پاکستانی پولٹری فارم کے ولائتی چوزے

پاکستانی پولٹری فارم کے ولائتی چوزے
 پاکستانی پولٹری فارم کے ولائتی چوزے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 ہمارے ہر کسی نہ کسی شہر کی سڑک پہ کوئی ایسی تحریر تو آپ نے بھی پڑھی ہوگی کہ جب نظر پڑی بے اختیار ہنسی نکل گئی ۔ جیسے ساٹھ کی دہائی میں راولپنڈی کے ایک ہوٹل کی دیوار پہ جلی حروف میں یہ عبارت ’با پردہ ماحول ، فلش سسٹم لذیذ کھانے ‘ ۔ ہوٹل کی یہ عمارت لیاقت روڈ پر شامی آرامگاہ برائے مسافران کے عین سامنے واقع تھی ، لیکن مزاحیہ پروگرام تو ایوب پارک سے صدر کی طرف منہ کرتے ہی کچہری کے پاس اس تحریری وارننگ سے شروع ہو جاتا ’بند ہے برائے ٹرک ہائے و گڈاجات‘ ۔ البتہ لال کرتی میں اس کلینک کے آثار کب کے مٹ چکے جس کے باہر ایک روایت کے مطابق درج تھا ’یہاں بواسیر اور دیگر امراض چشم کا علاج ہوتا ہے‘ ۔ بنی چوک سے اصغر مال کو جاتے ہوئے نیو اسٹینڈرڈ قلچہ سٹور ، گلشن کلر میچنگ ہاﺅس اور سرسوں کے تیل والی سلیم ہائی جنٹری آئل کمپنی ان کے علاوہ ہیں ۔

 ویسے کسی نام کا مزاحیہ تاثر صرف الفاظ و معانی کا باہمی کھیل نہیں ہوتا، بلکہ ، جیسا کہ مثالوں سے ظاہر ہے ، لفظ کے چناﺅ میں کوئی کمی بیشی اور کہیں کہیں رواج سے ہٹی ہوئی ترتیب اپنا رنگ دکھاتی ہے ۔ ایک تیسری صورت خود آپ کے زمان و مکاں کا فرق ہے یا یہ کہ سماجی طبقہ کی سیڑھیاں چڑھنے اترنے سے تصور کی درجہ بندیاں تبدیل ہو گئیں ۔ کئی سال ہوئے جب لاہور میں پہلا کافی اینڈ آئس کریم پارلر دیکھا تو ماڈرن آوٹ لک رکھنے کے باوجود میرا دماغ گھڑی بھر کو چکر ا گیا تھا ۔ بالکل اسی طرح جیسے ماضی کے وزیر آباد میں ایک شادی کے مرغن کھانے کے بعد ایک تھڑا نما ریستوراں میں ابا نے بیرے سے کہا کہ بھئی ، اگر چائے نہیں ہے تو اس کی جگہ کچھ اور لے آﺅ ، جس پہ بیرا فیرنی کی پلیٹیں اٹھا لایا ۔ ہم چائے اور فرنی کے رشتہ پہ خوب ہنسے اور بیرا ہماری ہنسی پہ ہنسنے لگا ۔

 اگر آپ وزیر آباد والے بیرے کے طرفدار نہیں تو اس بنا پہ میرے ہمدرد ضرور ہوں گے کہ آج سے تین دن پہلے لاہور کی ایک پوش بستی میں ایک با عزت تعلیمی ادارے کے گیٹ پر نیم قوس کی شکل میں نصب ایک آہنی بورڈ نے مجھے حیران کردیا ہے ۔ بورڈ پہ ایک باعزت نام لکھا تھا اور آگے ’ ۔ ۔ ۔ ہائی سکول پرائیویٹ لمیٹڈ‘ ۔ اگر یہ الفاظ پڑھ کر آپ کو ہنسی نہیں آئی اور مجھے لگا کہ یہ رونے کا مقام ہے تو خدارا ، ریڈیو پاکستان کے مرحوم ڈائرکٹر جنرل زیڈ ۔ اے ۔ بخاری کی زبان میں میرا مذاق نہ اڑائیے ، جنہوں نے اپنے ایک ماتحت سے کہا تھا کہ آپ میرے اخلاق پہ حملہ کریں تو میں آپ کے اخلاق پہ حملہ کروں گا ، آپ میرے حسب نسب پہ حملہ کریں اور میں آپ کے حسب نسب پہ حملہ کروں گا ، لیکن جب آپ میری عقل پہ حملہ کرتے ہیں تو بتائیے میں کس چیز پہ حملہ کروں ۔

