پاکستانی سیاستدان ترکیہ سے ہی کچھ سیکھ لیں 

پاکستانی سیاستدان ترکیہ سے ہی کچھ سیکھ لیں 
پاکستانی سیاستدان ترکیہ سے ہی کچھ سیکھ لیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان کی سیاست قیام پاکستان سے آج تک جس ڈگر پر چل رہی ہے اس کو کبھی جمہوریت اور کبھی آمریت کا نام دینا پڑتا ہے۔ پاکستانی عوام جب جمہوریت سے اُکتا جاتے ہیں تو آمر کے آنے پر سجدہ ریز ہو جاتے ہیں، پھر جب آمریت سے عوام کا دِل بھر جاتا ہے تو انہیں جمہوریت کی یاد ستانے لگی ہے۔ گزشتہ75 سال سے ادل بدل اور باریاں لینے کا کھیل جاری ہے یہی وجہ ہے عوام کو جمہوریت ملتی ہے اس کو آمروں کے اقدامات اور فیصلے یاد آتے ہیں اور جب آمر مسلط ہو جاتا ہے اس کو جمہوری اقدار ستانے لگتی ہے۔دلچسپ کھیل میں عوام حلال حرام اور حق سچ، پسند و نا پسند، جمہوری اور غیر جمہوری عمل کی تعریف تک بھول چکی ہے۔گزشتہ کچھ برسوں سے جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس میں بات جمہوری اور غیر جمہوری سے آگے بڑھ چکی ہے، سیاست دانوں کا ایجنڈا فقط اقتدار تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اس کے لئے آئین کی پامالی اداروں کی تضحیک معمولی بات ہو کر رہ گئی ہے۔گزشتہ دو دہائیوں سے متعدد بار لکھ چکا ہوں ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے بنیادی مقاصد سے بھی صرفِ نظر کرنا شروع ہو گئے ہیں ورنہ اقتدار کے لئے ایک دوسرے کو ختم کرنے کی مہم جوئی نہ ہوتی۔ اداروں کی ساکھ کو داؤ پر لگانے کا  عمل جو کچھ عرصے سے شروع ہوا ہے وہ سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔اس نے پاکستان کی سالمیت اور وجود کو جھنجھوڑ  کر رکھ دیا ہے۔9مئی کے واقعات کو وقتی اور جذباتی ردعمل قرار دینا بھی گناہِ کبیرہ سے کم نہیں ہے عوام اور پاک فوج کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی مہم جوئی نے وطن عزیز سے محبت کرنے والوں کے لئے تکلیف دہ بنا دیاہے۔ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں جس انداز میں قومی املاک کو جلایا گیا ہے اس سے پوری دنیا میں نہ صرف جگ ہنسائی ہو رہی ہے بلکہ بھارت اور اس کا میڈیا بغلیں بجا رہا ہے بات دوسری طرف نکل گئی اصل موضوع کی طرف آتا ہوں، ترکیہ کے رن آف الیکشن نے دنیا میں جو جمہوریت کی بنیاد رکھ دی ہے وہ جمہوریت کے بڑے بڑے دعویدار ممالک کے لئے بھی چیلنج بن کر رہ گیا ہے۔ ترکیہ حکومت ترک قوم جمہوریت اور اپنی اقدار کی پاسداری کی کیسی خوگر ہے کہ رن آف الیکشن میں دھاندلی ہوئی نہ کوئی بڑی تبدیلی۔اس سے پہلے بڑے انتخابی معرکہ میں بڑی جماعتوں کے انتخابی معرکے میں بھی یہ بات ڈھکی چھپی نہیں تھی، مغربی طاقتیں فکر مودودی کے علمبردار کو دوبارہ صدر بننے سے روکنے کے لئے پورے وسائل کے ساتھ میدان میں رہیں اور پھر اُمت مسلمہ نے دیکھا پہلے راؤنڈ میں حتمی فیصلہ نہ آنے کے بعد جس انداز میں تمام جماعتوں نے اتفاق ر ائے سے28مئی کو رن آف الیکشن کا فیصلہ کیا اور پھر ترک قوم نے28مئی کے الیکشن میں جس پُرامن انداز میں جمہوری عمل مکمل کیا اس کو داد دینا چاہئے۔پاکستانی سیاست جو اَنا، ضد، ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ان کو  ترکیہ کی جمہوریت سے سبق لینا چاہئے۔


پاکستان کے حوالے سے بھی سید ابو الااعلیٰ مودودی نے فرمایا تھا ”پاکستان کے عناصر ترکیبی میں نسل، زبان، جغرافیہ، کوئی چیز بھی مشترک نہیں صرف ایک دین ہے جس نے ان عناصر کو جوڑ کر ایک ملت بنایا ہے، دین کی جڑیں یہاں جتنی مضبوط ہوں گی اتنا ہی پاکستان مضبوط ہو گا اور جتنی کمزور ہوں گی اتنا ہی پاکستان کمزور ہو گا۔ سید مودودی کے افکار پر اگر غور کیا جائے اور ترکیہ اور پاکستان کی مشترکہ اقتدار کو تلاش کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے ترکیہ میں بھی پاکستان کی طرح مشترک چیز دین اسلام ہے۔ ترکیہ کے نومنتخب صدر طیب اردگان اُمت مسلمہ کے لئے نوید سحر بن گئے ہیں اس وقت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے خطے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیاں بڑی اہم ہو گئی ہیں امریکہ بہادر کی چودھراہٹ خطرے میں نظر آ رہی ہے، نئی صف بندی میں روس، چین، ترکیہ، ایران، سعودیہ پاکستان کا ایک موقف ہونا امریکہ کے لئے ہی خطرے کی گھنٹی نہیں، بلکہ اُمت مسلمہ کے لئے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھی  ہے۔ترکیہ کا الیکشن عام الیکشن نہیں تھا خطے کی سیاست کا تعین متعین کرنے کا محور تھا اب طیب اردگان جن کی شخصیت کے بارے میں کہا جاتا ہے نفیس،برد بار ہونے کے ساتھ ساتھ دور اندیش شخصیت کے حامل بھی ہیں ان کی سادگی بھی پاکستانی سیاست دانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ پاکستان میں آج کل جو پولیٹیکل انجینئرنگ زور و شور سے جاری ہے اس کو کسی صورت جمہوری اقدار کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ سیاستدانوں کی محاذ آرائی میں عوام ایک تماشا ہی بن کر رہ گئی ہے حکومت اپوزیشن کسی کو عوام نظر نہیں آ رہی  وہ کس حال میں ہے ان کی حالت ہر آنے والے دن میں خراب سے خراب تر ہو رہی ہے، کہا جا رہا ہے عوام اور پاک فوج کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی سازش ہو رہی ہے اس سے اگر اتفاق کر لیا جائے تو اس بات کا بھی سروے کروانا چاہئے۔ عوام اور سیاست دانوں کے درمیان بھی خلیج حائل ہو رہی ہے جو ہر آنے والے دن میں کم ہونے کی بجائے زیادہ ہو رہی ہے، پاک فوج کے حوالے سے عوام یکسو ہیں، پاک فوج ہے تو عوام محفوظ ہیں، فوج ہے تو پاکستان محفوظ ہے اس میں دو رائے نہیں ہے،فکر کرنا چاہئے سیاسی رویوں کی،بڑھتی انتقامی سیاست کی، پاکستانی سیاستدانوں کو ترکیہ کے نئے صدر طیب اردگان کی حالات زندگی، پیدائس سے صدر بننے تک کی جدوجہد کی کتاب کے ایک ایک ورک کو پڑھنا اور سبق حاصل کرنا چاہئے۔


ترکیہ کے صدر کی زندگی اس کے والد محترم کی طرزِ سیاست پر اگر لکھنا شروع کروں تو کئی گھنٹے درکار ہیں آج صرف بات کرنی تھی معاشرے میں بڑھتے ہوئے تضادات اور بگڑتے ہوئے معاشرتی حالات کی اور سیاست دانوں کے طرزِ عمل کی، ان کی ضد اور اَنا اور ہٹ دھرمی کی،جس کی وجہ سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ سیاست دانوں کی دو عملی زہر قاتل بن رہی ہے۔ سوال اٹھتا ہے اس کا حل کیا ہے یقینا سنجیدہ حلقے کہتے ہیں اس کا حل الیکشن ہے، ذاتی طور پر میں اب اس رائے کا حامی نہیں رہا تمام مسائل اور بحرانوں کا حل الیکشن میں ہے۔ الیکشن میں اگر انہی افراد نے آنا ہے پی ٹی آئی چھوڑنے والوں نے نئی کنگ پارٹی بنانی ہے یا مسلم لیگ (ق)، ف،م کا کھیل جاری رکھنا ہے تو عوام کو پہلے بھی ان سے کچھ نہیں ملا، اب بھی نہیں ملتا نظر نہیں آ رہا۔میں عوام میں تیزی سے پروان چڑھتی رائے کے بھی حق میں نہیں ہوں، جس میں کہا جا رہا ہے سیاستدان ہی کرپٹ نظام کے خوگر ہیں عوام کی بدحالی کے ذمہ دار ہیں انہیں دریا برد کر دیا جائے،ذاتی رائے میں کچھ نیا ہونا چاہئے، عوام کو باریاں دینے اور بار بار پرانے مہروں کو آزمانے اور موقع دینے کی بجائے کھرے کوٹے کا فیصلہ خود کرنا ہو گا، اداروں کی ساکھ کی بحالی اور اداروں کا اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنے کی روایت وقت کی ضرورت ہے۔ آئین وطن عزیز کی سلامتی کی علامت اس سے پہلو تہی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
 آئیں مل کر پاکستان کو بچانے اور  تاقیامت قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں اور طاغوتی قوتوں کی سازشوں سے بچانے کی جدوجہد کریں،اللہ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے۔

مزید :

رائے -کالم -