مہنگائی تو ہے مگر ....

مہنگائی تو ہے مگر ....
مہنگائی تو ہے مگر ....

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سٹیٹ بنک آف پاکستان نے کہا ہے کہ مہنگائی اور حکومتی قرضے بڑھ گئے ۔۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن کے میڈیااسسٹنٹ اور ڈائریکٹر آئی ٹی شمس الدین کا شکوہ ہے کہ انہیں موبائل کمپنی کا جو بل آیا ہے اس میں بیس فیصد سیلز اور پندرہ فیصد ایڈوانس ٹیکس شامل ہے، دوسری طرف جب پری پیڈ سم پر سو روپے کا بیلنس لوڈ کیا جاتا ہے تو صارف کو 75 روپے ملتے ہیں ۔اک لمحے کے لئے رکئے صرف پچیس روپے ہی نہیں کٹتے بلکہ ہر کال کے ساتھ بھی ٹیکس کی کٹوتی ہوتی ہے۔ جب عوام ہی نہیں سٹیٹ بنک آف پاکستان جیسا قومی معیشت پر نظر رکھنے اور اپنا کردارادا کرنے والا ادارہ مہنگائی بڑھنے کا کہہ رہا ہو تو کون اس کی تردید کر سکتا ہے۔ ابھی تو عوام کی چیخیں گرمی کے موسم میں بجلی کا ایک ایک یونٹ نکلوائے گا۔ ٹی وی سکرینوں پر اینکر اور پینلسٹ اس پر چلائیں گے اور اہل قلم کی طرف سے کالم بھی لکھے جائیں گے۔ظاہر ہے اگر بے تحاشا مہنگائی پر عوام کی ایسی تیسی کے جواب میں حکومت کے ساتھ بھی جوابی وہی سلوک نہ ہو تو پھر اور کیا ہو؟

یہ تصویر کا ایک رخ ہے اور ہم سب اس رخ کو دیکھیں گے بھی اور دکھائیں گے بھی، مہنگائی پر روئیں گے اور دوسروں کو رلائیں گے بھی، مگر تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی تو ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم یورپی ممالک کے برابر صحت، تعلیم ، امن و امان کی سہولتیں ہی نہیں بلکہ ترقیاتی پروگرام بھی مانگتے ہیں مگر ایک بات تو طے شدہ ہے کہ کوئی بھی حکمران اپنے پلے سے عوام کو یہ سب نہیں دے سکتا،اس کے لئے قومی خزانہ ہوتا ہے اور اسے نواز شریف، آصف علی زرداری، عمران خان سمیت کوئی سیاستدان اپنی جیب سے نہیں بھر سکتا، ہاں وہ عوام کو یہ اعتماد ضرور دے سکتا ہے کہ عوام کے ادا کردہ ٹیکس ، قوم کی ضروریات پوری کرنے پر ہی خرچ ہو رہے ہیں،اشرافیہ کے اللوں تللوں پر نہیں ۔ طویل عرصے سے موجود اعتماد کے اس بحران کو عوام کی بہت بڑی اکثریت نے ٹیکس چوری کے جواز کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میںٹیکس کی ادائیگی جی ڈی پی کا پچیس سے تیس فیصد تک پہنچی ہوئی ہے اور پاکستانی نو فیصد بھی ادا نہیں کرتے، کہتے ہیں آج سے سات ، آٹھ برس پہلے ہم جی ڈی پی کے بارہ فیصد تک ٹیکس ادا کرنا شروع ہو گئے تھے، انڈیا تب چودہ فیصد پر تھا، آج دوبارہ یہ حال ہو گیا ہے کہ ہم آٹھ اعشاریہ نو فیصد پر ہیں اور بھارتی ٹیکس کی ادائیگی میں اٹھارہ فیصد پر پہنچے ہوئے ہیں۔

