ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لئے حکومت اور عوام کی ذمہ داریاں

ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لئے حکومت اور عوام کی ذمہ داریاں

 حیدر آباد کے قریب لونی کوٹ کے مقام پر دو کاروں کے تصادم میں آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ حادثہ تیز رفتاری کے سبب پیش آیا۔اس سے قبل پندرہ جنوری کونواب شاہ کے قریب ایک بھرے ٹرک سے سکول وین ٹکرانے سے سکول کے انیس بچوں سمیت اکیس افراد ہلاک اور بیس سے زائد شدید زخمی ہوگئے تھے ان میں سکول کے اساتذہ بھی شامل تھے۔ یہ حادثہ بھی ٹرک ڈرائیور کی تیز رفتاری اور غفلت کے سبب پیش آیا۔

پاکستان میں ٹریفک حادثات میں ہر سال ہزاروں قیمتی جانیں سٹرکوں کی خراب حالت یا ڈرائیونگ میں غفلت اور لاپرواہی برتنے سے ضائع ہوجاتی ہیں۔ صرف ایک سال میں 2007ءکے دوران سٹرک کے حادثات میں ساڑھے پانچ ہزار سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔پاکستان ہر دس ہزار کاروں کی تعداد پر ہونے والے روڈ حادثات کی تعداد کے حساب سے دنیا میں سب سے آگے ہے۔ پاکستان میں ہر سال ٹریفک حادثات سے ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ دس ارب روپے سے زیادہ کا ہے۔ جبکہ حکومت کی طرف سے اس نقصان سے بچنے کے لئے روڈ سیفٹی پر اس کا عشر عشیر بھی خرچ نہیں کیا جارہا۔ حادثات کی بڑی وجہ سڑکوں کی خراب حالت اور ڈرائیوروں کی لاپرواہی اور تیز رفتاری ہوتی ہے۔ ٹرکوں، بسوں اور ٹرالرز کے ڈرائیوروں کو ٹریفک قواعد اور احتیاطی تدابیر کی تربیت نہیں دی جاتی۔ بسوں میں فرسٹ ایڈ باکس اور آگ بجھانے والے آلات نہیں رکھے جاتے۔بسوں اور ٹرکوں کے ڈرائیور اکثر صورتوں میں مسلسل سولہ سولہ گھنٹے سے زائد ڈرائیونگ کرتے ہیں۔ ان سے اکثر نشہ کے عادی ہوتے ہیں۔ مسافروں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہونے کے بجائے کم سے کم وقت میں سفر ختم کرنا ان کے پیش نظر رہتا ہے۔ انہیں ڈرائیونگ لائسنس دینے سے پہلے رشوت لی جاتی ہے اور لائسنس مل جاتا ہے۔ کار ڈرائیوروں کو لائسنس دینے کے سلسلے میں بھی یہی صورت حال سامنے آتی ہے۔ حکومت کی طرف سے یا میڈیا اور بالخصوص الیکٹرانک میڈیا کی طرف سے اپنے طور پر ٹریفک قواعد کی پابندی کرنے کے سلسلے میں ڈرائیوروں کو کچھ بتانے اور سمجھانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ دنیا بھر کی طرح ہمارے ہاں بھی ایسے ہی ٹریفک قواعد ہیں کہ اگر ان کی پابندی ہر کوئی کرے تو سٹرکوں پر کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آسکتا۔ ٹریفک قواعد کی پابندی ڈرائیوروں نے خود اپنی جان اور دوسروں کی جان کی حفاظت کے لئے کرنا ہوتی ہے۔ لیکن مختلف ٹریفک قواعد کے متعلق نہ کسی نے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے وقت جانا ہوتا ہے نہ یہ لوگ اس کے بعدہی کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک قیاس کے مطابق پاکستان میں کاریں چلانے والوں کی بھاری اکثریت کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ۔

