اساتذہ ناگفتہ بہ حالات میںبھی فرائض سر انجام دے رہے ہیں‘سجاد اکبر کاظمی

اساتذہ ناگفتہ بہ حالات میںبھی فرائض سر انجام دے رہے ہیں‘سجاد اکبر کاظمی

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر سید سجاد اکبر کاظمی نے کہا ہے کہ آج اساتذہ پنجاب انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں فرائض سر انجام دے رہے ہیں حکومت تعلیم کی بہتری کے نام پر اساتذہ کا استحصال کر رہی ہے اساتذہ کا کام بچوں کو پڑھانا ہے نہ کہ گلی محلوں سے بچوں کو اکٹھا کرنا ہے یا دیگر غیر تدریسی ڈیوٹیاں سرانجام دینا ہے ان کاکہنا تھا کہ افسران بیوروکریسی کی بجا آوری کےلئے اساتذہ کو صفائی /شنوائی کو موقع دیئے بغیر یکطرفہ رپورٹس پر سالانہ ترقیوں کی بندش ، ڈاﺅن گریڈ جیسی سزائیں دے رہے ہیں اساتذہ پہلے بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان ہیں اور اوپر سے اُن کا معاشی استحصال اساتذہ کو خود کشی پر مجبور کر دے گا ہر ناکام تعلیمی پالیسی، اصلاحات کا ذمہ دار اساتذہ کو ٹھہرایا جاتا ہے لیکن پالیسی سازوں کو کوئی نہیں پوچھتا ہم گزشتہ چار سال سے چیختے رہے کہ پرائمری سطح پر مکمل انگلش میڈیم کرنے سے ڈراپ آﺅٹ بڑھ جائے گا لیکن کسی نے نہ سنی ۔ اب حکومت کو احساس ہوا ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ پہلی سے تیسری تک اردو میڈیم طریقہ کار رائج ہوگا اسی طرح ہم حکومت سے بارہا مطالبہ کر چکے ہیں۔

 کہ PEC,DSD اور PMIU محکمہ تعلیم کے لئے سفید ہاتھی بن چکے ہیں اربوں روپے سالانہ ان پر برباد کئے جارہے ہیں اس کا فائدہ نہ اساتذہ کو ہے اور نہ ہی طالب علموں کو ہر سال پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کے پر چہ جات آﺅٹ ہو جاتے ہیں اس سال بھی تقریباً تمام پرچے SMS کے ذریعے آﺅٹ ہوئے پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کو اس سال 66 کروڑ روپے دئیے گئے جبکہ اس کی کارکردگی سب پر عیاں ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔

 استاد کسی ناگہانی صورتحال کے پیش نظر ایک دن کی چھٹی کر لے تو اُس کی سالانہ ترقی روک لی جاتی ہے اگر بچے سکول سے غیر حاضر ہو جائیں تو تب بھی اساتذہ کو سزا دی جاتی ہے اور ہر وہ کام جس سے تعلیم متاثر ہو اُس پر اساتذہ کو مامور کیا جاتا ہے ان حالات میں با امر مجبوری جب کوئی سننے والا نہ ہو اساتذہ راست اقدام اُٹھانے پر مجبور ہیں 3اپریل کو لاہور (سول سیکرٹریٹ کے سامنے) سمیت پنجاب بھر میں ڈویژنل سطح پر نیشنل ہائی ویز کے اوپرطلباءغیر حاضری پر سزا، رخصت اتفاقیہ /استحقاقیہ کی بندش ، کم رزلٹ پر سزا، بڑھتی ہوئی مہنگائی، غیر تدریسی ڈیوٹیوں ، بلاجواز مانیٹرنگ رپورٹس کے خلاف احتجاجی دھرنے دیں گے۔ وزیر اعلی پنجاب غیرملکی مشیران اور بیوروکریسی کے چنگل سے باہر نکلیں اور اساتذہ کی بات سُنیں کیونکہ تعلیمی مسائل کا حل این جی اوز یا بیوروکریسی کے بجائے اساتذہ کے پاس ہے۔ لہذا اساتذہ کا معاشی استحصال اور عزت و وقارکی پامالی بندکی جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4