ٹیکس کی ادائیگی کا ایشو بہرحال سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کے دیکھاجانا چاہئے، آج اگر اپوزیشن عوامی ہم دردیاں لینے کے لئے ٹیکس چوری کرنے والوں کی محافظ بنتی ہے تو کل جب اپوزیشن کی حکومت ہو گی تو تب وہ ہسپتال ، سکول اور امن و امان فراہم کرنے والے ادارے کیسے چلائے گی۔ جب خزانہ ہی خالی ہو گا توترقیاتی پروگرام کیسے دے گی۔کتنی افسوس ناک صورتحال ہے کہ وزیراعظم ٹیکس انی شیٹو سکیم دیتے ہیں کہ جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے وہ پچھلے پانچ برسوں کا محض پچیس ہزار روپے سالانہ پر ٹیکس ادا کردیں اور انہیں اگلے پانچ سال بھی اتنا ہی ٹیکس ادا کرنا پڑے گا، صرف ٹیکس نیٹ میں آتے ہوئے دس سال کا تحفظ حاصل کرلیں ۔ یہ کوشش تو لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی ہے مگر جو سات لاکھ ٹیکس نیٹ میں ہیں ان میں سے بھی صرف ایک لاکھ سالانہ گوشوارے جمع کرواتے ہیں۔ اگر ہم لاہور ہی کی بات کریں تو لاہور کو دو ریجن ون اور ٹو میں تقسیم کیا گیا ہے، اس میں ایک ریجن میں جب اس انی شی ایٹو سکیم کی مدت کا خاتمہ ہو رہا تھاتو صرف چونسٹھ لوگوں نے اس کے تحت گوشوارے جمع کروائے تھے، ساٹھ بلین ٹارگٹ والے ریجن کو چارملین کا فائدہ ملا تھا۔ لاہور چیمبر آف کامرس کے سابق صدر عرفان قیصر شیخ کاکہنا ہے کہ ان کے لئے یہ اعداد و شمار افسوسناک ہیں، وہ تو سمجھ رہے تھے کہ ایک ریجن میں کم از کم پانچ سے چھ ہزار لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں گے، یہ ردعمل تودو فیصد بھی نہیں۔ سوال کیا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے جس دھوم دھڑکے کے ساتھ اپنی انی شی ایٹو سکیم کا اعلان کیا تھا وہ ناکام ہو گئی، مگر شائد یہ سوال ابھی کچھ قبل از وقت ہوجائے کہ اٹھائیس فروری کو گوشوارے جمع کروانے کی توسیع شدہ تاریخ کا خاتمہ ہو رہا تھا، چیمبرز، ٹریڈرز ایسوسی ایشنز اور ٹیکس بار ز کے کہنے پر اس میںد و ماہ کی مزیدتوسیع کر دی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے اس عرصے میں ایف بی آر کا عملہ ٹیکس نہ دینے کے عادی لوگوں سے کچھ وصول کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ ہاں ! اعتراضات تو بہت ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ جب ایک کمپنی پچھلے برس کی نسبت پچیس فیصد زیادہ ٹیکس جمع کروادے تو اس سے بیلنسگ شیٹ نہ مانگی جائے، یعنی یہ رعایت ہو کہ جس نے پچھلے برس دس لاکھ ٹیکس ادا کیا تھا وہ اس برس ساڑھے بارہ لاکھ ادا کرتی ہے تو کاروبار کی تفصیلات نہ مانگی جائیں، جواب یہ ہے کہ بیلنسنگ شیٹ تو ایک قانونی ضرورت ہے تاہم انہیں آڈٹ سے استثنیٰ مل جائے گا مگر صنعتکاروں اور تاجروں کے لئے یہ قابل قبول نہیںکیونکہ بیلسنگ شیٹ اس کے بعد بہت سارے اور معاملات میں ریفرنس بن سکتی ہے۔ اسی طرح سیکشن ایک سو بائیس کا ایشو یہ ہے کہ جب ایک گوشوارہ جمع کروا دیا گیاتواس کے بعد بھی متعلقہ افسر کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کا سو مرتبہ جائزہ لے سکتا اور اس میں ترامیم کر سکتا ہے اور اس کا جواب یہ ہے کہ اس اختیار کو ریجنل ٹیکس کمشنر کی منظوری سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

اعتراضات صرف اس ایک مقصد کے لئے ہوتے ہیں کہ ہم نے ٹیکس ادا نہیں کرنا، ہاں حکومت سے سڑکیں،سکول، ہسپتال، پل، صاف پانی اور نجانے کیا کیا ضرور مانگنا ہے۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ اس وقت تمام ٹیکس یا تو تنخواہ گزارادا کر رہا ہے یا صنعتوں سے وصولی ہو رہی ہے مگر ایک عام دکاندار کی فطرت یہ بن چکی ہے کہ وہ سال کا بارہ سو روپے ٹیکس ادا نہیں کرے گا، بارہ ہزار روپے رشوت دے کر اپنی ناجائز منافع خوری، تول میں ہیر پھیر اور ملاوٹ پر تحفظ ضرور حاصل کرنے کو ترجیح دے گا۔ ہمارے صنعتکار اور تاجر کہتے ہیںکہ اس کے باوجود تمام ٹیکس تو انہی سے وصول کیا جارہا ہے، ملکی معیشت میں زراعت کاحصہ چوبیس فیصد ہے مگرا س سے ٹیکس کا صرف پانچ فیصد وصول کیا جاتا ہے، سروسز کا ٹوٹل جی ڈی پی میں شئیرچون فیصد ہے مگر ٹیکس صرف دس فیصد ادا ہوتا ہے، امپورٹ ایکسپورٹ اور مینو فیکچررز سمیت دیگر کا شئیر بائیس فیصد ہے مگر باقی ٹیکس انہی سے وصول ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ٹیکس انکم پر ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں اس میں بھی تگڑے طبقات کو استثنیٰ مل جاتا ہے ۔میں ماہر معیشت نہیں مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جب ہماری اکثریت ڈائریکٹ ٹیکس ادا کرنے سے انکار کرتی ہے تو حکومتیں روزمر ہ امور چلانے کے لئے ان ڈائریکٹ ٹیکسیشن کی طرف چلی جاتی ہیں۔ جب پینتیس کھرب اکانوے ارب کے بجٹ میں ساڑھے سولہ کھرب کاخسارہ ہو گا ، ادائیگیوں اور وصولیوں میں عدم توازن کو دور کرنے کے لئے آئی ایم ایف سے چھ ارب ستر کروڑ ڈالر کا قرض لینا پڑے گا تو پھر مرضی بھی چھ ارب ستر کروڑ ڈالروالوں کی چلے گی۔

ٹیکس وصولی کے ذمے دار اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اشد ضرورت ہے، قانون کہتا ہے کہ جس فرد یا ادارے کے یوٹیلیٹی بلز سالانہ سات لاکھ روپے سے تجاوز کر جائیں، اس کے لئے این ٹی این نمبر حاصل کرناضروری ہے اور یہاں ہر بڑی دکان کاصرف بجلی کا ماہانہ بل لاکھوں میں ہوتا ہے مگر وہ این ٹی این حاصل نہیں کرتے، جب این ٹی این نہیں ہوتا تو ٹیکس ادا نہیں ہوتا۔ مجھے اس مرتبہ قومی سطح کے بعض سیاستدانوں کے بارے جان کے حیرت ہوئی کہ وہ تاحد نظر وسیع فارم ہاو¿سز میں رہتے ہیں مگر ٹیکس کے مطابق ان کی ماہانہ آمدنی ڈیڑھ ، دو لاکھ روپے سے زیادہ نہیں بنتی۔ اس کے ساتھ ساتھ مان لیجئے ہمارے حکمران ہی نہیں، ہم عوام بھی خراب ہیں۔ ریاستی بنک کا کہنا درست ہے کہ مہنگائی بہت ہو چکی، حکومتی قرضے بھی بہت بڑھ چکے مگر اس مہنگائی اور حکومتی قرضے بڑھنے کی ذمہ داری ہم عام لوگوں پر بھی آتی ہے۔ ہم جذباتی تحریریں لکھتے اور تقریریں کرتے ہیں ، حکومتوں پر برستے ہیں، ہمیں ضرور نااہلی اور کرپشن پر حکومتوں پر برسنا چاہئے ، کارکردگی بارے سوال پر سوال کرتے رہنا چاہئے مگر کوئی کالم نویس ، کوئی اینکر اس ”عام آدمی“ سے کیوں نہیں پوچھتا جو کاروں میں سفر کرتااور ہوائی جہازوں میں اڑتا پھرتاہے، فیملی کے ساتھ کئی کئی ہزار روپے پر ہیڈ پرلنچ اور ڈنر کرتا ہے ۔۔۔ ، اس نے کتنا ٹیکس دیا ہے ؟

مزید : کالم