ارکان پارلیمنٹ پرالزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں

ارکان پارلیمنٹ پرالزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں
ارکان پارلیمنٹ پرالزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آزاد رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے معزز ارکان پارلیمنٹ کی رہائش گاہوں میں غیر اخلاقی سرگرمیوں اور منشیات کے استعمال کا انکشاف کر کے قومی اسمبلی کے ایوان میں تہلکہ مچا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاجز میں عرصے سے شراب اور چرس کا دھندا ہو رہا ہے، باہر سے لڑکیاں آتی ہیں، صبح چرس کا دھواں پھیلا ہوتا ہے۔

قومی اسمبلی کے سپیکر نے ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی کو خط لکھتے ہوئے تمام الزامات کے ثبوت اور شواہد کے ساتھ اپنے چیمبر میں طلب کر لیا تاکہ الزامات کے حقائق سامنے لائے جائیں اور جو بھی اس گھناﺅنے فعل میں ملوث ہیں، ان کے خلاف کارروائی کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ لاجز اور ایم این اے ہاسٹلز میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی ایک ماہ کی فوٹیج طلب کرتے ہوئے پارلیمنٹ لاجز اور ایم این اے ہاسٹل کے ڈی ایس پی کو فوٹیج محفوظ کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی کا یہ کہنا بجا ہے کہ اگر جمشید دستی کے الزامات درست نکلے تو چاہے ان کی اپنی ہی جماعت کے ارکان ملوث کیوں نہ ہوں ،کارروائی ضرور کی جائے گی اور اگر یہ الزام جھوٹے نکلے، تو جمشید دستی کی سزا کا فیصلہ ایوان کرے گا۔

جمشید دستی نے پارلیمنٹ لاجز میں منشیات کے استعمال کی تحقیقات کے لئے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم سے تمام ارکان کے میڈیکل ٹیسٹ کرانے کا جو مطالبہ کیا ہے، وہ بالکل درست ہے۔ اچھے ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ بننا چاہئے تاکہ جو ممبران اسمبلی طاقت کے انجکشن اور دوائیاں استعمال کرتے ہیں ،وہ بے نقاب ہو ں۔ادھرمتعدد ارکان پارلیمنٹ نے جمشید دستی کی جانب سے عائد کئے گئے الزامات کی تصدیق کرتے ہوئے سپیکر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان واقعات کی فوری تحقیقات کرائیں اور اس میں ملوث ارکان کے خلاف کارروائی عمل میں لا کر ان کو نشان عبرت بنا دیا جائے جو پارلیمنٹ اور پارلیمنٹیرینز کی توہین کا باعث بنتے ہیں، فوری طور پر مانیٹرنگ کمیٹی قائم کی جائے۔ پارلیمنٹ لاجز رہنے کے قابل نہیں رہا، کیونکہ یہاں پر ایسی سرگرمیاں ہو رہی ہیں،جو انتہائی غیر اخلاقی ہیں۔

 نبیل گبول کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسی وجہ سے وہاں سے اپنی رہائش تبدیل کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ متعدد بار پارلیمنٹ لاجز میں غیر متعلقہ افراد کو دیکھا گیا،جن میں نوجوان خواتین بھی شامل تھیں، ان خواتین کے ارکان پارلیمنٹ سے مراسم ہیں اس لئے ایسے ارکان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے، کیونکہ اس سے ایک غلط تاثر پیدا ہوتا ہے۔ اعجاز الحق کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ان لوگوں کوایسی حرکتیں نہیں کرنی چاہئیں، جن پر عوام نے اعتماد کیا ہے اگر ایسی حرکتیں کرتے ہیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے بھی جمشید دستی کے الزامات کی تصدیق کی اور سپیکر سے اس کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ شاہی سید اور رشید گوڈیل کا بھی کہنا تھا کہ جب عوامی نمائندوں کا یہ حال ہو گا، تو عوام پر کیا اثر پڑے گا؟ عوامی نمائندوں نے پارلیمنٹ جیسے فورم کو بھی داغ دار کیا ہے، اس لئے ایسے ارکان پارلیمنٹ ، جو اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جمشید دستی ان کے بارے میں ثبوت فراہم کریں تاکہ ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

یہ سوال اہم ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کے متعلق رکن پارلیمنٹ جمشید دستی کو کس نے ویڈیو ثبوت اور ”ناقابل تردید“ ثبوت فراہم کئے ہیں کہ انہوں نے یہ دعویٰ کیاکہ وہ یہ ثبوت سپیکر کو پیش کریں گے۔ پارلیمنٹ لاجز شاہراہِ دستور پر قائم ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر جمشید دستی نے یہ موضوع کیوں چھیڑا، جس کی وجہ سے یہ صورت حال پیش آئی ہے اور اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس معاملے کو چھیڑے جانے کا وقت انتہائی اہم ہے،کیونکہ جمشید دستی جانتے ہیں کہ اس کی قیمت کیا ہو سکتی ہے۔ حکمران اتحاد سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے سر جوڑ لئے ہیں۔

کیا لاجز میں مقیم ارکان پارلیمنٹ نے کچھ غیر اخلاقی ہوتا دیکھا اور اگر کسی نے دیکھا تو وہ کیا تھا؟ بقول جمشید دستی کے کہ کیا ارکان پارلیمنٹ قطب الدین کی اولاد ہیں کہ ان کے کرتوتوں پر پردہ ڈال دیا جائے؟ جمشید دستی کے بیان پر کچھ ارکان اسمبلی نے ان کی حمایت کی تو کچھ نے تنقید کی۔ بہرحال جمشید دستی کے الزمات نے ارکان پارلیمنٹ کو بے چین اور اقتدار کے ایوانوں میں ہل چل پیدا کر دی ہے۔ جمشید دستی کے انکشافات سے کچھ ممبران متفق ہیں،کچھ نہیں، حقیقت کیا ہے یہ تو تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلے گا۔

کیا ہمارے ارکان پارلیمنٹ اخلاقی طور پر اس حد تک گرے ہوئے ہیں کہ ان کے خلاف الزامات خود ان ہی کے ساتھی لگا رہے ہیں۔ کیا واقعی یہ وہ پاکستان ہے، جس کا خواب قائداعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ نے دیکھا تھا؟ اس کی تعبیر اتنی شرمناک ہو گی، جسے دیکھ کر قوم کو شرم محسوس ہوتی ہے۔ کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے ارکان کے کرتوت ہیں۔ اس اخلاقی گراوٹ کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے قانون کو صرف ایک کتاب بنا کر رکھ دیا ہے، اگر ہم آئین کی شق 62,63 کی چھلنی سے لوگوں کو چھان کر پارلیمنٹ میں بھیجیں تو کبھی ایسے الزامات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مزید : کالم