شہر کا ہر شخص سوگوار کیوں ہے ؟

شہر کا ہر شخص سوگوار کیوں ہے ؟
شہر کا ہر شخص سوگوار کیوں ہے ؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہم ابتداءکرتے ہیں وحشت کلکتوی کے اس شعر سے کہ :

زندگی کی دوسری کروٹ تھی موت

زندگی کروٹ بدل کر رہ گئی

اس جہان فانی میں نہ پیدائش کوئی کرامت ہے اور نہ موت کوئی انہونی بات ہے کہ پیدا ہوا ہے، اپنی مقررہ مدت پوری کرکے واپس لوٹ جائے گا، لیکن خوش بخت ہیں وہ ”عظیم لوگ “ جب بچھڑتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس سے ایک خلاءپیدا ہوگیا ہے ۔آج کے سلگتے معاشرے میں جب اخلاقی اقدار، رواداری، مشرقی رکھ رکھاﺅ اور آداب دم توڑ رہے ہیں، ایسے میں عبدالعزیز خان چاکرانی کا انتقال ایک سانحہ سے کم نہیں۔ ایسی شخصیات اپنا فطری وقت گزار کر چلی جاتی ہیں، مگر ان کا ذکر خوشبو کی طرح اس ماحول کو مہکاتا رہتا ہے، جس ماحول میں اعلیٰ کرداروں کی کمی کے باعث گھٹن جیسی کیفیت پیدا ہوچلی ہے۔ ایسی غمگین خوشبو گلاب کی ان پنکھڑیوں سے آرہی تھی جو ہم شجاع آباد کے نامور سماجی وسیاسی رہنما خان عبدالعزیز چاکرانی کی قبر پر نچھاور کررہے تھے۔

زندگی سکندر آباد میں بِتانے والے عبدالعزیز چاکرانی کی تدفین بھی اسی سرزمین میںہوئی۔ ان کی وفات کے موقع پر ان کے پارلیمانی دوست ڈاکٹر محمد سلیمان قریشی نے کہا کہ ”یہ دنیا ایک سرائے ہے، ہر کسی کو کچھ لمحے گزار کر یہاں سے چلے جانا ہے۔ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ کوئی اپنے لمحے کس طرح گزارتا ہے؟.... عبدالعزیز خان چاکرانی نے وہ وقت مخلوق خدا کی خدمت میں صرف کیا۔ وہ تو چلے گئے، مگر ان کی خدمات ہمیشہ یاد رہیں گی۔ عبدالعزیز خان چاکرانی بھارت کے ایک گاﺅں فرخ نگر تحصیل ایواڑی میں پیدا ہوئے اور وہیں پر پلے بڑھے۔ پاکستان بننے کے بعد وہ ہجرت کرکے شجاع آباد کے ایک مشہور گاﺅں سکندر آباد میں بس گئے اور آخری دم تک سکندر آباد میں ہی رہے۔

وہ اپنے علاقے میں سب سے بڑے زمیندار اور سیاست دان تھے، پارلیمانی اقدار کے پاسبان تھے۔ بڑے سے بڑے تنازعہ کو پنچایت کے ذریعے حل کردیتے تھے۔ پنچایت کے ماہر تھے، انصاف پرور تھے، فیصلہ کرنے میں کسی دباﺅ اور خوف کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ وہ کئی بار ضلع کونسل ملتان کے ممبر منتخب ہوئے۔ ضلع ملتان کے سیاست دان ان کا بہت احترام کرتے تھے۔ تحصیل شجاع آباد کے اکثر سیاست دان اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ گو عبدالعزیز خان چاکرانی کی زبان اردو تھی، مگر وہ ایک ایسے درخت کی مانند تھے، جنہوں نے بہت جلد اپنی جڑیں وسیب کی دھرتی میں مضبوط کرلیں اور ان کا مزاج اس ماحول کے ساتھ رچ بس گیا جو ماحول اب بھی ان کے بچھڑنے پر سوگوار ہے۔ وہ شخص جس نے ساری زندگی اپنی ذاتی تشہیر سے احتیاط برتی، اس کے چلے جانے کے بعد سب بتاتے ہیں کہ انہوں نے بے حد قلیل وقت میں اپنے علاقے کے لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے میں بے مثال کام کیا۔ علاقے کے لوگ ان سے عقیدت کی حدتک محبت کرتے تھے۔

