شام میں انتہا پسند گروپ نے چوری کے جرم میں نوجوان کا ہاتھ کاٹ دیا

شام میں انتہا پسند گروپ نے چوری کے جرم میں نوجوان کا ہاتھ کاٹ دیا

لندن (بیورورپورٹ)دنیا سے ابھی مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کئے جانے میں کمی نہیں آئی تھی کہ شام کی خانہ جنگی نے اس امیج کو مزید واضع کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ دنیا افغانستان اور پاکستان کی شمالی علاقوں میں کاروائیاں کرتے طالبان نما افراد کی درندگی سے سراسیمہ تھے اور یورپی ممالک شام میں جہاد کے بعد واپس لوٹنے والوں کی واپسی پر بے قرار تھا کہ شامی انتہا پسند گروپ آئی ایس آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ ان عراق اینڈ شام) نے ایک نوجون کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کرکے خوف کی باقی کسر بھی نکال دی ہے۔ ان تصاویر میں ایک چور کا ہاتھ اسلامی سزا کے تحت کاٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس واقعے سے قبل گروپ کا نمائندہ حسب معمول اونچی آواز میں جرم کی نوعیت بتاتے دکھایا گیا ہے۔ انتہا پسند گروپ کا کہنا ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کے وسا کسی کا قانون نہیں چل سکتا، جرائم میں ملوث افراد کو راہ راست پر لانے کیلئے ضروری ہے کہ اسلامی سزاﺅں پر عمل کیا جائے۔ ریاض عراق کے نام سے جاری ہونے والے ٹویٹر اکاﺅنٹ کو فوری طور پر انکوائری کیلئے بند کر دیا گیا ہے۔ القاعدہ سے نکلنے والا یہ گروہ اپریل میں وجود میں آیا تھا۔ اس گروہ کو شام کے شمالی حصے اور خاص طور پر رقاع شہر میں کنٹرول حاصل ہے۔

مزید : عالمی منظر