دریائے سوات میں آبی حیات کو غیر قانونی مائننگ سے سنگین خطرات لاحق

دریائے سوات میں آبی حیات کو غیر قانونی مائننگ سے سنگین خطرات لاحق

  

پشاور (سٹاف رپورٹر)دریائے سوات کی حدود میں غیر قانونی ما ئننگ پر پابندی میں دفعہ 144 کے تحت 60 دنوں کے لئے مزید توسیع کی گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سوات جنید خان کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ سوات کی جانب سے دریا کی حدود میں جاری غیر قانونی ما ئننگ بشمول بجری اور ریت نکالنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس پابندی کا اطلاق کیا گیا تھا۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی ما ئننگ اور کھدائی کی وجہ سے دریائے سوات کے اندر آبی حیات کو سخت خطرات لاحق ہیں اور ساتھ ہی ساتھ جابجا کھدائی والی جگہوں پر پانی کھڑا ہونے سے ڈینگی اور ملیریا جیسے مچھر پلنے لگے ہیں جس کی وجہ سے ضلع میں صحت کے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔ حکم نامے میں غیر قانونی ما ئننگ کو حفاظتی پشتوں، پلوں اور پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے کی وجہ گردانا گیا ہے اور کہا گیا ہے کھدائی سے مون سون میں سیلابی صورتحال اختیار ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ حکم نامے میں  مزیدکہا گیا ہے کہ انہی وجوہات کی بناء پر پابندی کا اطلاق لازم ہوگیا تھا۔ پابندی کی خلاف ورزی کی صورت میں  دفعہ 188  تعزیرات پاکستان کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دریں اثناء ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سوات نے ضلع سوات میں کسی بھی قومی شاہراہ، روڈ کے اطراف اور چوکوں پر تعمیراتی مواد، ملبہ،  پتھر اور کرش وغیرہ ڈالنے اورجمع کرنے پر بھی پابندی میں مزید دو ماہ کی توسیع کی ہے۔پابندی میں توسیع دفعہ 144 کے تحت کی گئی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں دفعہ 188  تعزیرات پاکستان کے تحت کاروائی ہوگی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -