عوام کے جان و مال کا ہر صورت تحفظ کرنے کا فیصلہ

  عوام کے جان و مال کا ہر صورت تحفظ کرنے کا فیصلہ
  عوام کے جان و مال کا ہر صورت تحفظ کرنے کا فیصلہ

  

 وزیراعلیٰ پنجاب میاں حمزہ شہباز نے  وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالتے ہی برق رفتاری کے ساتھ صوبے میں امن وامان کے قیام اور قانون کی حکمرانی، عوامی مسائل حل کرنے،عوامی فلاح و بہبود کے پروگراموں کے ساتھ ساتھ ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز تر کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات کئے ہیں۔  

 صوبے میں امن و اما ن کے حوالے سے صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ امن عامہ اور قانون کی حکمرانی ہر صورت قائم کی جائے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدام کیا جائے کسی گروہ یا جتھے کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے امن عامہ کی فضا قائم رکھنے کے لئے پولیس کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کئی مواقع پر،خاص طورپر 25 مئی کو سیاسی جماعت کے جلسے اور جلوس کے دوران پولیس نے قانون کے نفاذ کے لئے پیشہ ورانہ انداز میں فرائض ادا کئے۔ آئندہ بھی امن عامہ قائم رکھنے کے لئے پنجاب پولیس کی مکمل حمایت و تائید کریں گے۔

وزیراعلیٰ حمزہ شہباز پہلے وزیر اعلیٰ ہیں جنہوں نے صوبے میں امن و امان کے حوالے سے ہونے والے مختلف واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور  فوراً ہی غریب اور بے سہارا افراد کی داد رسی کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ مظلوموں کے گھروں میں گئے اور ان کے سر پر دست شفقت رکھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے جسے وہ ہر صورت نبھائیں گے۔انہوں نے گوجرانوالہ میں ہجوم کے ہاتھوں نوجوان کے قتل کے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹرجنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر کے افسوسناک واقعہ کی جامع انکوائری کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئی مہذب معاشرہ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ نوجوان کے قتل میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، جنہوں نے ظلم کیا ہے وہ قرار واقعی سزا کے حق دار ہیں۔اس واقعہ میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں اور مقتول کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اسی طرح چونیاں ریپ کیس کے حوالے سے بریفنگ میں  وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ چونیاں کیس کو جلد منطقی انجام پر پہنچایا جائے۔ لاہور سے تاوان کے لئے اغوا ہونے والے بچے کی بحفاظت بازیابی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے پولیس کی کارکردگی کی تعریف کی۔ 

یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ وزیراعلیٰ امن و امان اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے صوبے میں ہونے والے ہر واقعہ کا بغور جائزہ لیتے اور عوام کی داد رسی کے لئے اقدامات کرتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ صوبے میں قانون اور انصاف کا بول بالا ہو۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے وہ ہر اقدام کرنے کو تیار ہیں، کیونکہ اسی عوام کے تعاون سے وہ وزیر اعلیٰ بنے ہیں اور کل کو اسی عوام کے پاس انہیں جانا ہے۔ آج اگر عوام کے دکھ درد میں شریک ہوں گے، ان کی خدمت کے لئے ہر ممکن اقدام کریں گے تو عوام بھی دل و جان ان پر نچھاور کریں گے۔حمزہ شہباز عام آدمی کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں۔وہ کسی قسم کی کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتے اور ان کا انسانی پہلو بہت مضبوط ہے۔ 

دورہ بہاولپور میں بھی وزیراعلیٰ نے انتظامیہ سے استفسار کیا کہ شہر میں کتنے کیمرے لگے ہیں اور کتنے فنکشنل ہیں۔ سیف سٹی منصوبے پرعمل درآمد سے ہم دہشت گردی، ڈاکہ زنی اور دیگر جرائم کی بیخ کنی کر سکتے ہیں۔انہوں نے ڈی پی او اور کمشنر بہاولپور کو ہدایت کی کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں۔ امن و امان کا قیام اور شہریوں کا تحفظ آپ کی ترجیح ہونی چاہئے۔ 

مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے ایک گھر سے پانچ افراد کے قتل پر وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے  لواحقین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانزک ٹیموں کی مدد سے واقعہ کی تحقیقات کرتے ہوئے ملزمان کو جلد از جلد گرفتارکر کے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ فیملی کو انصاف کی فراہمی کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

وزیراعلی ٰنے نہ صرف صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے پر زور دیا، بلکہ غیر ملکی افراد خصوصاً چینی باشندوں کے تحفظ کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے غیر ملکی باشندوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کیلئے بھی اقدامات کی ہدایت کی۔ان کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے کئے گئے انتظامات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ترقیاتی منصوبے جو گزشتہ حکومت میں ٹھپ پڑے تھے، ان کو جاری کرنا اور امن و امان کی صورت حال جو بدترین حالت میں موجود ہے، کو سدھارناوقت کی اشد ضرورت ہے۔

اس حوالے سے ن لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری پنجاب اور صوبائی وزیر عطا تارڑ کہتے ہیں کہ حمزہ شہباز ایک مختلف وزیراعلیٰ ثابت ہورہے ہیں۔ اس کم وقت میں ان کی ترجیحات میں عوام کو ریلیف دینا شامل ہے۔وہ چاہے آٹا اور چینی کی قیمتیں کم کرنے کی صورت میں ہو، ہسپتالوں میں صحت کی بہتر سہولیات ہوں، مہنگائی کو کنٹرول کرنا، صوبے میں امن و امان کی صورت حال کو کنٹرول کرنا ہو یہ سب ان کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ حمزہ شہباز کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ مشاورت پر بہت زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ اپنی ٹیم اور لوگوں کے ساتھ مشورے کرتے ہیں اور چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں بیوروکریسی کا پہلے بھی تجربہ ہے۔ 

ہمیں امید ہے کہ حمزہ شہباز سابق وزیراعلیٰ سے بہتر کارکردگی دکھائیں گے۔ دیکھا جائے تو حمزہ شہباز کا مقابلہ اس وقت سابق وزیر اعلیٰ کے ساتھ نہیں،بلکہ اپنے والد شہباز شریف کے ساتھ ہے۔ جو لوگ ان کے ساتھ کام کرتے ہیں ان کے مطابق حمزہ شہباز نے اپنے والد شہباز شریف اور تایا نواز شریف سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں پارٹی منظم کرنے کا بھی تجربہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -