مفادات کی ہنڈیا

 مفادات کی ہنڈیا
 مفادات کی ہنڈیا

  

 سب سے پہلے تو ملتان کے گیلانی خاندان کو مبارکباد دینی ہے کہ اُس کے خاندان کی اگلی نسل کو اقتدار میں حصہ مل گیا ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی کے فرزند سید علی حیدر گیلانی پنجاب کابینہ کے رکن بن گئے ہیں اسے ایک معجزہ ہی کہا جا سکتا ہے وگرنہ جو پیپلزپارٹی کی پنجاب میں صورت حال ہے اُسے دیکھتے ہوئے کسی کے دور دور تک وہم گمان میں نہیں تھا کہ اُس کا کوئی رکن اسمبلی پنجاب کا وزیر بھی بن سکے گا۔پنجاب میں تبدیلی کی جو ہوا چلی اور آصف علی زرداری کی ذہانت و مہارت نے جس طرح کھیل کا پانسہ پلٹا،اُس کی وجہ سے نہ صرف تحریک انصاف کی حکومت ختم ہو گئی،بلکہ اتحادی حکومت بھی معرضِ وجود میں آ گئی۔سات نشستوں والی پیپلزپارٹی کو صوبے کی سینئر  وزارت بھی مل گئی اور سید علی حیدر گیلانی کو وزارت بھی۔آصف علی زرداری تو پچھلے تین برسوں میں متعدد بار کہہ چکے ہیں آئندہ پنجاب میں حکومت بھی پیپلزپارٹی بنائے گی، اُس وقت اُن کی باتوں سے لگتا تھا وہ مذاق کر رہے ہیں، مگر اب حسن مرتضیٰ کو پنجاب کا سینئر وزیر بنا کر انہوں نے واضح کر دیا ہے وہ جوڑ توڑ کے ماہر ہیں اور ذرے کو آفتاب بنا سکتے ہیں۔انہوں نے چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی پیشکش کی تھی، مسلم لیگ(ن) کو بھی راضی کر لیا تھا،مگر چودھری صاحب عین وقت پر عمران خان کی باتوں میں آ گئے۔زرداری صاحب کا کمال دیکھیں کہ اس کے باوجود وہ مسلم لیگ (ق) کے اندر دراڑ ڈالنے میں کامیاب رہے اور تحریک عدم اعتماد کے موقع پر قومی سمبلی میں دو ووٹ ق لیگ کے مل گئے۔اب چودھری پرویز الٰہی کسی معجزے کی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ پنجاب میں تبدیلی آئے اور وہ وزارتِ اعلیٰ پر متمکن ہو سکیں جس کا فی الوقت تو دور دور تک کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔اب تو گورنر بھی آ چکے ہیں اور کابینہ بھی بن گئی ہے۔

عمران خان کی مخالفت میں آگ اور پانی کے کئی ملاپ ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کا ملاپ ایسا ہی ہے۔ سنا ہے پنجاب کابینہ میں پاور شیئرنگ پر پیپلزپارٹی ناراض ہو گئی تھی،حالانکہ اگر وہ اپنی اسمبلی میں نشستیں دیکھے تو ایک وزارت بھی اُس کے حصے میں مشکل سے آتی ہے، لیکن چونکہ اس نظام میں ایک ووٹ سے حکومتیں کھڑی ہیں،اور ویسے بھی آصف علی زرداری کا پلڑا بہت بھاری ہے اس لئے پیپلزپارٹی اس پورے سسٹم میں مدارالمہام بنی ہوئی ہے۔وفاق میں کئی وزارتیں لے چکی ہے اور اب پنجاب میں اپنی چودھراہٹ کا ڈنکا بجا رہی ہے۔ ابھی کل ہی سوشل میڈیا پر یہ چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں کہ بلاول بھٹو زداری جب سے وزیر خارجہ بنے ہیں اُن کا پاؤں پاکستان میں پڑ ہی نہیں رہا۔ ایسا مصروف وزیر خارجہ تو پاکستان میں کسی کو دیکھا نہیں گیا، ایک ملک سے نکلتے ہیں تو دوسرے ملک چلے جاتے ہیں، پاکستان آنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔اپنے ملتانی مخدوم تو بے چارے بہت سادہ تھے۔ عمران خان کے ڈر سے بیرون ملک بہت کم سفر کرتے تھے۔ایک بلاول ہیں کہ انہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں، ویلیو اتنی ہے کہ خود امریکی وزیر خارجہ انہیں فون کر کے دورے کی دعوت دیتے ہیں یہ اتحادی حکومت کی برکتیں ہیں کہ ہر کوئی موج میلہ کر رہا ہے۔بیرون ملک جانے والے وزیروں کی تو گویا لائن لگی ہوئی ہے۔ایک طرف وفاقی وزیر مصدق ملک کہتے ہیں حکومت کے پاس زہر کھانے کو بھی پیسے نہیں ہیں اور دوسری طرف وزرا اور وزیراعظم کے بیرونی دورے بتاتے ہیں کہ مصدق ملک کو بڑی غلط فہمی ہوئی ہے وگرنہ یہاں تو کسی شے کی کوئی کمی نظر نہیں آتی۔

