جمشید دستی کا نیا ایڈونچر

جمشید دستی کا نیا ایڈونچر
جمشید دستی کا نیا ایڈونچر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جمشید دستی نے اپنی زندگی میں یہ کوئی نیا کام نہیں کیا، اُس کی زندگی ایسے ایڈونچروں سے بھری پڑی ہے، بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ جمشید دستی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک صحافی کی حیثیت سے کیا تھا۔ اُس نے ایک ہفت روزہ اخبار”شاہوانی“ کے نام سے نکالا، جسے چھپوانے کے لئے وہ ہر ہفتے ملتان آتا تھا۔ کسی دوست کی معرفت اُس کی مجھ تک رسائی ہوئی اور وہ باقاعدہ میری صحافتی شاگردی میں آ گیا۔ وہ مجھ سے ہر ہفتے اپنے اخبار کی سرخیاں بنواتا اور خبروں کی نوک پلک درست کراتا۔ اُس کی خبروں میں سیکنڈلز اور انکشافات زیادہ ہوتے، میلی سی شلوار قمیض اور پاﺅں میں چپل پہنے وہ جب رات گئے اخبار کا بنڈل اپنے کندھے پر رکھ کر بذریعہ ویگن مظفر گڑھ کی طرف روانہ ہوتا، تو اُس کی چال میں ایک خاص طرح کی شان ہوتی، جیسے اُس نے اپنا فرض پورا کر دیا ہو یا جیسے اُسے بدعنوان سرکاری افسران اور عوامی نمائندوں کا کچا چٹھہ کھول کر تسکین مل گئی ہو۔ یہ اُس کے صحافتی تجربے کا ہی نتیجہ ہے کہ اب وہ ”خبریں“ نکال لیتا ہے۔ خبروں میں رہنے کا ہنر بھی جانتا ہے، وہ ایک آزاد رکن اسمبلی ہونے کے باوجود آج پوری پارلیمنٹ کو اپنے سامنے کھڑا کر چکا ہے۔ سب لوگ اس سے پناہ مانگ رہے ہیں۔ اُس کی زبان بندی کے لئے سپیکر بھی اپنا سا زور لگا رہے ہیں، جمشید دستی کا ”خود کش“ حملہ پوری پارلیمنٹ کے لئے ایک تازیانہ بن گیا ہے، جب سے سپیکر قومی اسمبلی نے اُس سے پارلیمنٹ لاجز میں شراب و شباب کی محفلوں کے ثبوت مانگے ہیں، جمشید دستی اپنی پرانی مہارت اور صحافیانہ تجربے کو کام میں لاتے ہوئے ثبوت اکٹھے کر رہاہے۔ میڈیا اُس کے انٹرویو نشر کر رہا ہے، جعلی ڈگری کے الزام کی زد میں آ کر بدنامی کا طوق پہننے والا جمشید دستی آج سچ بولنے والا ہیرو بن چکا ہے۔ عوام اسے شاباش دے رہے ہیں، تو ارکان اسمبلی، وزراءاور وزیر داخلہ اُسے معتوب قرار دے رہے ہیں۔ اُسے عزت، حرمت اور نیکی کا دشمن قرار دیا جا رہا ہے، جیسے اُس نے فرشتوں پر انگلی اٹھا دی ہو، جیسے پارلیمنٹ لاجز میں نیکیوں کی آباد دنیا کو اس نے اپنے گھناﺅنے عمل سے تاراج کر دیا ہو۔

جمشید دستی کے الزامات میں صداقت ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ تو اُس کے دیئے گئے ثبوتوں سے ہی ہو جائے گا، مگر کیا اس بات کو جھٹلایا جا سکتا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز ہی اسلام آباد میں وہ جگہ ہے کہ جہاں قانون کے پر جلتے ہیں، جہاں کسی قانون نافذ کرنے والے کی جرا¿ت نہیں کہ پَر بھی مار سکے۔ اقتدار کی اس رنگین و سنگین دنیا میں کیا کچھ ہوتا ہے، وہ کبھی سامنے تو نہیں آیا، لیکن اُس کی قانون سے ماورائیت کو دیکھتے ہوئے بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ وہاں سب کچھ ہوتا ہو گا۔ ہمارے پارلیمنٹرین کو فرشتے بننے کا بہت شوق ہے۔ اُن پر اگر شراب نوشی کا الزام لگ جائے، تو اس طرح سٹپٹاتے ہیں، جیسے اُن پر بجلی گرا دی گئی ہو۔ ہمیں تو مرحوم ذوالفقار علی بھٹو باکردار شخص نظر آتے ہیں، جنہوں نے جھوٹ بولنے کی بجائے بھرے جلسے میں کہہ دیا تھا کہ وہ تھوڑی سی پی لیتے ہیں۔ آج کے حکمران ہوں یا عوامی نمائندے، وہ ایسا سچ بولنے کی جرا¿ت نہیں رکھتے۔ خود کو فرشتہ بنا کر پیش کرنے کی روایت ہمارے سیاسی نظام کی ایک بنیادی خصوصیت ہے۔ دولت اور عورت اس سیاسی نظام کی کمزوری ہے، مگر جب کسی پراس کا الزام لگتا ہے، تو وہ قرآن و حدیث کو درمیان میں لا کر خود کو نیک و پارسا ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حیرت اس بات پر ہو رہی ہے کہ جمشید دستی کو فاطر العقل قرار دیا جا رہا ہے، یعنی یہاں جو عقل کی بات کرے، وہ فاطر العقل قرار پاتا ہے۔ کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ جمشید دستی نے اگر یہ جھوٹا انکشاف کیا ہے، تو اس کے پیچھے اُن کا مقصد یا مفاد کیا ہے۔ کیا اس نے یہ سکینڈل حکمران جماعت میں شامل ہونے کے لئے گھڑا ہے یا وہ پارلیمنٹ لاجز میں اپنے لئے کوئی اچھا کمرہ لینا چاہتاہے یا پھر یہ سب کچھ اس نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کو بدنام کرنے کے لئے کسی کے اشارے پر کیا ہے۔ اس حوالے سے کوئی بات سامنے نہیں آئی اور نہ ہی ان میں سے کوئی بات ہوسکتی ہے۔

یہ سارا کیا دھرا جمشید دستی کے اپنے میلان ِ طبع کا ہے ۔جمشید دستی نے اپنی سیاست کا آغاز گدھا گاڑی پر بیٹھ کر کیا تھا، جب وہ ضلع کونسل مظفر گڑھ کا لیبر کونسلر تھا ، تو اس نے ضلع ناظم کے خلاف گدھا گاڑیوں کا جلوس نکال کر ضلع کونسل ہال کا گھیراﺅ کر لیا تھا، حالت یہ تھی کہ طاقتور ضلع ناظم ایک لیبر کونسلر کے ہاتھوں زچ ہوکر اُس کے خلاف انتقامی کارروائی پر اُتر آیاتھا۔ جمشید دستی اب بھی اپنے اس طرزِ عمل سے باز نہیں آیا، گدھا گاڑی آج بھی اُس کی پسندیدہ سواری ہے۔ پچھلے دنوں جب سہیل وڑائچ نے اُس کے ساتھ اپنا ٹی وی پروگرام کیا، تو اُس نے انہیں بھی گدھا گاڑی پر بٹھا کرشہر کی سیر کروائی تھی۔ جمشید دستی نیچے سے اوپر جانے والا ایک شخص ہے، بس فرق یہ ہے کہ وہ اوپر جاکر بھی اپنے پاﺅں زمین سے لگائے کھڑا ہے۔ وہ مظفر گڑھ کے عوام کے لئے آج بھی دستی ہے، یعنی اُن کے ہاتھوںکی دسترس ہے۔وہ اپنے ڈیرے پر بیٹھ کر اپنے جوتے آپ پالش کرتا ہے، پھر انہیں پہن کر عوامی مسائل کے حل کی خاطر شہر کی خاک چھانتا ہے۔ ایک دن اُس نے مجھے بصد اصرار سارا وقت اپنے ساتھ رکھا، وہ اپنے دن بھر کی مصروفیات دکھانا چاہتا تھا۔ مَیں نے نوٹ کیا کہ وہ انتھک آدمی ہے اور عوام کے لئے ہمہ وقت دستیاب رہتا ہے۔ مظفر گڑھ کے عوام اُسے ون فائیو(15) کہتے ہیں،یعنی جس طرح 15پر کال کر کے فوری پولیس طلب کی جاسکتی ہے، اسی طرح جمشید دستی بھی عوام کی ہر کال پر ہر جگہ پہنچ جاتا ہے۔مَیں سمجھتا ہوں ایک ایسا شخص، جو منتخب ہونے کے بعد بھی عوام سے اس قدر اٹوٹ تعلق رکھتا ہے، ہمارے مروجہ جمہوری نظام کے لئے مس فٹ ہے۔ اپنی اسی غیر روائتی سوچ کی وجہ سے جمشید دستی نے پارلیمنٹ لاجز کے حوالے سے سچ بول دیا ہے۔ اُن کے اس سچ نے ایک طوفان برپا کرکے پورے جمہوری نظام کی چولیں ہلا دی ہیں۔ معاملہ شاید اس قدرنہ اچھلتا، اگر ارکان پارلیمنٹ خود کو فرشتہ ثابت کرنے کی کوشش نہ کرتے۔ جمشید دستی کے خلاف ایوان مچھلی منڈی بنا دیا گیا اور اُسے ”باغی“قرار دے کر سپیکر سے اُس کے خلاف کارروائی کا مطالبات داغے گئے۔

