حکومت شوگر ملز مالکان کو چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے پر رضا مند، جلد اجازت ملنے کاامکان 

      حکومت شوگر ملز مالکان کو چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے پر رضا مند، جلد ...

  

      لاہور (جاوید اقبال)حکومت اور شوگر ملز مالکان میں چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت کے حوالے سے برف پگھل گئی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں حکومت شوگر ملز مالکان کو چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دے دے گئی بتایا گیا ہے کہ شوگر مل مالکان نے  ملک کے اندر چینی سستی کرنے کے لئے چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت مانگی تھی اور چینی سستی کرنے کے لئے ایکسپورٹ کی  اجازت کی شرط رکھی تھی  ذرائع نے بتایا ہے کہ مل مالکان  چینی  مارکیٹ میں 70 روپے کلو کے حساب سے فروخت کرنے کے لیے تیار ھین  لیکن اس سے قبل انھیں حکومت بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت دے  ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت نے   شوگر ملز مالکان سے کہا تھا کہ مارکیٹ میں چینی 70 روپے کلو کے حساب سے فروخت کرنے کا انتظام کرے ذرائع نے بتایا ہے کہ شوگر ملز مالکان نے پہلے انکار کیا بعدازاں جب حکومت سے مذاکرات ہوئے تو مل مالکان نے اپنی ایسوسی ایشن کے ذریعے حکومت کے سامنے شرط رکھ دی یہ اس کے لئے حکومت کو ملز مالکان کو اپنی چینی بیرون ملک فروخت کرنے کی اجازت دینا ہوگی کا کہنا ہے کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں انہیں بتایا کہ پاکستان کی جتنی اگر وہ ایکسپورٹ کریں گے تو دنیا میں اس کی قیمت پاکستانی روپوں میں ایک سو پچیس روپے سے ڈیڑھ سو روپے تک فی کلو گرام ملے گی اس حساب سے بیرون ملک پارٹیز  ان سے  پاکستانی چینی لینے کے لیے تیار ہیں پاکستان میں حکومتی ڈیمانڈ پر  68 روپے اور 70 روپے فی کلو گرام کے حساب سے چینی فروخت کر سکتے ہیں مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ اس سے قبل حکومت انہیں ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے اور پاکستان کی ملوں کے پاس پاکستان کے عوام کی ضروریات سے زائد لاکھوں ٹن چینی ضرورت سے زائد موجود ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پر حکومت اور شوگر مل مالکان میں مذاکرات کامیاب ہو چکے ہیں اور حکومت ہے بہت جلد ہے مل مالکان کو پاکستانی ضرورت سے زائد چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دے دی گئی اس سلسلے میں شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حالات سازگار کرنے کے لئے اور ماحول بنانے کے لئے مہم شروع کردی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ  مل مالکان چینی ایکسپورٹ کی  اجازت ملتے ہیں ملک کے اندر چینی کی قیمت کم کردیں گے اور اپنا یہ وہ نقصان جینی ایکسپورٹ کرکے پورا کریں گے۔

چینی برآمد

مزید :

صفحہ اول -