 ذاتی بات کروں تو پرائیویٹ اور پبلک کمپنیوں کے درمیان تمیز تو کارپوریٹ لا پڑھ کر بھی پیدا نہیں ہوئی ، لیکن کم عمری میں بسوں اور ٹرکوں کی بدولت زبان و بیان کے جو فوائد حاصل ہوئے ان میں ’لمیٹڈ‘ کی اصطلاح بھی شامل ہے ۔ راولپنڈی سے ایبٹ آباد جانے والی سید علی اصغر شاہ کی اندرونی انجن والی ’پھینی‘ بسیں باوقار سی لگتیں کہ ان کی سفید باڈی پہ پنڈی ہزارہ ٹرانسپورٹ کمپنی لمیٹیڈ لکھا ہوتا ۔ ساکھ کی وجہ براستہ کنونشن مسلم لیگ صدر ایوب سے شاہ صاحب کی قربت بھی سمجھی گئی ، جس کے فیض سے ان بسوں کو واہ کے ممنوعہ علاقے سے گزرنے کی اجازت تھی ، جسے کنڈکٹر حضرات نے ہمیشہ ’فیکٹری ‘ کہہ کرہی پکارا ۔ اجازت تو ’ڈرئیں ڈرئیں ‘ کرتی ہوئی ٹیکسلا ایکس سروس مین ٹرانسپورٹ کی اکلوتی ’منہ والی‘ بس کو بھی تھی ، پر اس کے ساتھ ’لمیٹڈ‘ کا دلکش لاحقہ کبھی نہ جڑ سکا ۔

 پندرہ سال ہو گئے جب اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اس پہ حیران ہوئے تھے کہ امن کی جو بس اٹاری سے واہگہ لے کر پہنچے تھے ، وہ دیکھتے ہی دیکھتے کارگل کی چڑھائیاں کیسے چڑھ گئی ۔ واجپائی جی کی طرح آج میری سمجھ میں بھی نہیں آتا کہ پنڈی ہزارہ کمپنی لمیٹڈ کی لاری بڑے بڑے بنکوں ، انشورنس کمپنیوں اور تجارتی کارپوریشنوں کے باہر رکتی ، مسافروں کو اتارتی چڑھاتی ، کاروبار کی منزلیں طے کرتی رہتی تو ، خیر ، کوئی بات بھی تھی ،لیکن ہمارے منافع خوروں کی ویگن تو ہر چھوٹے بڑے سکول کی بلڈنگ کے اندر یوں جا پھنسی ہے جیسے ، سنا ہے کہ امرتسر میں ایک عظیم الشان ہال کھڑا ہوتے ہی یہ سوچ کر منتظمین کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے تھے کہ جو بلڈوزر تعمیر شدہ احاطہ کے اندر رہ گیا ہے ، اسے اب کس طرح باہر نکالا جائے ۔

