اسٹیبلشمنٹ نے درست فیصلے نہ کیے تو، فوج تباہ، پاکستان 3ٹکڑے ہو جائیگا: عمران خان 

    اسٹیبلشمنٹ نے درست فیصلے نہ کیے تو، فوج تباہ، پاکستان 3ٹکڑے ہو جائیگا: ...

  

         پشاور(مانیٹر نگ ڈیسک،آئی این پی) سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے درست فیصلے نہ کیے تو فوج تباہ ہو جائے گی اور پاکستان کے تین ٹکڑے ہوں گے۔نجی ٹی وی کو انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھاکہ‘اسٹیلشمنٹ کا مسئلہ ہے، اگر اس وقت اسٹیبلشمنٹ  صحیح فیصلے نہیں کرے گی تو میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں یہ بھی تباہ ہوں گے اور فوج سب سے پہلے تباہ ہوگی کیونکہ ملک دیوالیہ ہوگا‘۔انہوں نے کہا کہ ’کدھر جائے گا ملک میں آپ کو سیکوینس بتا دیتا ہوں یہ جب سے آئے ہیں سٹاک مارکیٹ اور روپیہ گر رہا ہے، چیزیں مہنگی ہو رہی ہیں ڈیفالٹ کی طرف جا رہا ہے، اگر ہم ڈیفالٹ کر جاتے ہیں تو سب سے بڑا ادارہ  جو ہٹ ہوگا وہ پاکستانی فوج، ہے جب فوج ہِٹ ہوگی تو  ہمیں ایٹمی اثاثوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا  اور ہمیں ڈی نیوکلیئرائز کیا جائے گا  کیونکہ پاکستان واحد مسلمان ملک  ہے جس کے پاس ایٹمی اسلحہ ہے جب وہ چلا گیا تو پھر کیا ہوگا‘۔ان کا کہنا تھاکہ ’میں آج کہتا ہوں پاکستان کے تین حصے ہوں گے جو کہ آپ ہندوستان کے تھنک ٹینکس میں دیکھ لیں ان کے منصوبے بنے ہوئے ہیں، اس وقت  اگرصحیح فیصلے نہیں کیے جائیں گے ملک خودکشی  کی طرف چلا جائے گا اس سے قبل ایک اور انٹرویو میں دریں اثناچیئرمین تحریک انصاف عمران خان عام انتخابات کے اعلان کیلئے حکومت کو دی گئی 6روز کی ڈیڈ لائن سے پیچھے ہٹ گئے۔عمران خان نے پشاور میں سوشل میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کیلئے فیصلہ کن وقت ہے اور انصاف کی جنگ ہے، اس جدوجہد کوسیاست نہیں،جہاد سمجھیں، حکومت کوشش کررہی ہے لوگوں کو ڈرائے دھمکائے، لوگوں پر گولیاں برسانے کا مقصد خوف پھیلانا تھا، جو شیلز دہشت گردوں پر استعمال کیے جاتے ہیں، وہی مارچ میں استعمال ہوئے۔عمران خان  نے کہا کہ 30سال سے جرم کرنے والے آج اوپر آکر بیٹھ گئے ہیں، شہباز شریف،رانا ثنااللہ نے دن دیہاڑے 14لوگوں کا قتل کیا، ماڈل ٹاؤن میں 14قتل ہوئے ان لوگوں کو اس وقت جیل میں ہونا چاہیے، لٹیروں اور قاتلوں کو شکست دے دی تو پاکستان اوپر چلا جائے گا۔چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ آج سپریم کورٹ میں ہم نے درخواست دائر کردی ہے، سپریم کورٹ سے تحفظ چاہتے ہیں کہ کیا ہمیں پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے اور کیا عدلیہ ان مجرموں کو خواتین اور بچوں پر تشدد کی اجازت دے سکتی ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ہی اعلان کروں گا اور پھر ہم نکلیں گے، عدالتیں کمزور کو تحفظ دینے کیلئے بنتی ہیں، اس بار ہم تیاری کرکے جائیں گے اور پچھلی غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔عمران خان نے مزید کہا کہ سب سے بزدل ظالم ہوتا ہے، طاقتور بڑے نہیں چھوٹے چور پکڑتے ہیں، عدالتیں کمزوروں کو طاقتور کرنے کے لیے بنتی ہیں، اللہ کسی کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ کہے کہ میں نیوٹرل ہوں۔انہوں نے کہا کہ  ملک کے لیے فیصلہ کن وقت ہے، طاقتور خود کو قانون سے بالا تر سمجھتا ہے، امپورٹڈ حکومت کیخلاف جدوجہد کو سیاست نہیں جہاد سمجھیں۔ حق کے راستے پر چلتے ہیں تو بات ذات سے بہت آگے نکل جاتی ہے، ان چوروں کیساتھ کبھی نہ کبھی جنگ لڑنی پڑے گی، جس طرح ظلم کر کے شیلنگ کی گئی یہ جنرل ڈائر کر سکتا ہے، پاکستان کے 62سالوں میں 30سال فوج نے اور 30سال ان دو خاندانوں نے حکومت کی، انصاف کی ضرورت تو کمزور کو ہے، طاقتور تو خود قانون سے بالاتر ہے، ہم ان لوگوں کو شکست دیں گے تو پاکستان اوپر چلا جائے گا۔سوشل میڈیا ٹیم سے ملاقات کے دوران عمران خان نے اپنے پشاور میں قیام کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت بنی گالہ سیل کر کے مجھے نظر بند کرنا چاہتی تھی، حکومت کسی بھی طرح ہماری تحریک کو ناکام کرنا چاہتی ہے، مجھے نظر بند کرتے تو غیر موجودگی میں عوام کا حوصلہ کم پڑ سکتا تھا۔ چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ لانگ مارچ والے دن مافیا سٹائل کا آپریشن ہوا،جس میں پولیس اہلکار گھروں میں گھس گئے، عورتوں کو خوفزدہ کیا،ڈکٹیٹر شپ میں ایسی کوئی حرکت نہیں ہوئی، رانا ثنا اللہ اور شہباز شریف نے ماڈل ٹاؤن میں دن دہاڑے ٹی وی کے سامنے لوگوں کو گولیاں ماریں، 14قتل کئے، 70سے 80لوگوں کو گولیاں لگیں، ساڑھے تین سال میں اپنے دور میں کوشش کرتا رہا، طاہرالقادری کے میسیجز آتے تھے، لیکن اس پر سٹے آرڈر ملا ہوا تھا عمران خان نے کہا  جب 25کی صبح ہم جب نکلے تو سپریم کورٹ کی ایک رولنگ آئی، جس میں کہا گیا کہ اب راستے بھی کلئیر کردو، اور جن لوگوں کو پکڑا ہوا ہے ان لوگوں کو بھی چھوڑ دو، جو ہمارا حق ہے پرامن احتجاج کا۔ جس کے بعد ہم پرسکون ہوگئے اور سمجھے کہ اب آرام سے نکل جائیں گے۔لیکن مجھے سوچنا چاہئے کہ ہمارا مقابلہ مافیاز کے ساتھ ہے، یہ مجرم ہیں اس قوم کے، 30سال سے اس ملک پر ظلم کر رہے ہیں، لوٹ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مافیا اسٹائل یہ ہوتا ہے کہ یا تو وہ لوگوں کو خرید کر اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں یا انہیں ختم کر دیتے ہیں، دہشت پھیلاتے ہیں اور جھوٹے کیسز کرتے ہیں، مار پیٹ کرتے ہیں تاکہ لوگ ان سے ڈر جائیں۔اس دن اور اس سے ایک دن پہلے جو مافیا اسٹائل آپریش ہوا جس میں یہ گھروں میں گھس گئے، عورتوں کو خوفزدہ کیا۔ یہ ایک میجر کے گھر چلے گئے جہاں اس کی ماں اور دس سال کی بیٹی تھی۔ کونسا ملک اس طرح کی حرکتیں کرتا ہے جو انہوں نے اس رات کیں۔عدلیہ کی آزادی کی تحریک کے دوران جب مجھے ساتھ آٹھ دن کے لیے جیل میں ڈالا گیا وہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، یعنی ڈکٹیٹر شپ میں ایسی کوئی حرکت نہیں ہوئی جس ان لوگوں نے کی۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -