یوکرائن کے اقتصادی بحران پر فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘کرسٹین لگارد

یوکرائن کے اقتصادی بحران پر فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘کرسٹین لگارد

واشنگٹن (ثناءنیوز)عالمی مالیاتی فنڈ کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لگارد نے واشنگٹن میں جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر کے ساتھ ملاقات کے بعد رپورٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرائن کے اقتصادی بحران پر فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔لگارد نے کہا، ہمیں اِس وقت ایسی کوئی چیز یا نازک صورتحال نظر نہیں آ رہی، جِس کی بنیاد پر گھبراہٹ کا شکار ہوا جائے۔ آئندہ چند ہفتوں کے دوران انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا ایک وفد کییف کا دورہ کرنے والا ہے، جس میں یوکرائن کو درکار اقتصادی امداد کا تعین کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یوکرائن کی عبوری حکومت یہ عندیہ دے چکی ہے کہ اسے دیوالیے پن سے بچنے کے لیے 35 بلین ڈالر کی مالی امداد کی ضرورت ہے۔اِس موقع پر جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر نے کہا کہ یوکرائن کی امداد کے معاملے میں روس کو بھی شرکت کرنا چاہیے۔ اشٹائن مائر کے بقول ماسکو اور کییف کے مابین اقتصادی روابط کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ روس ہی کے مفاد میں ہوگا کہ وہ کییف کی امداد کے لیے مشارتی عمل کا حصہ بنے۔

دوسری جانب یوکرائن کے معزول صدر وکٹور یانوکووچ نے جمعے کے روز ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیا کہ وہ اب بھی یوکرائن کے صدر ہیں اور ملک کے مستقبل کے لیے لڑنے کے لیے تیار ہیں۔اپنی بریفنگ کے دوران یانوکووچ نے کہا، طاقت پر قوم پرست اور فاشسٹ نوجوان قابض ہو گئے ہیں۔ کییف میں ڈرامائی تبدیلیوں اور اپنی معزولی کے تناظر میں پانچ روز تک روپوش رہنے کے بعد خاموشی ترک کرنے والے یانوکووچ نے مزید کہا کہ وہ ملک سے فرار نہیں ہوئے بلکہ ان کی جان کو لاحق خطرات کے سبب انہیں زبردستی ملک سے نکالا گیا ہے۔ یانوکووچ کے بقول وہ اپنی سلامتی کی گارنٹی دیے جانے پر یوکرائن واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں#

مزید : عالمی منظر