طالبان کو پاکستان میں تیار کردہ ڈرونز نے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا

طالبان کو پاکستان میں تیار کردہ ڈرونز نے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا

اسلام آباد ( آئی این پی ) کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو پاکستانی میں مقامی طور پر تیار کردہ ڈرونز نے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ، ماضی میں ہونیوالے آپریشنز اور تمام تر دباﺅ کے باوجود حکومت طالبان کو یکطرفہ اعلان جنگ بندی پر مجبور نہیں کرسکی تھی ۔ ہفتہ کو ذمہ دار ذرائع کے مطابق طالبان کی طرف سے کراچی میں پولیس اور 23 ایف سی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے خلاف شروع کردہ سرجیکل سٹرائیکس میں مقامی تیار کردہ ڈرونز کا بھی بھرپور استعمال کیا گیا اور ان ڈرونز کی جانب سے فراہم کردہ انتہائی حد تک صحیح اور بروقت معلومات سے فوج نے طیاروں کے ذریعے تیراہ ، میر علی سمیت کئی علاقوں میں طالبان کے محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر درجنوں انتہائی اہم کمانڈروں اور تربیت یافتہ لڑاکوں کو ہلاک کردیا ۔ ذرائع کے مطابق ان حملوں نے پہلی بار ٹی ٹی پی کی صفوں میں حقیقی خوف و ہراس پیدا کیا اور طالبان قیادت یہ سوچنے پر مجبور ہوئی کہ اگر جنگ بندی کا یکطرفہ فیصلہ نہ کیا گیا تو پاکستانی فوج قبائلی علاقوں سے مکمل طور پر ہی ہمارا صفایا کردیگی ۔ ذرائع کے مطابق عالمی سطح پر بھی پاکستان نے ڈرونز بنانے کی جو ٹیکنالوجی اپنی صلاحیتوں سے حاصل کی ہے اس کا اعتراف کیا جارہا ہے ۔ پاکستانی ڈرونز کو عسکری قیادت نے ”براق اور شہپر“ کا نام دیا ہے اور یہ اسلحہ سے لیس نہیں صرف نگرانی کےلئے استعمال ہوتے ہیں ۔ عسکری ذرائع کے مطابق پاکستان کے پاس اسوقت جنگجوﺅں کی مکمل نقل و حرکت اور ان کی تنصیبات کی نگرانی کےلئے ضروری ڈرونز موجود ہیں اور انکی مدد سے مکمل نگاہ رکھی جارہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق ان ڈرونز کا صرف اہم آپریشنز میں استعمال کیا جاتا ہے ۔

مجبور ہوئے

مزید : صفحہ اول