 ہمارا بلڈوزر تعلیم و تدریس کے ایوان میں کیسے گھسا اور وہاں کیوں پھنس کر رہ گیا ؟ کیا اس ’گیٹ کریشنگ‘ کی ابتدا انگریز نے کی اور اگر کی تو انگریز کے چلے جانے پہ بھی ہم بلڈوزر کا راستہ روک کیوں نہ روک سکے ؟ حساس ذہنوں کے لئے اس کے کئی پہلو اور بھی ہیں ۔ اس لئے اگر آج کی خوشگوار صبح میرے مرحوم دوست اور بی بی سی کے سینئر ساتھی سید اطہر علی کے بقول ، آپ میری ’عالمانہ گفتگو ‘ سے بور نہ ہو گئے ہوں تو جنا ب ، ان میں ایک ناز ک سوال میڈیم کا تضاد ہے ۔ تضاد محض یہاں تک نہیں کہ آزاد پاکستان میں اکنامکس کے ایک اسٹوڈنٹ نے سپلائی ، ڈیمانڈ اور ڈمنشنگ مارجنل یوٹلٹی کو انگریزی میں سمجھا اور کسی اور طالب علم نے مفکر پاکستان کی اولین نثری تالیف ’علم الاقتصاد‘ کی روشنی میں رسد ، طلب اور تقلیل افادہ ءمختتم کو رٹہ لگا لیا ۔ یہ تو ایک جزوی سچائی ہوئی ۔ مسئلہ اس سے گمبھیر ہے ۔

 اپنی طالب علمی کو یاد کروں تو کالج کی نچلی سطح تک ذریعہ ءتعلیم میں سکول کا فرق ذرا سا اپنا آپ دکھایا کرتا ۔ اس کا تعلق لیکچر کو سمجھنے کی استعداد سے بھی تھا اور ذرا ذرا طبقاتی رویوں سے بھی ۔ اسی لئے تو انٹر میڈیٹ میں ہمارے ماڈل ہائی سکول کے طالب علم کنٹونمنٹ پبلک سکول سے آئے ہوئے ٹائی کوٹ والے لڑکوں پر ’پبلک کے شوہدے‘ کی پھبتی کستے اور ایک کانونٹ سکول میں چپکے چپکے نماز پڑھنے والی کچھ طالبات کو ’اف ، یہ آرتھوڈوکس لڑکیاں‘ کا طعنہ سننا پڑتا ۔ پھر بھی انفرادی مشاہدے کو معیار بنایا جائے تو بی اے ، ایم اے ، پیشہ ورانہ اداروں اور عملی تربیت گاہوں تک پہنچتے پہنچتے انسانوں کے یہ دونوں دھارے آہستہ آہستہ یوں ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے جس طرح مرالہ کے مقام پر دریائے چناب اور توی کی سرخ اور سفید مو جیں کچھ فاصلہ طے کرکے بتدریج یک رنگ ہو جاتی ہیں ۔

دریاﺅں کا سنگم تو قدرتی نالوں ، آبشاروں اور جھرنوں سے پھوٹنے والے پانیوں کے ملاپ کی علامت ہوا کرتا ہے ، لیکن اگر کشن گنگا ڈیم بنا کر اس فطر ی بہاﺅ کو روکنے لگیں تو ایسی مصنوعی آبی گزر گاہیں ہی وجود میں آئیں گی جو ساتھ ساتھ چل کر بھی ایک دوسری میں مد غم نہیں ہو پاتیں ۔ ہاں ، کناروں سے چھلک کر انسانی بستیوں کو تاراج کر دینے والا یہ ریلا منفرد شاعر احمد راہی کی یاد دلا سکتا ہے جس نے آزادی کے ابتدائی برسوں میں یہ نوحہ لکھا : ’وے راوی دریاوا مرا پت موڑ دے ‘ ۔ آج بھی یہ شعر گنگنائیں کہ ’پکے رہ گئے کچے رڑ گئے ، بے زوراں دے بچے رڑ گئے‘ تو احساس ہو گا کہ بے زوروں کے بچے فقط راوی کے مصیبت زدگان کا استعارہ نہیں ۔ یہ تو ’بڑھتا ہوا سیلاب ہے بحر و بر کا ‘ جس کے زور سے ۔ ۔۔ ہائی سکول پرائیویٹ لمیٹڈ کی محفوظ عمارت بھی ملبہ کا ڈھیر بن سکتی ہے ۔

ہماری تعلیم و تدریس کے ایوان میں منافع خوری کا بلڈوزر کوئی ایک دن میں نہیں جا پھنسا ۔ البتہ کسی کی طرفداری یا مخالفت کئے بغیر یہ کہہ سکتا ہوں کہ بلڈوزر کو سکول کے اندر گھسیڑنے کا حتمی اشارہ ہمارے اب تک کے سب سے متنازعہ صدر نے شائد کسی سچے جذبہ سے مغلوب ہو کر یہ کہتے ہوئے دیا تھا کہ ایک مخصوص تعلیمی سال ختم ہونے پر ثانوی درجہ کا کوئی امتحان انگریزی میں نہیں لیا جائے گا ۔ اس فیصلہ سے ان والدین کا تراہ نکل گیا جو کسی بھی قیمت پر اپنے بچوں کو اردو میڈیم میں میٹرک نہیں کروانا چاہتے تھے ۔ اس اعلان کی روشنی میں راولپنڈی کی حد تک کیمبرج سسٹم کے ان اولین سکولوں کے قیام کی صوتی شہادت میرے پاس اب بھی ہوگی جو ماضی کے اکثر انگلش میڈیم اداروں کے بر عکس کسی تعلیمی بورڈ ، وزارت ، نظامت یا انسپکٹوریٹ آف یورپین ٹائپ سکلوز کے ماتحت نہیں تھے ۔

 پرانے سسٹم میں مختلف میڈیم کے باوجود عملی طور پہ نظام مشترک تھا ۔ بس ’پبلک کے شوہدے‘ انگریزی کے مضمون میں ترجمہ کی بجائے ان دیکھے پیراگراف کی تلخیص کیا کرتے ، اور اللہ اللہ خیر صلا ۔ یہ تھوڑی تھا کہ ’گل جدا ، سرو جدا ، نرگس بیمار جدا‘ ۔ مراد ہے کہ نصاب ، تعلیمی بورڈ ، سند جاری کرنے والی مجاز اتھارٹی ایک ہی تھی جیسے پاکستان بننے سے پہلے قائد اعظمؒ فرمایا کرتے کہ ہمارا خدا ایک ، رسول ایک ، کتاب ایک ، اس لئے ہم ایک قوم ہیں ۔ آزاد پاکستان میں ملت بیضا کے بچوں کو دیسی اور ولائتی چوزوں میں بانٹ کر ہم نے ان کے لئے تدریسی مواد ، تعلیمی اداروں کے ماحول ، تصور حیات اور طبقاتی وابستگیوں کے بیچوں بیچ یونیورسٹی کی سطح تک ایک دیوار کھڑی کردی ہے ، اور ہمارے غیور ، ہوش مند اور قوم ساز نجی سیکٹر نے حکومت سے کہہ رکھا ہے کہ ’جا تجھے کشمکش دہر سے آزاد کیا‘۔

 امرتسر سے امپورٹ کیا گیا لطیفہ اس لحاظ سے تو بس ایک قصہ ہی ہے کہ ہمسایہ ملک نے ، جسے ہر کام میں نیچا دکھانا ہماری شعوری کوششوں کا حصہ رہا ، اپنی درسگاہوں میں تاحال اس بلڈوزر کو گھسنے ہی نہیں دیا ۔ اب سنا ہے کہ بھارت کے کچھ ’بدھی جیوی‘ یعنی راولپنڈی کے نشاط سنیما والے شیخ منصور صادق کی طنزیہ زبان میں ’انٹل کچول‘ ، اپنے یہاں کیمبرج سسٹم متعارف کرانے پہ غور کر رہے ہیں ۔ انہیں ہماری مثال سے عبرت حاصل کرنی چاہئیے ، وگرنہ اقبال تو کہہ گئے ہیں کہ ’نہ سمجھو گے تو مٹ جاﺅ گے اے ہندوستاں والو‘ ۔ چونکہ ہندوستاں سے مراد متحدہ بر صغیر ہے ، اس لئے میرے ہم وطنوں کے لئے بھی مضمون واحد ہے ۔ باقی بلڈوزر کو نکالنے کے لئے زور لگانا یا مسلم پنجاب کی روایت کے مطابق ، مفت جھونٹے لینے کی آس میں اس پہ خود بھی سوار ہو جانا ، اس کا چناﺅ تو ہمارے ہی ہاتھ میں ہے۔

 

مزید : کالم