پاکستانی میڈیا کی شریعت

پاکستانی میڈیا کی شریعت
پاکستانی میڈیا کی شریعت

  

کسی بھی کام میںجلدبازی کا موقف کنفیوژن پھیلاتا ہے، جیسے آج کل پاکستان کا میڈیا اس بات پر تلا ہوا ہے کہ طالبان کا فوجی آپریشن کے سوا کوئی حل نہیں ، اسے طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کی جلدی ہے، ان کی طرف سے فوج کو آپریشن کے لئے اکسانے کا عمل انہیں مشکوک بناتا جارہا ہے اور کنفیوژن کا دائرہ بڑھتا جارہا ہے!

 میڈیا کی جانب سے طالبان کے خلاف فوری فوجی آپریشن کے مطالبے کا سبب پاکستان میں تسلسل کے ساتھ ہونے والے حملے اور ہلاکتیں ہیں، ان کے مطابق اس خراب امن و امان کی صورت حال کا حل یہ ہے کہ فوجی آپریشن فی الفور شروع کردیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ ہمارے ہاں کے لبرل طبقوں نے اس بات پر بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے کی کوشش کی کہ وہ آپریشن کے حق میں نہیں ہے، لیکن اس سے پہلے کہ حکومت کی درگت بنتی عمران خان کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کی حمائت نے اس طبقے کو پہلے پہل جس صورت حال سے دوچار کیا اسے کنفیوژن سے تعبیر کیا گیا، کیونکہ ہمارے لبرل طبقے جنہوں نے عمران خان کو ووٹ دیئے تھے وہ موجودہ صورت حال کے تناظر میں وزیر اعظم نواز شریف کو آڑے ہاتھوں لینا چاہتے تھے لیکن عمران خان ان کی راہ کی دیوارثابت ہوگئے ، چاروناچار لبرل طبقون نے عمران خان کے بھی لتے لینے شروع کردیئے اور حسب معمول عمران خان یو ٹرن لیتے ہوئے فوجی آپریشن کے حق میں ہوگئے اور اب ان کی جماعت کے اکابرین وضاحتیں کررہے ہیں کہ مذاکرات سے عمران خان کی مراد کیا تھی جس سے ماحول میںموجود کنفیوژن اور گہرا ہوگیا ہے!

اس سے بڑا کنفیوژن یہ ہے کہ میڈیا ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے کہ پاکستانی شریعت سے مراد پاکستانی آئین ہے، وہ شدت پسندوں کی طرح ثابت کرتے ہیں کہ چونکہ پاکستان کے آئین میں شریعت کا ذکر ہے ، اس لئے پاکستان کو کسی اور شریعت کی ضرورت نہیں ہے،حالانکہ شریعت سے مراد وہ حدود ہیں، جن کو حدوداللہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان کا آئین حدوداللہ کی نہیں بلکہ ریاستی حدود کی بات کرتا ہے اور ریاستی اداروں کی حدبندیاں کرتا ہے، ہمارے آئین میں کہیں بھی قتل یا چوری کی سزا درج نہیں ہے!

 میڈیا اس سے بھی غرض نہیں رکھتا کہ حدوداللہ کو کسی ریاست یا ریاستی آئین میں محدود نہیں کیا جاسکتا، حدوداللہ ریاست سے ماورا ہیںاور شرط صرف یہ ہے کہ اس کے ماننے والوں کا مذہب اسلا م ہو،ہمارے امریکی میڈیا کو اس بات سے بھی غرض نہیں کہ آئین کتنا ہی مقدم کیوں نہ ہو، وہ انسانوں کا بنایا ہوتا ہے ، اسے کسی صورت خدا کی آخری کتاب کا نعم البدل قرار نہیں دیا جاسکتاکیونکہ قرآن کریم کسی انسان کی تخلیق نہیں ہے، قرآن کی نقل نہیں کی جاسکتی ، قرآن اصل ہے جبکہ ہمارا آئین کتنا ہی جامع اور بھرپور کیوں نہ ہو، کسی دوسرے آئین کی نقل کے سوا کچھ نہیں!

میڈیا اسی لئے عمران خان کے لتے لے رہا ہے اور انہیں ناسمجھ قرار دے رہا ہے کیونکہ وہ ان طالبان سے جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور دے رہے ہیں جن کا مطالبہ پاکستان میں شریعت کا نفاذ ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ عمران خان کے موقف کی مخالفت وہ لوگ بھی کر رہے ہیں جن کی عمران خان کے لئے دیئے گئے ووٹوں کی سیاہی بھی ابھی نہیں سوکھی ہوگی!

دوسری جانب عمران خان برملا کہتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا کے جغادریوں کے منہ کو اس حد تک ڈالر لگ چکے ہیں کہ اب وہ خونی بن چکے ہیں!....دیکھا جائے تو عمران خان کا موقف بڑا واضح ہے، وہ کہتے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات کئے جائیں کیونکہ مذاکرات ناکام ہوگئے تو فوجی ایکشن کیا جاسکتا ہے لیکن اگر آپریشن کے باوجود ناکامی ہوگئی تو کیا کریں گے؟.... عمران خان کے اس موقف پر پاکستان کا میڈیا بڑا جزبز ہوتا ہے، اور اسے فوجی جوانوں کے حوصلے پست کرنے کے مترادف قرار دیتا ہے، حالانکہ ہماری رائے میں شاید عمران خان کا مطلب یہ ہے کہ خدانخواستہ اگر پاک فوج ناکام ہوگئی تو پاکستان کا یہی میڈیا اقوام متحدہ کے بینر تلے امریکی فوج کو پاکستان کے شمالی علاقوں میں در آنے کی تجویز دینے سے بھی نہیں چوکے گا!

پہلے ہی صورت حال یوں بن چکی ہے کہ میڈیا کی ریاست سے موقف کی لڑائی ہو رہی ہے اور میڈیا ہر اس شخص کے لتے لیتا ہے جو امریکہ کے خلاف بات کرتا ہے، لیکن شکر کا مقام یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان میں عمران خان کے خلاف کوئی عوامی جلوس نہیں نکلااور جماعت اسلامی بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے اور مذاکرات کے موقف پر یہ دونوں جماعتیں حکومت کے ساتھ ہیں اور حکومت فوج کے ساتھ ہے!

مزید : کالم