ژاں پال سارتر کا قول ہے کہ سچ سامنے آنے لگے، تو اُس پر جھوٹ کا پردہ نہ ڈالو، وگرنہ وہ مزید شدت کے ساتھ سامنے آئے گا۔ جمشید دستی کے الزامات کو جس طرح اجتماعی طور پر جھوٹے اور خود ساختہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اُس نے اس ایشو کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ ایک طرف جمشید دستی پارلیمنٹ لاجز کی بالکونیوں سے شراب کی بوتلیں اکٹھی کررہاہے ، تو دوسری طرف سوشل میڈیا پر عوام اپنے نمائندوں کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں۔ ایسی باتیں اُس وقت انہونی لگتی ہیں، جب کسی باکردار صالح شخص کے خلاف کی جائیں۔ ہمارے عوامی نمائندوں نے اپنی جو اخلاقی و معاشرتی ساکھ بنا رکھی ہے، اُس کا سب کو اندازہ ہے، ایسے میں اُن کے خلاف جو الزام بھی لگایا جائے، وہ درست معلوم ہوتا ہے۔ جمشید دستی کو اس لئے بھی معتوب قرار دیا گیا ہے کہ اُس نے یہ معاملہ سپیکر کے چیمبر میں جا کر اُٹھانے کی بجائے بھرے ایوان میں اُٹھادیا، جس سے میڈیا کے لئے بریکنگ نیوز بن گئی۔ بات قوم کے سامنے آگئی، یہاں طبقہ ¿ اشرافیہ کی اول تا آخر کوشش یہی ہوتی ہے کہ حقائق عوام کے سامنے نہ آئیں۔ جو بھی عوام کے سامنے حقائق لانے کی کوشش کرتا ہے اُسے معتوب قرار دے کر اُس کا حقہ پانی بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، مگر جمشید دستی شائد ان باتوں سے خوفزدہ نہیں،اُس نے وہ کام کیا ہے، جو انتخابات میں 62-63پر عمل درآمد کے حوالے سے ریٹرننگ افسران بھی نہیں کرسکے۔اُس نے یکدم پارلیمنٹ لاجز کے درودیوار کو پاک صاف کردیا ہے۔کچھ گندتو اُس نے ثبوت اکٹھا کرنے کے لئے خودصاف کیا ہے اور رہی سہی کسر پارلیمنٹ لاجز کے عملہ صفائی نے نکال دی ہو گی۔ اب شاید ہی وہاں کوئی شراب کی خالی بوتل پھینکے۔ جب بوتل پھینکنے کا موقع نہیں ملے گا، تو اُسے پینے کی نوبت بھی شاید نہیں آئے گی۔ جمشید دستی کے اس جہاد سے شایدپارلیمنٹ لاجز میں آئین وقانون نافذ ہوجائے۔ شاید تھوڑا بہت اسلام بھی آجائے، جس کی وجہ سے پارلیمنٹ لاجز میں شراب پینا ممنوع قرار پائے اور مجروں پر سپیکر صاحب کے حکم سے پابندی لگ جائے۔

پاکستان میں بالادستوں کی قانون شکنی پر عموماً پردہ ہی پڑا رہتا ہے، البتہ کبھی کبھار کوئی جمشید دستی جیسا سرپھرا بھانڈہ پھوڑ دیتا ہے۔ یہ واقعہ بھی کچھ اُسی قسم کا ہے، اس پر مٹی ڈالنے کی بجائے اسے اصلاح کا ذریعہ بنایا جانا چاہئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ طاﺅس و رباب کو اولیت دینے والے حکمران طبقے بالآخر ذلت ورسوائی سے دو چار ہوتے ہیں، کیا ہمارا طبقہ ¿ اشرافیہ اسی راہ پر چل رہا ہے؟

مزید : کالم