تیرا فسانہ کیا؟

  تیرا فسانہ کیا؟
  تیرا فسانہ کیا؟

  

گزشتہ ہفتے کے دوران اسرائیل کے حوالے سے پھر خبر گرم ہوئی اور تحریک انصاف کے چیئرمین، سابق وزیراعظم عمران خان نے براہ راست موجودہ حکومت کے خلاف الزام لگا دیا کہ یہ اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہی ہے، اس کا پس منطر کچھ یوں ہے کہ پاکستانیوں کے ایک گروپ نے اسرائیل کا دورہ کیا جس کی تصدیق اسرائیلی صدر نے کی اس پر طوفان برپا ہوا اور سوچے سمجھے بغیر بحث شروع ہو گئی۔ بہرحال حکومت کی طرف سے یہ قدم اٹھایا گیا کہ اس وفد میں شامل ایک شخص کو پی ٹی وی کے تعلق سے فارغ کر دیا، یہ صاحب کافی عرصہ سے قومی ٹیلی ویژن سے منسلک چلے آ رہے تھے۔ اس سلسلے میں لکھنا چاہتا تھا اور تھوڑی سی تحقیق بھی کی تاہم برادرم نصرت جاوید نے جو خارجہ امور کے حوالے سے تجربہ کار بھی ہیں۔ ان حضرت کے بارے میں تفصیل سے ذکر کر دیا، اب اصل حقیقت کچھ یوں ہے کہ جس وفد کا ذکر کیا جا رہا ہے،درحقیقت اوورسیز پاکستانیوں پر مشتمل ہے اور یہ سب امریکی شہری بھی ہیں اور امریکی پاسپورٹ پر ہی اسرائیل کا سفر کیا تھا، میری حیرت یہ ہے کہ اس امر کو نظر انداز کرکے الزام تراشی ہوئی کہ گرین (سبز) پاسپورٹ پر تو اسرائیل کا خانہ ہی نہیں اور کوئی بھی پاکستان یہ خواہش نہیں رکھتا، تاہم امریکہ اور برطانیہ وغیرہ میں مقیم ہمارے پاکستانی بھائی جو دہری شہریت کے حامل ہیں البتہ اپنی اس شناخت کو کہ وہ امریکی ہیں، پاکستانی شہریت کا حوالہ دیتے ہیں یا پھر اسرائیل یا خبر دینے والے کی طرف سے یہ مناسب نہیں جانا گیا کہ اصل حقائق بتائے جائیں۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ یہ امریکی این جی او کا وفد تھا جو اسرائیل کے باقی ممالک سے تعلقات کی حامی ہے اور پی ٹی وی اینکر احمد قریشی کی جو صفات بیان کی گئی ہیں ان کی بنا پر تو ماضی ہی میں ان سے استفادہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بھی رموز مملکت والا مسئلہ ہے کہ محترم کی ہمت افزائی ہوئی یا پھر انہوں نے خود اپنی افادیت ثابت کی۔ برادرم نصرت جاوید نے لبنان پر اسرائیلی حملہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ صاحب تب بھی اسرائیل سے اچھے تعلقات کے حامی  تھے۔(گروپ کی قائد انیلا علی نے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا کہ یہ دورہ پی ٹی آئی کے علم میں تھا اور ان کے ایک ممبر کو وفد میں شامل کرنے کے لئے عمران خان سے اجازت لی گئی)

اب حیرت تو یہ ہے کہ سابق یا موجودہ حکومت کے لئے یہ معمولی مسئلہ ہے، ان میں سے کوئی حکومت بھی اصل حقیقت تک پہنچ سکتی تھی ویسے جہاں تک مجھے یاد ہے تحریک انصاف کی حکومت کے دوران بھی ایسے ہی ایک وفد کے دورہ اسرائیل کی بات ہوئی۔ تصویر شائع ہوئی، تب الزام عمران حکومت پر لگایا گیا اور ان کی طرف سے وضاحت کی گئی کہ یہ کوئی سرکاری وفد نہیں تھا بلکہ امریکی شہریوں نے سفر کیا، اب بھی الزام تو لگایا گیا لیکن یہ غور نہیں کیا گیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اگر کوئی مستقل عمل ہے تو وہ یہ کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا تاآنکہ فلسطینی حکومت باقاعدہ تسلیم نہ کر لی جائے اور فلسطینیوں کو حقوق نہ مل جائیں۔ ایسی صورت حال بھارت کے حوالے سے ہے کہ تنازعہ کشمیر بنیادی مسئلہ ہے اور اس کے حل ہوئے بغیر تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے اگرچہ اسرائیل کے ساتھ پاکستان  کے سفارتی تعلقات نہیں اور بھارت کے ساتھ ہیں۔ یوں میرے خیال میں تو ایسے وفود کے آنے جانے کو پاکستان کا مسلہ نہیں بنانا چاہیے، اگر امریکی یا برطانوی نژاد پاکستانی اسرائیل جائیں تو صرف وضاحت کافی ہے کہ ان کا سرکار سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن یہاں تو اس نان ایشو کو ایشو بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالانکہ اصل اور حقیقی مسائل معاشی اور سماجی ہیں جو اتفاق رائے ہی سے حل ہو سکتے ہیں، اس کے لئے محاذ آرائی ترک کی جانا چاہیے۔ چہ جائیکہ اب عمران خان نئی بات کر دیں کہ جب ان کی حکومت تھی تو ان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے بہت دباؤ تھا، اس طرح وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت بھی دباؤ کا شکار ہو گی۔ اگرچہ سابق وزیراعظم نے نام لینے سے گریز کیا، لیکن ان کے انداز گفتگو سے یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایسا امریکہ کی طرف سے ہوا ہوگا، یوں یہ بحث چل رہی ہے۔

