پاکستان، ترکی کے مابین 7معاہدوں پر دستخط، عوام کی خوشحالی کیلئے اقتصادی تعاون ہماری ترجیح، طیب اردوان تجارتی، اقتصادی شراکت داری بڑھانے کے خواہاں ہیں: شہباز شریف

پاکستان، ترکی کے مابین 7معاہدوں پر دستخط، عوام کی خوشحالی کیلئے اقتصادی ...

  

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز انقرہ میں  ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی جاس میں باہمی دلچسپی  کے مختلف امور علاقائی، بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ترکی کے صدارتی محل پہنچنے پر وزیر اعظم شہباز شریف کا ترک صدر نے خود استقبال کیا جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے  رجب طیب  اردوان نے بتایا  وزیراعظم شہباز شریف سے عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا،دونوں ممالک دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کیلئے پر عزم ہیں، دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، مختلف فورمز پر پاکستان اور ترکی یکساں مؤقف رکھتے ہیں، پاکستان سے ترکی کے انتہائی قریبی دوستانہ تعلقات ہیں۔ترک صدر نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی حمایت کرتے ہیں، بحری جہازوں کی تیاری میں ہر ممکن تعاون فراہم کر رہے ہیں، مواصلات، تعلیم، ماحولیات، انفرا ا سٹرکچر کے شعبے میں قریبی تعاون ہے۔طیب اردگان نے کہا کہ عوام کی خوشحالی کیلئے اقتصادی تعاون ترجیح ہے، عالمی فورمز پر پاکستان کی بھرپور حمایت پر شکرگزار ہیں، پْر امن اور خوشحال افغانستان خطے کے مفاد میں ہے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان عوام کو بھرپور امداد فراہم کی گئی۔ترک صدر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے اصولی مؤقف پر ترکی پاکستان کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ترکی پاکستان کے دوسرے گھر جیسا ہے، پاکستان اور ترکی 75 سالہ تعلقات کی سالگرہ منا رہے ہیں، ترکی نے ای کامرس اور دیگر شعبوں میں بھرپور ترقی کی ہے، ترکی اور پاکستان قدرتی شراکت دار ہیں، پاکستان اور ترکی کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور تاریخی تعلقات ہیں،مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بلندیوں پر لے جائیں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستانی عوام کشمیر تنازع پر ترکی کی حمایت کا خیر مقدم کرتے ہیں، پاکستانی عوام کشمیر تنازع پر ترکی کے واضح مؤقف پر مشکور ہیں، پاکستان حق خود ارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاک ترک اعلیٰ قیادت میں آئندہ ملاقات ستمبر میں پاکستان میں ہوگی، ستمبر میں ترک صدر کے دورہ پاکستان کے منتظر ہیں، ترکی کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں، ترکی اور پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کو پناہ دیے ہوئے ہیں، پاکستان ترکی کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، پاکستان امن کا خواہاں ہے اور خطے میں امن کیلئے کام کرتا رہے گا۔وزیر اعظم کے دورہ ترکی میں پاکستان اور ترکی کے درمیان 7 معاہدوں  اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔پاکستان اور ترکی کے درمیان نالج شیئرنگ پروگرام کے فریم ورک کی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔پاکستان اور ترکی کے درمیان ہائی وے انجینیئرنگ، دو طرفہ تجارت اور معاشی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے ایم او یو پر دستخط ہوئے۔اس کے علاوہ پاکستان اور ترکی میں تکنیکی معاونت کے  پروٹوکول، قرضوں کی منیجمنٹ میں تعاون، پاک ترک ماحولیاتی تبدیلی کے مشترکہ فریم ورک  اور پاکستان اور ترکی کے درمیان پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ بڑھانے کے معاہدے کے ایم او یوز  پر بھی دستخط ہوئیوزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ گزشتہ حکومت نے پچھلی حکومتوں کے تمام منصوبوں کو سیاسی دشمنی میں تباہ کیا،افسوس اور دکھ کا مقام ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری روکنے کی مزموم سازش کی گئی،تمام سرمایہ کاروں کے مسائل کو حل کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،میں نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے معاہدے میں 90 ملین ڈالر بچائے۔بدھ کو وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ترکی کے دارلحکومت انقرہ میں ترک سرمایہ کاروں سے علیحدہ،علیحدہ ملاقاتیں کیں۔وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سیاہ قلم انجنیئرنگ کے وفد کی صدر Cengiz Ozdemir کی قیادت میں ملاقات کی۔ملاقات میں وزیرِ اعظم کی قیادت میں موجودہ حکومت کے پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کیلئے اقدامات پر اعتماد کا اظہارکیا۔ملاقات میں سیاہ قلم کی طرف سے سولر، ونڈ، پن بجلی، ویسٹ مینجمنٹ اور  ہاوسنگ کے منصوبوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔بعد ازاں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے آرچیلک (Arçelik) کے وفد کی چیف کمرشل آفیسر Can Dinçer کی قیادت میں ملاقات کی۔ملاقات وزیرِ اعظم کو حکومت کی طرف سے پاکستان مین بیرونی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔بعد ازاں وزیرِ اعظم سے زورلو انرجی ترکی کے وفد کی سی ای او Sinan Ak کی قیادت میں ملاقات کی۔ملاقات میں وزیرِ اعظم کو پاکستان میں زورلو کی انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کے بارے میں آگاہ کیا۔اسکے علاوہ وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا گیا کہ چار سال سے گزشتہ حکومت کی غفلت کی وجہ سے جن منصوبوں پر کام رکا ہوا تھا انکو اس حکومت کے آتے ہی شروع کیا گیا،جو وزیرِ اعظم شہباز شریف کے پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کو ترجیح دینے کا ثبوت ہے۔بعد ازاں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے البیراک (Albayrak) کے وفد کی صدر احمد البیراک کی صدارت میں ملاقات کی۔وزیرِاعظم شہباز شریف سے ترک وزیر خارجہ میولیود چاؤش اولو نے آج (بدھ کو) ملاقات کی۔ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کے مزید فروغ پر تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات میں پاکستان اور ترکی کی اعلیٰ قیادت شریک تھی۔وزیراعظم آفس کے میڈیاو نگ سے جاری بیان کے مطابق قبل ازیں گزشتہ شب وزیراعظم نے ترکی کی یونین آف چیمبرز اینڈ کموڈٹی ایکسچینجز (ٹی او بی بی) کے زیر اہتمام تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ پاکستان اور ترکی کے مابین تجارتی اور اقتصادی شراکت داری بڑھانے کے خواہاں ہیں، دونوں ممالک کی کاروباری برادری آئندہ تین سالو ں کے دوران تجارت میں 5ارب ڈالر سے زائد کے اضافے کا ہدف مقرر کرے،اس ہدف کے حصول کے لئے حکومت ہر ضروری قدم اٹھائے گی۔ وزیراعظم کا خیرمقدم کرتے ہوئے یونین آف چیمبرز کے صدر رفعت حسار سک لیوگلو نے ترکی کے سرمایہ کاروں اور کاروبار شخصیات کی طرف سے پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کرنے میں گہری دلچسپی کااظہار کیا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں پاکستا ن اورترکی کے مابین قریبی برادرانہ تعلقات اور مشکل وقت میں دونوں قوموں کے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی تابندہ روایات کو اجاگر کیا۔ وزیر اعظم نے ترک صدر رجب طیب اردوان کی زبردست قیادت میں ترکی کی غیر معمولی ترقی کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو مختلف شعبوں میں نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کااظہارکیا۔دریں اثناپاکستان اور ترکی نے بینکاری، کسٹمز، زراعت اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تجارت سے متعلق معاملات کے حل کیلئے جامع روڈ میپ تیار کرنے سے متعلق مشترکہ ٹاسک فورس قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور ترکی کے درمیان مصنوعات کی تجارت کے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے نئے مواقع کھلیں گے، کاروباری برادری کو اپنے رابطے بڑھانے چاہئیں اور مشترکہ منصوبوں کیلئے نئے مواقع تلاش کرنے چاہئیں۔ وہ بدھ کو ترک وزیر تجارت ڈاکٹر مہمت موش سے ملاقات کے دوران گفتگو کررہے تھے۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پاکستان اور ترکی کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید وسعت دینے اور کاروبار، تجارت اور سرمایہ کاری کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دورہ ترکی کا مقصد تجارتی و سرمایہ کاری روابط کو مستحکم بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ترکی کی کاروباری برادری کے ساتھ رابطے کو فروغ دینا ہے۔ دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اشیا کی تجارت کے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کی اہمیت کو اجاگر کیا، جس سے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے نئے مواقع کھلیں گے تاکہ دونوں ممالک کی معیشت کو فائدہ ہو۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان رابطے کے منصوبے بالخصوص اسلام آباد-تہران-استنبول (آئی ٹی آئی) کارگو ٹرین دونوں ممالک کے تاجروں کو موثر اور تیزی سے کاروبار کرنے کے لئے اضافی مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری کو اپنے نیٹ ورکنگ کو بڑھانا چاہئے اور مشترکہ منصوبوں کے لئے نئے مواقع تلاش کرنا چاہئیں۔ ملاقات میں ترکی کی وزارت تجارت اور پاکستان کی وزارت تجارت کے تعاون سے ایک مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا تاکہ لاجسٹکس، بینکنگ، کسٹمز اور زراعت سمیت دو طرفہ تجارت سے متعلق معاملات کا احاطہ کرنے کے لئے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا جا سکے۔ ترک وزیر تجارت ڈاکٹر مہمت موش نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی حقیقی صلاحیت کا ادراک کرنے پر وزیراعظم سے اتفاق کیا اور اس سلسلے میں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

پاک ترک معاہدے

مزید :

صفحہ اول -