امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال اوراُس کا تدارک

امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال اوراُس کا تدارک

گزشتہ چند برسوں سے پنجاب ،خصوصاً لاہور جےسے بڑے شہروں مےں امن و امان کی صورت ِ حال تشوےش ناک حد تک بگڑتی جا رہی ہے اور جرائم کی شرح مےں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ہر شہری عدم تحفظ کا شکار ہے۔ مگر ابھی تک حکومتی سطح پر جرائم کے خاتمے اور لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہےں کئے گئے ۔ صرف لاہور مےں روزانہ چوری، ڈکےتی ، لوٹ مار، نوسر بازی، فراڈ، جعلسازی کی سےنکڑوں وارداتےں ہو رہی ہےں، اخبارات جرائم کی خبروں سے بھرے ہوتے ہےں ، اگر پچھلے صرف تےن ماہ کے اخبارات مےں چھپنے والی جرائم کی وارداتوں کی تفصےل اکٹھی کی جائے تو محسوس ہو گا کہ ہم کسی مہذب معاشرے مےں نہےں ،بلکہ جنگل مےں رہ رہے ہےں۔حالےہ برسوں مےں ےہ تاثر بھی عام ہوا ہے کہ پولےس فورس مےں بعض جرائم پےشہ /دہشت گرد تنظےموں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنا اثر رسوخ پےدا کر چکے ہےں اور پولےس مےں کرپشن کی وجہ سے ےہ لوگ با آسانی اپنا کام دکھا جاتے ہےں۔

لاہور مےں اوسطاً روزانہ چوری کی 80تا 100 ، ڈکےتی کی 50تا 60وارداتےں اور قتل و غارت ، لوٹ مار ، نوسر بازی اور جعلسازی جےسے سےنکڑوں جرائم ہوتے ہےں، عام شہرےوں کو کروڑوں روپے کی اشےاءسے محروم کر دےا جاتا ہے جبکہ ڈکےتی کے دوران فائرنگ اور قتل کرنے سے بھی گرےز نہےں کےا جاتا۔ روزانہ سےنکڑوں کی تعداد مےں کاریں اور موٹر سائےکلےں چوری ہوتی ہےں جبکہ روزانہ درجنوں افراد سے موبائل فون اور خواتےن سے پرس چھےن لئے جاتے ہےں ۔ اب تو چور اور ڈاکو دن دےہاڑے گھروں مےں گھس جاتے ہےں اور تسلی سے لوٹ مار کر کے فرار ہو جاتے ہےں لےکن 15پر کال کرنے کے باوجود پولےس موقع پر نہےں پہنچ پاتی ،اگر پولےس آبھی جائے تو محض رسمی کارروائی کر کے غائب ہو جاتی ہے ، آج تک لاہور مےں ڈاکوﺅں اور چوروں کے گروہوں کے خلاف کوئی قابلِ ذکر اےکشن نہےں ہوا۔ لاہور مےں 100کے لگ بھگ تھانے اور پولےس چوکےاں موجود ہےں جن مےں ہزاروں کی تعداد مےں پولےس کی نفری تعےنات ہے جبکہ محافظ، اےلےٹ فورس، سی آئی اے وغےرہ جےسے شعبہ جات بھی مجرموں کی سرکوبی کے لئے موجود ہےں، اس کے باوجود محسوس ہوتا ہے کہ لاہور مےں ڈاکو راج ہے۔

اےک اسلامی فلاحی مملکت کا ےہ فرض ہوتا ہے کہ وہ شہرےوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کاتحفظ کرے۔ مگر افسوس کہ پاکستان مےں اےسا نظر نہےں آتا ۔ اکثر پولےس افسران، سول ملازمےں حتیٰ کہ ڈی سی اواور امن و امان کی صورتِ حال قائم رکھنے کے ذمہ دار صرف اپنے دفتروں تک محدود نظر آتے ہےں اگر ےہ باہر نکل کر عوام کے حالات معلوم کرےں اور کھلی کچہرےاں لگا کر عوام کی فرےاد سنےں تو انہےں حقائق کا علم ہو کہ عوام کس اذےت ناک صورتِ حال سے دو چار ہےں۔ پولےس کی ناقص تفشےش ، گواہوں کو ڈرا کر بٹھانے ےا کرپٹ بد عنوان اور رشوت خور اہلکاروں کی وجہ سے بھی چور ، ڈاکو اور جرائم پےشہ افراد بآسانی ضمانتوں پر چھوٹ جاتے ہےں اور جرائم کی شرح روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ان حالات پر سنجےدگی سے غور کرے اور عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کے لئے عملی اقدامات کئے جائےں ۔

خادمِ اعلیٰ پنجاب سے توقع ہے کہ وہ پنجاب کو مجرموں اور جرائم پےشہ افراد سے پاک کرنے اور عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کے لئے نمائشی اقدامات کے بجائے ٹھوس اور عملی اقدامات کرےں گے تا کہ پنجاب کو سہراب گوٹھ بننے سے بچاےا جا سکے ۔ پنجاب مےں بڑھتے ہوئے جرائم کو کنٹرول کرنے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے پولےس کے نظام مےں بہتری لانے کی اشد ضرورت ہے ۔ پولےس افسران اور اہلکاروں کی اخلاقی تربےت اور فرض شناسی کے لئے قربانی کا جذبہ پےدا کرنے کے لئے خصوصی کورس کرائے جائےں۔پولےس کے محکمے سے کرپٹ ، بد عنوان ، رشوت خور ، بدکردار اور کالی بھےڑوں کو نکالنے کے لئے آپرےشن کلےن اپ کےا جائے کےونکہ ےہ لوگ حکومت کے ماتھے پر کلنک کا ٹےکہ ہےں، جبکہ اپنے محکمے کی بدنامی اور رسوائی کا باعث بنتے ہےں۔

پولےس کے ادارے کو صحےح معنوں مےں ڈسپلن فورس اور معےاری ادارہ بنانے اور موجودہ دور کے تقاضو ںکے مطابق ڈھالنے کے لئے پولےس مےں بھرتی کے وقت مےرٹ پر سختی سے عمل کےا جائے ، سےاسی بنےادوں پر کوئی بھرتی نہ کی جائے، اس طرح اس تاثر کو بھی ختم کےا جائے کہ پولےس مےں بھرتی ہونے کے لئے چمک کا سہارا ضروری ہے، اخبارات مےں شائع ہونے والی ان حقےقتوں کا تدارک بھی کےا جائے کہ اے ایس آئی بھرتی کا رےٹ 10لاکھ اور پولےس کانسٹےبل بھرتی ہونے کے لئے 3لاکھ ہو تو کوئی مشکل پےش نہےں آتی ۔ جو لوگ بھاری رشوت کے عوض نوکرےاں حاصل کرتے ہےں، ان سے فرض شناسی کی توقع نہےں رکھی جا سکتی۔

پولےس مےں بھرتی کے لئے فوج کی طرز پر نظام اپناےا جائے اور صرف قابلےت اور مےرٹ کی بنےاد پر بھرتی کی جائے، جبکہ سےاسی بنےادوں کی بجائے قابلےت ، فرض شناسی اور کارکردگی کی بنےاد پر ہی تقرر ، تبادلے اور ترقی ہونی چاہےے۔اگر پولےس اور عدالتی نظام مےںموجود خرابےاں دور کر دی جائےں تو جرائم مےں قابل ِ قدر کمی لائی جا سکتی ہے ۔ وزےر اعلیٰ پنجاب، وزات ِ قانون اور محکمہ پولےس کے اعلیٰ افسران پنجاب کے عوام جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کے لےے فوری طور پر اقدامات کر کے مجرموں کی سرکوبی کے لےے فےصلہ کن کردارادا کرےں۔

مزید : کالم