میں مسلسل گزارش کرتا چلا آ رہا ہوں کہ جو اختلاف ہیں، وہ آپ سب کا حق ہے کہ ان کے حوالے سے اظہار کریں لیکن ان کو محاذ آرائی سے دشمنی کی مد تک لے جانا کیسے بہتر ہو سکتا ہے اور یہ فریضہ خود عمران خان نے ذاتی طور پر انجام دیا ہے کہ ابتدا ہی سے ”چوروں اور ڈاکوؤں“ سے بات کرنا تو کجا ان سے ہاتھ ملانا اور ان کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہ کیا، حالانکہ پارلیمانی جمہوریت میں یہ ممکن نہیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں اگر ووٹ لے کر تحریک انصاف کے اراکین ایوان میں آئے تو اسی طرز انتخاب کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن)،پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتوں کے اراکین نے بھی عوامی حمائت ہی سے نشستیں حاصل کیں یا تو محترم خان صاحب جمعیت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمن کی طرح انتخابی عمل کو تسلیم نہ کرتے اور حکومت بنانے کی بجائے نئے انتخابات کی طرف چلے جاتے اور اگر انہوں نے چھوٹی جماعتوں کے تعاون سے حکومت بنا لی تو پھر اس ایوان کو نہ ماننے کا سوال کہاں سے آ گیا کہ اب ایک آئینی طریق کار کے مطابق عدم اعتماد آئی اور خود ان کے حلیف دوستوں کے تعاون سے تحریک عدم اعتماد کامیاب بھی ہو  گئی تو پھر اب اس امر کا کیا جواز ہے کہ آپ قومی اسمبلی سے استعفے دے کر واپس نہ لینے پر بضد ہیں۔ تاہم 2018ء والے انتخابات ہی کے تحت صوبائی اسمبلیوں کو تسلیم کرتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف برسراقتدار ہے۔ پنجاب میں بھی،

لیکن جذباتی فیصلے نے یہاں بھی مختلف فضا بنا دی کہ قومی استعفوں کے ساتھ بزدار سے بھی استعفیٰ لے کر اسے منظوری کے لئے بھیج دیا جو گورنر چودھری محمد سرور نے منظور کر لیا، اسی کے نتیجے میں متحدہ اپوزیشن (حال حکومت) کو موقع مل گیا کہ پنجاب میں بھی حکومت بنا لے، آپ کے ساتھیوں کی ہر ممکن کوشش کے باوجود پنجاب ہاتھ سے نکل گیا کہ جمہوری عمل سے اجتناب کی راہ اختیار کی گئی تاہم یہاں بھی آپ کو یوں مات ہو گئی کہ عدالت عالیہ کے حکم سے نہ صرف وزیراعلیٰ کا انتخاب ہو گیا بلکہ عدالت ہی کے حکم یا ہدایت کے تحت حلف بھی ہو گیا، اس سلسلے میں اگر کپتان غور کریں تو ان کی جماعت کی طرف سے خود چکنی جگہ بنا کر اس سے پھسلنے کا عمل کیا گیا۔ پنجاب اسمبلی میں جو کچھ ہوا، اسے افسوسناک ہی کہا جا سکتا ہے، جہاں تک وزیراعلیٰ کے الیکشن کا تعلق ہے تو اسمبلی کارروائی کی فوٹیج سے بہت کچھ ظاہر ہو اور تمام تر کوشش کے باوجود حمزہ شہباز منتخب ہو گئے، اب ”منحرف اراکین“ کے نااہل ہونے کو جواز بنایا جا رہا ہے اور دوبارہ الیکشن کا مطالبہ ہے۔ حالانکہ نمبرگیم اب بھی حق میں نہیں۔ کیونکہ مطلوبہ اکثریت نہ ملنے پر جب رن آف الیکشن کی باری آئے گی تو حمزہ کے ووٹ پھر بڑھ جائیں گے جولائی میں نااہل ہو جانے والوں کی نشستوں پر ووٹنگ ہونا ہے ان 20نشستوں میں سے متحدہ حکومت جتنی نشستیں بھی حاصل کرے گی وہ بونس ہوگا کہ 25اراکین منحرف ہونے کے باعث نااہل ہوئے تو گنتی کے حوالے سے عمران کی جماعت ہی کو نقصان ہوا، جسے اب ضمنی انتخاب میں حصہ لے کر کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ کیسی پالیسی ہے کہ بات چیت گوارا نہیں، حکومت نا منظور اور پنجاب میں ضمنی انخابات میں بھی حصہ لینے کا فیصلہ ہوا، ماشاء اللہ یہی انقلاب ہے تو اس سے باز آئے۔ میری تو اب خواہش اور استدعا ہے کہ پارلیمانی جموریت کے طریقے پر آ جائیں۔ مذاکرات پر آمادہ ہوں، اسمبلیوں میں واپس آکر کردار ادا کریں اور ملکی معاشی اور دیگر مسائل حل کریں۔

مزید :

رائے -کالم -