عمران،نثار ملاقات، پرانے دوست ملے، فیصلہ کیا؟

عمران،نثار ملاقات، پرانے دوست ملے، فیصلہ کیا؟

چودھری خادم حسین

شدت پسندی اور دہشت گردی کے حوالے سے کوئی نئی بات نہیں بجز اس کے کہ عمران خان اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان اتفاق ہو گیا جو اسی حد تک ہے جس حد تک چوہدری نثار نے اعلان کیا ہے کہ ”سٹرٹیجک سٹرائیک “ کی حکمت عملی بنائی جائے گی جوبات کریں گے ان کے ساتھ مذاکرات ہوں گے اور جو نہیں مائیں کے ان کو انہی کے سکوں میں جواب دیا جائے گا، لہٰذا کوئی نیا پہلو سامنے نہیں آیا۔البتہ قائد حزب اختلاف اب یہ کہہ گذرے کہ حکومت کو پوری قوت استعمال کرنا چاہئے اور عبدالرحمٰن ملک کہتے ہیں کہ موجودہ ”سٹرٹیجک سٹرائیک“ کی پالیسی سے شدت پسند پورے ملک میں پھیل جائیں گے(جیسے وہ پہلے نہیں ہیں۔)

جو اہم اور زیادہ سنجیدہ پہلو سامنے آیا وہ سٹیٹ بینک کی رپورٹ اور یوتھ لون کی قرعہ اندازی کی تقریب سے وزیر اعظم کے خطاب میں ہے، سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق معاشی ترقی مقررہ ہدف سے بڑھ گئی لیکن گزشتہ چھ ماہ میں زر مبادلہ کے ذخائر میں ایک ارب20کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی، مہنگائی میں اضافہ ہوا اور پہلی سہ ماہی میں حکومتی قرضوں میں دس کھرب روپے کا ریکارڈ اضافہ ہوا، معاشی افزائش کی شرح پانچ فیصد ہو گئی، جو گزشتہ برس ڈھائی فیصد تک محدود تھی، مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 1.1فیصد تک گر گیا جو گزشتہ برس 1.2فیصد تھا۔

سٹیٹ بنک کی یہ رپورٹ سامنے ہے تو وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ حکومت کی طرف سے سخت اقدامات کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ ہر دو نکات کو پیش نظر رکھا جائے تو عوام کی حد تک کوئی بہتر صورت نظر نہیں آئی سخت اقدامات میں کمی نہیں ہوئی، بجلی، گیس اور ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ بدستور موجود ہے اور اضافے کو رد نہیں کیا جا سکتا،دوسرے یہ کہ جتنی خوش کن بات بھی کی جائے ہمارے ملک میں مہنگائی بڑھ جائے تو اس کی شرح میں کمی نہیں ہوتی۔ اس کی مثال یہ بھی ہو گی کہ پٹرولیم کے نرخوں میں پونے تین روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے اس سے مارکیٹ متاثر نہیں ہوئی اب تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ واویلا کرنے والے مہنگائی کے عادی ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے بہت سے خوبصورت خواب دکھائے ہیں ان میں لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ (قیمتوں میں کمی نہیں) اور موٹر وے کی تعمیر اور ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اس ترقی کے ثمرات عام آدمی تک کب پہنچیں گے کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ بے روزگاروں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے کہ حکومت نے مختلف اداروں میں چھانٹیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ محکموں اور شعبوں میں اصلاح اور کام پیدا کر کے ان ملازمین کو کھپایا بھی جا سکتا ہے لیکن حکومت ان کوسڑکوں پر بھیج رہی ہے۔ دوسری طرف نجکاری کی پالیسی پر احتجاج کی پرواہ کئے بغیر عمل جاری ہے اور جلد ہی بہت کچھ نجی شعبے کو منتقل ہو گا اور مزید لوگ فارغ ہوں گے۔

یہ ملک کے اصل مسائل ہیں جو براہ راست عام آدمی سے تعلق رکھتے ہیں، یہ نظر انداز ہو رہے ہیں کہ ایشوز کی جگہ نان ایشوز لے لیتے ہیں اور میڈیا بھی اس میں تعاون کرتا چلا جا رہا ہے۔ اندازہ اسی امر سے لگا لیں کہ جمشید چشتی نے فیڈرل لاجز میں خلاف اخلاق حرکات کی بات کی اور یہ بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ پہلے ہی شدت پسندی اور دہشتگردی کے حوالے سے بہت شور ہے اور عوامی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹ چکی ہے اوپر سے فیڈرل لاجز کی بات آ گئی اس میں نئی بات یہ ہے کہ ایک رکن قومی اسمبلی نے آواز اٹھائی ہے ورنہ کام تو خاموشی سے ہو رہے تھے۔

ہمارے پیارے سیاستدان مسلسل قوم کو مایوس کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کیا اس طرح قوم کو بقول الطاف حسین جمہوریت اور سیاسی راہنماﺅں سے متنفر کرنا مقصود ہے اگر نہیں تو اصل مسائل کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟

مزید : صفحہ اول