اپنی لین میں رہنے اور دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں لین بار بار نہ بدلنے کی تربیت اور شعور بہت کم ڈرائیوروں کو ہے۔ غلط سائڈ سے اوورٹیک کرنا، ٹریفک پھنسی ہوئی ہونے کی صورت میں بے صبری دکھانا اور مخالف سمت سے آنے والوں کا راستہ بھی بند کردینا ہر کہیں ہر موقع پر نظر آتا ہے۔ ٹریفک کا انفراسٹرکچر مکمل نہ ہونے سے بھی بہت سی مشکلات سامنے آتی ہیں۔ لاہور جیسے بڑے شہروں میں بھی کہیں حد رفتار کا کوئی سائن بورڈ آویزاں نہیں ہے۔ لین کے نشانات اکثر جگہوں پر مٹ چکے ہیں۔کیونکہ یہ ناقص پینٹ سے لگائے جاتے ہیں۔ سٹرکوں پر جگہ جگہ گڑھے ہونے کی وجہ سے ڈرائیور اچانک لین بدلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جس سے حادثات پیش آتے ہیں۔ موٹر سائیکل والوں کے لئے کوئی لین نہیں۔نہ ہی کوئی انہیں بتاتا ہے کہ انہیں انتہائی لیفٹ سائڈ یعنی سلو لین میں چلنا چاہئے ۔ وہ زگ زیگ بناتے ہوئے کاروں بسوں اور ٹرکوں کے درمیان سے گذرتے رہتے ہیں ، اپنے اور دوسروں کے لئے خطرات پیدا کرتے ہیں۔ بڑے شہروں میں فاسٹ موونگ ٹریفک کے ساتھ ساتھ ہر جگہ گڈے، ریڑھے، تانگے ، ریڑھیاں اور ٹریکٹر بھی چلتے پھرتے ہیں جو ٹریفک میں بڑی رکاوٹ اور حادثات کا باعث بنتے ہیں۔ ٹریکٹر جو کاشتکاری کے لئے اکثر حکومت سے رعائتی نرخوں پر حاصل کئے جاتے ہیں ، ان کے ساتھ ٹرالیاں لگا کر انہیں ان کی حد رفتار سے کئی گنا زیادہ رفتار پر شہروں کی سٹرکوں پر دوڑایا جاتا ہے۔ ریڑھوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں پر آگے اور پیچھے کی طرف کئی کئی گز تک لمبا لٹکا ہوا سریا اکثر خوفناک حادثات کا باعث بنتا ہے۔ گدھا گاڑیوں اور تانگوں اور ریڑھوں پر ٹریفک قواعد سے قطعی ناآشنا لوگ بیٹھے اوٹ پٹانگ طریقے سے جانوروں کو بھگاتے پھرتے ہیں۔ گدھا گاڑیوں پر اکثر چھوٹی عمر کے بچے بیٹھے ٹریفک میں پھنسے نظر آتے ہیں۔

 ٹریفک سگنلز بھی اکثر لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بند رہتے ہیں ، اگر چوراہوں میں ٹریفک سارجنٹ موجود نہ ہوں تو ٹریفک گھنٹوں تک پھنسی رہتی ہے۔ بڑے چوراہوں میں جہاں چار چار ٹریفک سارجنٹس کی ضرورت ہوتی ہے وہاں اکثر ایک سارجنٹ ہی بھاری ذمہ داریاں سنبھالے ہوتا ہے۔ شہروں کی مختلف سڑکوں پر سپیڈ بریکرز کی صورت حال بھی ابتر ہے۔ جہاں کسی کا جی چاہا سپیڈ بریکر بنا لیا۔ ان کی اونچائی اور مناسب ڈھلوان کی کسی کو فکر ہے نہ اس سلسلے میں بین الاقوامی معیارات کو کسی نے ملحوظ رکھا ہے۔ ایسے سپیڈ بریکرز سے کئی گز پہلے سڑک کے اوپر دونوں طرف نمایاں نشانات اور سپیڈ بریکرز کے اوپر بھی نمایاں لائنیں ہونا ضروری ہیں ان کے علاوہ ان سے کافی پہلے سٹرکوں کے اطراف میں لگے ہوئے نشانات کے ذریعے بھی ان سپیڈ بریکرز کی موجودگی کے متعلق ڈرائیوروں کو اطلاع کیا جانا ضروری ہے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں کیا جاتا۔ لوگوں کی گاڑیاں ٹوٹتی ہیں ، حادثات ہوتے ہیں اور اکثر ایسے سپیڈ بریکرزانجانے میں ڈرائیوروں کی ریڑھ کی ہڈی تک توڑنے اور انہیں زندگی بھر کے لئے معذور بنا دینے کا باعث بنتے ہیں۔ شہروں میں مین ہولز کے ڈھکن اکثر غائب ہوجاتے ہیں جو ٹریفک حادثات کا سبب بنتے ہیں ، بعض جگہوں پر ان مین ہولز کا سٹرک سے اونچا ہونا بھی حادثات کرادیتا ہے۔

گاڑیوں کی فٹ نیس کے کسی قانون پر بھی پاکستان میں کوئی عملدرآمد نہیں کرایا جاتا۔ بریک اور کمانیاں وغیرہ درست کرائے بغیر بھی ڈرائیور سینکڑوں میل تک گاڑیاں چلاتے ہیں۔ رات کے وقت شہروں کی مین روڈ پر سفرکرنے والے آدھے موٹر سائیکلوں کی ہیڈ لائٹس ہی نہیں ہوتیں اور اسی فیصد ٹیل لائٹس سے محروم ہوتے ہیں۔اس کے مقابلے میں پریشر ہارن کا استعمال عام ہے۔ بسوں ، ٹرکوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں پر لاﺅڈ سپیکر پر لگنے والے گانے دورسے سنائی دیتے ہیں۔ سکوٹر سواروں اور کار ڈرائیور وں میں ڈرائیونگ کے دوران سیل فون سننے کا مرض عام ہے۔ بہت سے ڈرائیور اپنے ساتھیوں سے باتیں کرتے ہوئے سامنے دیکھنے کے بجائے مسلسل ان کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ٹریفک قواعد کا کوئی شعور نہ ہونے کی وجہ سے حادثے کی صورت میں سب سے زیادہ قصور وار شخص دوسرے کو سب سے بڑھ کر مورد الزام ٹھہرا تا ہے۔ دھند اور زیادہ موڑ کی صورت میں گاڑی کی رفتار انتہائی آہستہ ہونی چاہئیے۔ لیکن اس کی کسی کو پرواہ نہیں ہوتی۔ خطرناک پہاڑی راستوں پر چلنے والی گاڑیوں کی بریکس اور فٹ نیس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے ، لیکن ایسے علاقوں میں اکثر پرانی گاڑیاں چل رہی ہیں جن میں اوورلوڈنگ کی یہ حالت ہے کہ سواریوں کو چھت پر بھی بٹھا یا جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹروں کو ڈرائیوروں کے اوقات کار اور بہتر تربیت کے لئے حکومت کی طرف سے مجبور نہیں کیا جاتا ، نہ ہی ڈرائیونگ سکھانے کے کسی طرح کے اچھے معیاری اداروں سے محفوظ ڈرائیونگ کی تربیت کے بعد لائسنس حاصل کرنے کی کوئی پابندی عائد کی جاتی ہے۔

 بڑے شہروں میں تانگوں ، ریڑھوں، گدھا گاڑیوں اور ہتھ ریڑھی والوں کو متبادل روزگار کے ذرائع مہیا کرکے ان پر پابندی عائد کرناٹریفک مسائل سے نکلنے کے لئے ضروری ہے۔ تانگے ریڑھے رش کے اوقات میں بڑے شہروں میں ٹریفک جام کرنے کا باعث ہیں۔ ان کی موجودگی میں ہمارے بڑے شہر بھی صدیوں پرانے دور کی زبوں حالی اور پسماندگی کی تصویر پیش کررہے ہیں ۔ ان کے متبادل سٹرکوں پر لائے بغیر ہم زمانے کا ساتھ نہیں دے سکتے ، شہروں کی سٹرکوں پر صفائی کی صورت حال بہتر نہیں ہوسکتی۔عام شہری سکوٹر اور کاروں کی ڈرائیونگ کے وقت انتہائی ذہنی دباﺅ (سٹریس) اور ہیجان خیزی سے نجات نہیں پاسکتے۔ شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور ہارٹ اٹیک جیسے مہلک امراض میں اضافے کو نہیں روکا جاسکتا۔ عوام کو چڑچڑے پن ، ذہنی تناﺅ ، جذباتیت، اور ہر وقت کے لڑائی جھگڑے کے مزاج سے نجات نہیں مل سکتی اور ہماری سٹرکوں پر ہر وقت ایک بے ہنگم ٹریفک دنگل کے مناظرکا رنگ نہیں بدل سکتا۔

بیرونی دنیا سے ہمارے ہاں آنے والے سیاح ، تاجر اور سرمایہ دار ہمارے متعلق ایک مہذب قوم ہونے کا تاثر قائم نہیں کرسکتے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم ہر سال ٹریفک کی اس افرا تفری میں ضائع ہونے والی اپنے پیاروں کی ہزاروں جانوں کو ضائع ہونے سے نہیں بچا سکتے۔ اس کے لئے حکومت اور عوام کو ہر سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کی طرح ٹریفک کی ابتری بھی ہماری اندرونی سیکورٹی کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ، جس سے ہم نے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔ اس معاملے میں مناسب اقدام کئے بغیر ہم ایک منظم ، اصول پسند اورباوقار قوم کے بجائے ایک ہجوم کی صور ت میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہماری بے حسی اور بے توجہی ہمیں یہ احسا س نہیں ہونے دیتی کہ حادثات کی صورت میں ہونے والے قیمتی جانوں اور سرمایہ کے بہت بڑے نقصان کے علاوہ ہم سٹرکوں کے اس طوفان بدتمیزی میں اپنی کس قدر توانائیوں ، قیمتی وقت اور صحت کا نقصان کررہے ہیں ۔ ؟کس طرح سڑکوں پر ہر وقت موجود رہنے والی کاربن مونو ڈائی آکسائڈ کی دبیز تہہ کے سمندر میں ہم ہر وقت غوطہ زن رہتے ہیں۔ ؟دھوئیں اور گرد کے علاوہ پرانے انجنوں کی آواز لاﺅڈ سپیکرز پر گانوں کی تانیں اڑاتی اور پریشر ہارن بجاتی ٹرالیوں اور بسوں کا شور ہمارے اعصاب کو کس قدرطرح شل کررہا ہے اور ہماری صحت کس تیزی سے تنزل کی طرف جارہی ہے۔؟حکومت ، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو اس اہم المیے پر توجہ دینے اور اصلاح احوال کے لئے بھرپور تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : اداریہ