لمپی سکن وائرس سے سینکڑوں جانور ہلاک،اقدامات صفر

لمپی سکن وائرس سے سینکڑوں جانور ہلاک،اقدامات صفر

  

 بارہ میل(نامہ نگار) لمپی سکن ایک خطرناک مرض ہے جو کہ پہلے کراچی میں تھی وہاں اس بیماری کی وجہ سے سینکڑوں کے حساب سے جانور مر گئے تھے اب یہ بیماری تیزی (بقیہ نمبر5صفحہ6پر)

سے پھیلتی ہوئی پنجاب میں پہنچ گئی جہاں پر اس نے اپنا اثر دیکھانا شروع کردیا،گذشتہ روز کبیروالا کے مختلف نواحی علاقوں میں متعدد جانور اس بیماری کی لپیٹ میں آ گئے ہیں اور کافی جانور مر بھی گئے ہیں اس کے علاوہ کبیروالا کے مختلف علاقوں میں بھی یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے،اس بیماری کو کنٹرول کرنے میں محکمہ لائیو سٹاک کے ملازمین بری طرح ناکام دیکھائی دیتے ہیں اگر اس پر بروقت کنٹرول نہ پایا گیا تو ممکن ہے زمینداروں مزید بھی جانور متاثر یا ہلاک ہوسکتے ہیں،ویکسی نیشن کے نام پر عطائی وٹرنری ڈاکٹروں ڈاکٹر عابد تھراج،سیف اللہ،ڈاکٹر لیاقت حسین جٹ،ڈاکٹر ندیم،ڈاکٹر ساجد مجید ارائیں و دیگر کی سادہ لوح لوگوں سے لوٹ مار جاری ہے،اہلیان علاقہ محمد نعیم،چوہدری زاہد،چوہدری اکبر،چوہدری محمد حنیف،شمشاد علی،ماسٹر شوکت،غلام نبی،چوہدری اشرف و دیگر نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ صورتحال کا نوٹس لیا جائے اور مذکورہ بیماری پر کنٹرول پانے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کیا جائے تاکہ ہمارے قیمتی جانور ہلاک ہونے سے بچ سکیں،باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ابھی تک سرکاری طور پر لمپی سکن کی کوئی دوائی نہیں آئی،زیادہ تر لوگ اپنے متاثرہ جانوروں کی ویکسینیشن پرائیویٹ طور پر کررہے ہیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -