سکاٹ لینڈ یارڈ کی پاکستان میں ڈاکٹرعمران فاروق کے مبینہ قاتلوں سے تفتیش مکمل ،اہم شخصیت کی گرفتاری کا امکان

سکاٹ لینڈ یارڈ کی پاکستان میں ڈاکٹرعمران فاروق کے مبینہ قاتلوں سے تفتیش ...
 سکاٹ لینڈ یارڈ کی پاکستان میں ڈاکٹرعمران فاروق کے مبینہ قاتلوں سے تفتیش مکمل ،اہم شخصیت کی گرفتاری کا امکان

  

لندن( مرزا نعیم الرحمن سے) لندن میں ایم کیو ایم کے قتل ہونے والے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی تفتیش مکمل کرلی گئی ہے جس کے بعد اہم ترین شخصیت کی گرفتاری کا امکان بھی پیدا ہوگیا ہے ۔ سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کے اعلی افسران اور کراﺅن کورٹ کے عدالتی اہلکاروں نے پاکستان میں خفیہ ایجنسیوں کے زیرِ حراست ایم کیو ایم کی طلبہ تنظیم کے فعال کارکنوں محسن علی خان محمد کاشف خان سےبند کمرے میں طویل ترین ان کیمرہ تفتیش کی ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستانی حکام نے انہیں مکمل فری ہینڈ دیا جبکہ اردو مترجم بھی ان کے ہمراہ تھا ،ملزمان نے پہلے پہل قتل سے لاتعلقی کا اظہار کیا مگر انہیں برطانوی پولیس کی طرف سے حاصل کئے گئے شواہد اور مختلف مواقع پر گرفتار کئے جانیوالے افراد کے بیانات اور فوٹیج بھی دکھائی گئیں۔ ان طالبعلموں کو کراچی میں مقیم ایک بزنس مین افتخار حسین نے سٹوڈنٹ ویزے لگوا کر دیئے تھے ۔سکاٹ لینڈ پولیس نے کراچی واٹر بورڈ کے ایک فون نمبر 36947016 اور موبائل نمبر0300-8252044 سے قتل کے بعد کی جانیوالی فون کالز کے بارے میں بھی دریافت کیا ۔یہ امر قابل ذکر ہے کو چند یوم سے یہ خبریں گشت کررہی تھیں کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دو ملزم دو اور دو لے لو کے طور پر سمجھوتہ ہوگیا ہے مگرملزمان کی حوالگی کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ۔ باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایک طویل عرصہ سے تھکا دینے والی تفتیش مکمل ہوگئی ہے اور ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ دونوںنوجوانوں کو جلد ہی برطانیہ پہنچا دیا جائیگا اور عین ممکن ہے کہ وہ برطانیہ پہنچ بھی چکے ہوں۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ آئندہ چند یوم میں کسی بڑی سیاسی شخصیت کی گرفتاری متوقع ہے۔ کراچی میں ہونیوالے احتجاجی مظاہرے شو آف پاور کی کوششیں برطانیہ پر دباﺅ ڈالنے کیلئے کی جارہی ہےں،اس سے قبل بھی برطانوی قونصلیٹ کے باہر متعدد بار احتجاجی مظاہرے کئے جاچکے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین اور عدالتی اہلکاروں کی ٹیم کو اس سلسلہ میں پاکستانی حکام کی جانب سے کی گئی تفتیش کی فائل بھی مہیا کردی گئی ہے جس سے مختلف ادوار میں سیاسی مصلحتوں کی بناءپر افشا نہ کیا گیا تھا اور اس تفتیش کو ایم کیو ایم پر استعمال کیا جاتا رہا۔

مزید : قومی /اہم خبریں