی ہوئی سر، ٹال دی ہے

گلے تیرے محبت ڈال دی ہے 

تھرکتا ہی چلا جاتا ہے یہ دل

محبت نے تری، وہ تال دی ہے

ڈاکٹر عارفہ شہزاد

میرے شعروں میں جو بھی ندرت ہے

اس میں شامل تری محبت ہے

لوگ کہتے ہیں کہ ہر شب کی سحر ہوتی ہے

سایہ مٹ جاتا ہے اور نقش سنور جاتا ہے

ڈاکٹر محمد خاں اشرف 

دل کے آنگن میں کوئی شمعیں جلاتا کب تھا

ہم نہ ہوتے تو اندھیرا بھی جاتا کب تھا

جانے کس لمس نے حرارت بھر دی

شعر میرا کسی پتھر کو رُلاتا کب تھا

ڈاکٹر نذر عابد

آیا ہوں کہاں سے میں سرِ شام  نہ پوچھا

بستی کے چراغوں نے مرا نام نہ پوچھا

جاتے ہیں کسی گھر میں تو لیتے ہیں اجازت

تو نے مگر اے گردشِ ایام نہ پوچھا

اس کو آنکھیں بنانے کا ہنر آتا ہے

جیسے تقریب ہوئی ویسی بنالیں آنکھیں 

جناب عزیز اعجاز۔پشاور

پرندے کس ٹھکانے لگ گئے ہیں 

بکھرنے آشیانے لگ گئے ہیں 

اب اس گھر کی کہانی اور ہوگی

اب اس کے بچے کمانے لگ گئے ہیں 

اس گھڑونچی پہ محبت کا گھڑاسجتا ہے

دل پہ سامان زمانہ کبھی رکھا ہی نہیں 

ڈاکٹر حمیدہ شاہین

رخصت ہوا تو بات مری مان کر گیا 

جو اس کے پاس تھا وہ مجھے دان کرگیا

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت کی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

خالد میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان

وہ شخص آخرش مجھے بے جان کرگیا

جناب خالد شریف

دل عجب وسوسوں میں رہتا ہے

آئنہ پتھروں میں رہتا ہے

واہمے کے سوا یہ کچھ بھی نہیں 

چاند کب پانیوں میں رہتا ہے

مری وفاؤں پہ ایمان تھا جسے بالغیب

اب اس کے دل میں بھی ہیں بدگمانیاں کیا کیا

ڈاکٹر فخرالحق نوی

صندلیں زمیں اپنی مرمریں مکاں اپنا

کون مرنا چاہے گا چھوڑ کر جہاں اپنا

مہر کے تماشے ہیں ماہ کے مناظر میں 

رہنا مستقل ہوتا ان کے درمیاں اپنا.

منحرف زباں سے ہم ہوگئے تو پھر کیا ہے

اس نے بھی تو بدلا ہے بارہا بیاں اپنا

ڈاکٹر سعادت سعید

کہاں آ کے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا

وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا

وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں 

دل بے خبر مری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا

میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں تری آس تیرے گمان میں 

صبا کہہ گئی مرے کان میں مرے ساتھ ٓ اسے بھول جا

جناب امجد اسلام امجد

صدر مجلس جناب امجدا سلام امجد نے جناب وائس چانسلر لاہورگیریژن یونیورسٹی لاہور کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ہمیں موقع دیا کہ ایک خوبصورت محفل مشاعرہ میں شامل ہوئے۔ اس قسم کی محفلیں بچوں کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے بھی اہم ہیں۔ 

آخر میں وائس چانسلر لاہورگیریژن یونیورسٹی لاہور جناب میجر جنرل شہزاد سکندر (ر)نے محفل مشاعرہ میں شامل ہونے والے تمام شعراء اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا مشاعرہ ہے اور اب یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔

اس قسم کی محفلیں طلباء کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے بہت اہم ہیں 

مزید :

ایڈیشن 1 -