ہم ملتانیوں کی نظر گھوم پھر کر اس بات پر اٹک جاتی ہے کہ اس سارے کھیل میں ملتان کو کیا ملا۔تحریک انصاف کے دور میں ملتان کے پاس تین وفاقی وزارتیں،ایک صوبائی وزارت ارو دو پنجاب کے مشیر موجود تھے۔اب جھونگے میں صرف ایک صوبائی وزارت ملی ہے کیونکہ قومی اسمبلی میں اب ملتان کی نمائندگی ہی موجود نہیں اور علی حیدرگیلانی پیپلزپارٹی کے واحد ایم پی اے ہیں جنہیں ملتان سے صوبائی کابینہ میں لیا گیا ہے۔ملتان کو اُس دور میں بھی کچھ نہیں ملا،جب اس کے پاس چار مرکزی و صوبائی وزارتیں تھیں اور اب بھی شاید کچھ نہ ملے جب صرف ایک صوبائی وزارت دی گئی ہے۔اب تحریک انصاف والے شاہ محمود قریشی کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ صوبائی حلقہ217 سے انتخاب میں حصہ لیں تاکہ رکن اسمبلی بن کر صوبائی وزارتِ اعلیٰ کی دوڑ میں پھر سے شامل ہو سکیں۔یاد رہے یہ وہی حلقہ ہے جہاں سے وہ عام انتخابات میں نوجوان نعیم سلمان سے ہار گئے تھے،اب نعیم سلمان حمزہ شہباز کو تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دینے کی وجہ سے ڈی سیٹ ہو گئے ہیں تو یہ سیٹ خالی ہو گئی ہے۔عمران خان نے قومی اسمبلی میں واپس جانے سے تو انکار کیا ہے، تاہم پنجاب کے بیس حلقوں میں ضمنی انتخاب ہو رہے ہیں تو تحریک انصاف اُن میں بھرپور حصہ لے رہی ہے، شاید مقصد یہ ہے ان نشستوں کو دوبارہ جیت کر پنجاب میں حمزہ شہباز کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے،دیکھتے ہیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک۔تاہم اپنے بیٹے کے سر پر وزارت کا تاج سجا کر سید یوسف رضا گیلانی پھولے نہیں سما رہے۔مبارکبادیں وصول کر رہے ہیں،سچ کہا ہے کسی نے کہ جب سیاسی زوال ہو تو ایک صوبائی وزارت بھی وزارتِ عظمیٰ پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ یاد رہے کہ2018ء کے انتخابات میں ملتان کا یہ گیلانی خاندان تمام نشستوں پر ہار گیا تھا،صرف علی حیدر گیلانی صوبائی اسمبلی کی نشست جیت سکے تھے۔اب اسی صوبائی وزارت کے بل بوتے پر گیلانی خاندان یہ چاہے گا اپنے حامیوں کی تعداد بڑھائے،ویسے بھی سید یوسف رضا گیلانی اب ملتان کے بے تاج بادشاہ بن چکے ہیں۔انہوں نے ملتان کے سارے اختیارات ایک پیکیج کے تحت مسلم لیگ(ن) سے اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں یہ کچھ عرصے کا سیاسی سیٹ اَپ کس کے لئے کیا کچھ لاتا ہے،اس بارے میں سب راز آہستہ آہستہ فاش ہوں گے۔البتہ سوال یہ ہے کہ اتحادی حکومتوں کی ہنڈیا کب تک چڑھی رہے گی، مفادات کے ٹکراؤ میں کہیں بیچ چوراہے کے تو نہیں پھوٹ جائے گی؟

مزید :

رائے -کالم -