سیاست نے سازش کے تحت شجاع آباد کی صاف ستھری ہواﺅں کو بھی آلودہ کردیا،ورنہ یہ شہر ہرقسم کے تعصب سے پاک تھا۔ سرکار دوعالم ختم المرسلین ﷺ نے اچھے انسان کی جوتین خوبیاں بیان فرمائی ہیں.... کہ وہ اچھا ہمسایہ ہو، لین دین کا کھرا ہو اور ہم سفروں کے ساتھ حسن سلوک روارکھتا ہو۔ اس کسوٹی پر جب مَیں عبدالعزیز خان کو پرکھتا ہوں تو وہ مجھے ایک مثالی انسان کا پیکر نظر آتے ہیں ان کے احباب، ان کے قرابت دار، ان کے جاننے والے، ان سے لین دین کا معاملہ کرنے والے ،ایک انسان کے طورپر اللہ تعالیٰ نے جو ہنر انہیں بخشا،اس سے فیض یاب ہونے والے کسی فرد بشر کو کبھی شکوہ کناں نہیں پایا۔ مَیں ان سے کئی بار ملاہوں ،وہ میرے والد ماجد جناب عبدالرحمان غوری کے تعلق دار بھی تھے۔ اکثر والد صاحب کے ہمراہ میں انہیں ملتا رہا ہوں ۔مرحوم خداترس انسان تھے، کئی ایسے کام جو صدقہ جاریہ کے زمرے میں آتے ہیں لوگوں کو ان کی یاد لاتے رہیں گے اور دعاﺅں کی سوغات ان کو پہنچتی رہے گی۔ ان کا ایک ہونہار، وفاشعار اور فرمانبردار فرزند خدا کے ان بندوں کی خدمت بھی جاری رکھیں گے، جن کی بہت محبت اور پورے احترام سے خان عبدالعزیز پذیرائی کرتے تھے اور اپنے رزق حلال سے قرض کی طرح ادائیگی کرتے تھے ،جن کے نام اور پتے پورے اہتمام سے ایک رجسٹرمیں درج ہیں۔ اس رجسٹر کی حفاظت وہ کسی خفیہ دستاویز کی طرح کرتے تھے کہ کوئی جان نہ لے کہ اس گانٹھ میں کیا ہے۔ بعض حضرات کے ہاں وہ خود چل کر جاتے اور اس آمد ورفت کو بھی مخفی رکھتے۔ ظاہر ہے کہ دنیاوی مال واسباب کی مانند یہ ذمہ داری بھی ان کے صاحبزادے افسر خان بلوچ چاکرانی کو ہی منتقل ہوگی جو ان کی اکلوتی اولاد ہیں۔ اور وہ بھی اپنے پدر بزرگ کی طرح اسے دنیا سے چھپا کر رکھیں گے کہ باپ کا علم بیٹے کو ازبر ہے۔

 عبدالعزیز خان چاکرانی صاحب خاصے عرصے سے علیل تھے، لیکن گردے کا مرض اچانک ابھر کر باہر آیا، دونوں گردے ناکارہ ہوجانے کے بعد ان کی جدائی کا بہانہ بن گیا۔ 90برس عمر پائی اور وہ سال نو کی صبح ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ ان کی نماز جنازہ ، پھر 3جنوری بروز جمعتہ المبارک قل خوانی کے موقع پر ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ ان کی موت سے نہ صرف مَیں، بلکہ تحصیل شجاع آباد کے عوام ایک محب وطن ، اسلام دوست اور مخلص سیاسی وسماجی رہنما سے محروم ہوگئے ہیں۔ خان عبدالعزیز چاکرانی جیسی شخصیت کی ہمیں شدت سے کمی محسوس ہورہی ہے، جو آپس میں مفاہمت اور ہم آہنگی پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے تھے۔ اگرچہ خان عبدالعزیز چاکرانی ہم سے رخصت ہوگئے ہیں، لیکن ان کا مشن جاری وساری رہے گا، کیا ہی بہتر ہوکہ سید جاوید علی شاہ، ممبر قومی اسمبلی، سید مجاہد علی شاہ ، سابق ممبر صوبائی اسمبلی آگے بڑھ کر مرحوم کے صاحبزادے خان افسر خان بلوچ چاکرانی سے معاونت کریں اور ان کے مشن کی تکمیل کے لئے ان کی رہنمائی فرمائیں۔

مزید : کالم