چین اور تائیوان   (2)

  چین اور تائیوان   (2)
  چین اور تائیوان   (2)

  

 امریکی صدر نے گزشتہ ہفتے ایشیائی ممالک کا دورہ کیا۔ ایک صحافی نے ان سے یہ پوچھا کہ اگر چین نے بزورِ بازو تائیوان کو اپنی مین لینڈ کے ساتھ ملانے کی کوشش کی تو کیا امریکہ اس کے ردِ عمل میں فوجی قوت بھی استعمال کرے گا؟ بائیڈن نے اس کا جواب دیا: ”بالکل ہم چین پر فوج کشی کریں گے کیونکہ ہم نے تائیوان کے ساتھ جوابی حملے کی کمٹ منٹ کر رکھی ہے۔“

بندہ پوچھے کہ کیا تائیوان ناٹو کا ممبر ہے؟ اگر نہیں تو یہ کمٹ منٹ چہ معنی دارد؟ یوکرائن بھی ناٹو کا ممبر نہیں تھا لیکن جب فروری 2022ء کے آخری ہفتے میں روس نے کیف پر حملہ کیا (جو یوکرائن کا دارالحکومت ہے) تو امریکہ اور ناٹو نے مل کر روس پر پابندیاں لگا دیں لیکن کوئی امریکی یا ناٹو ”بُوٹ“ یوکرائن کی سرحد پار کرکے روس کو روک نہ سکا۔آدھا یوکرائن تباہ ہو کر رہ گیا ہے لیکن امریکی صدر یوکرائنی قیادت کو ہلہ شیری دیئے جا رہے ہیں۔ روس تو اپنی ملٹری سٹرٹیجی کے حساب سے یوکرائن پر کوئی بڑی یلغار نہیں کر رہا۔ وہ آہستہ آہستہ یوکرائنی دفاعی افواج پر اٹریشن (Attrition) وارد کر رہا ہے۔ ایک کے بعد ایک عسکری تنصیب پر قبضہ کر رہا ہے، سلسلہء مواصلات درہم برہم کر رہا ہے۔ یوکرائن عورتوں اور بچوں کو ہمسایہ ممالک میں بھاگ کر جان بچانے کا موقع دے رہا ہے اور حربی معرکوں میں حصہ لینے والے نوجوان مردوں کو ہلاک کر رہا ہے۔ آپ کسی فوجی آفیسر سے پوچھ کر دیکھیں تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ روس پہلی بار یہ سٹرٹیجی اپنا کر ایک نئے تجربے کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ یوکرائن سے نقل مکانی کرنے والی عورتوں اور بچوں کی غالب آبادی ان ممالک کے مالی وسائل پر منفی اثرات ڈالنے لگی ہے۔ روس پر پابندیوں کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو رہا…… میرا ارادہ ہے کہ اس جنگ کی ایک بڑی پکچر کے تمام زاویئے اور پہلو قارئین کے سامنے رکھوں تاکہ ہمارے پاکستانیوں کو معلوم ہو سکے کہ جب دنیا کی دو سپرپاورز ایک ایسی جنگ میں ملوث ہو جاتی ہیں جس میں ایک فریق تو اپنی افواجِ ثلاثہ کو کمٹ کر دیتا ہے لیکن دوسرا صرف ساز و سامانِ جنگ، اسلحہ بارود اور محض ہلہ شیری پر اکتفا کرتا ہے تو اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں …… اس قسم کی پراکسی وار پاکستان میں بھی لڑی جا سکتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی قرائن بتا رہے ہیں کہ آج نہیں تو کل ایسا ہو کے رہے گا۔ ٹائمنگ کے بارے میں کچھ حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ پاکستان میں ”رجیم چینج“ کا تجربہ تو ہم دیکھ چکے ہیں لیکن اس تجربے کے جلو میں جو جوابی تجربہ راہ میں ہے، اس کا انتظار کیجئے۔

تائیوان کے مسئلے پر امریکہ کا یہ موقف کہ وہ اپنی افواج کے ساتھ تائیوان کے دارالحکومت تائی پے (Taipei) میں اترے گا، ایک ایسی بڑھک ہے جس کے مجسم ہونے کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں حائل ہیں۔ 1949ء سے لے کر اب تک اگرچہ امریکہ، تائیوان کی دامے، درمے، سخنے اور اسلحے مدد کرتا رہا ہے لیکن اپنے فوجیوں کو  تائیوان میں داخل ہونے کا ارتکاب ہنوز دلی دور است والا معاملہ ہے۔ تائیوان پر حملے کا مطلب چین پر حملہ ہے۔ اس لئے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ چین کی عسکری قوت کا مقابلہ کر سکتا ہے یا دوسری طرف چین امریکی عسکری قوت کے سامنے ٹھہر سکتا ہے یا نہیں اس کے بارے میں نہ صرف امریکہ بلکہ ناٹو کے اکثر ممالک لاتعداد War Games کر چکے ہیں۔ یہ ”جنگی کھیل“ ایک ماڈرن شطرنج بھی کہے جا سکتے ہیں۔ ان میں جھوٹ موٹ کی جنگ، جھوٹ موٹ کا اسلحہ، جھوٹ موٹ کے حملے اور ان کے دفاع میں کئے جانے والے اقدامات کمپیوٹروں میں فیڈ کرکے حساب کتاب لگایا جاتا ہے کہ جنگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

دفاعی ماہرین کا تجزیہ ہے کہ چین گزشتہ ایک ڈیڑھ عشرے سے اپنی افواج کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے۔ اس وقت چین کی بحریہ دنیا بھر کی بحریاؤں میں سب سے زیادہ بڑی ہے اور اندریں حالات امریکہ کسی ممکنہ تائیوانی جنگ میں اتنے زیادہ بحری اثاثے نہیں بھیج سکتا جو چین کا مقابلہ کر سکیں۔ امریکہ کے پاس گیارہ عدد طیارہ بردار بحری جہاز ہیں جن میں سے آدھے بحرالکاہل اور آدھے بحراوقیانوس کے پانیوں میں موجود رہتے ہیں۔ چین کی میزائلی قوت اب اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ امریکہ کے کسی بھی طیارہ بردار کو ٹارگٹ کر سکتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ طیارہ بردار امریکی عسکری قوت کی گویا روح رواں ہیں۔ اگر ان میں سے آدھے بھی غرقاب کر دیئے گئے تو امریکی سپرپاور کا پول کھل جائے گا!

امریکہ کی فضائی قوت کا بھی بڑا شہرہ ہے اور اس کے لڑاکا طیاروں کی بڑی دھوم ہے۔ لیکن آبنائے تائیوان میں صرف دو فضائی مستقر ایسے ہیں کہ جاپان میں ہیں اور جہاں سے امریکی طیارے بارِ دگر ایندھن بھرے بغیر اڑان بھر سکتے ہیں۔ لیکن ان کے مقابلے میں چین کے 39فضائی مستقر ایسے ہیں جو تائی پے (Taipei) سے 500میل کے قطر (Radius) میں واقع ہیں۔

اگر چینی قیادت تائیوان کو واپس لینا چاہے اور اس کو یقین ہو کہ اس کارروائی میں امریکہ حائل ہوگا تو اس خطے (Region) میں چین کی طرف سے موجود امریکی فورسز پر بغیر اطلاع دیئے (Pre-emptive) حملہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو جاپانی سرزمین پر موجود امریکہ کی کلیدی بیسز (Bases) میں امریکی فضائی قوت کو باہر نکلنا پڑے گا۔ چین کے پاس ایسے خصوصی میزائل موجود ہیں جو دیوہیکل طیارہ برداروں پر وار کرکے ان کوغرقاب کر سکتے ہیں۔ اس طرح کے سنریو میں امریکی ٹیکنالوجیکل برتری اور ٹریننگ وغیرہ ٹُھس ہو کر رہ جائے گی۔

امریکی بحری بیڑا چونکہ اپنے گھر (Main Land) سے دور آپریٹ کر رہا ہو گا اس لئے وہ سائبر حملوں کی زد میں ہوگا جبکہ چینی فورسز اپنے ”گھر“ سے زیادہ دور نہیں ہوں گی۔

فرض کریں یہ جنگ اگر طول کھینچتی ہے تو امریکہ کو امید ہوگی کہ اس کے اتحادی اس کی مدد کو آئیں گے۔ اس کا انحصار ناٹو فورسز پر ہوگا جو چین۔ تائیوان خطہء جنگ سے بہت دور ہوں گی۔ ان کی طرف سے فضائی یا بحری مدد محالات میں شمار ہو گی۔ دوسری طرف روس اور شمالی کوریا اپنی بحری اور فضائی قوت کو آسانی سے چین کی مدد کو بھیج سکیں گے۔

جہاں تک اس جنگ میں انصرامی (لاجسٹیکل) امداد کا تعلق ہے تو یہ ایک الگ اور بسیط موضوع ہے اور اس پر مزید ایک اور قسط کی ضرورت ہو گی جسے لکھنے کی ان شاء اللہ جلد کوشش کروں گا۔(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -