جنگ بندی دونوں کمیٹیوں کی خفیہ ملاقات کے نتیجے میں عمل میں آئی:عرفان صدیقی

جنگ بندی دونوں کمیٹیوں کی خفیہ ملاقات کے نتیجے میں عمل میں آئی:عرفان صدیقی
جنگ بندی دونوں کمیٹیوں کی خفیہ ملاقات کے نتیجے میں عمل میں آئی:عرفان صدیقی

  

لاہور(نعیم مصطفےٰ سے) وزیر اعظم کے معاون خصوصی اور طالبان سے مذاکرات کیلئے قائم حکومتی کمیٹی کے سربراہ ورابطہ کار عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ طالبان کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان خوش آئند ہے لیکن یہ وقت ہی بتائے گا کہ جنگ بندی پر کس حد تک عمل ہوتا ہے۔ سرکاری کمیٹی کے بارے میں ایک رائے یہ منظر عام پر آئی ہے کہ اسے اب تحلیل کر دیا جائے کیونکہ اب اس کی ضرورت نہیں رہی اور کمیٹی کے رکن میجر محمد عامر یہ کہہ چکے ہیں کہ اب حکومت اور طالبان کے براہ راست مذاکرات ہونے چاہئیں اور یہ کمیٹی ختم کر دی جائے لیکن اس کا انحصار وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف پر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں، عرفان صدیقی اتوار کے روز سی پی این ای کے صدر مجیب الرحمٰن شامی کی طرف سے اپنے اعزاز میں منعقدہ ناشتہ کی دعوت میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ اس تقریب میں سی پی این ای کے موجودہ وسابق عہدیداروں کے علاوہ ممتاز صحافیوں، ایڈیٹروں، اینکر پرسنز، کالم نگاروں، دانشوروں سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی، وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے اپنے خطاب میں تفصیل کے ساتھ مذاکرات سے قبل کی صورتحال، اس دوران پیش آنے والی مشکلات، اونچ نیچ اور بالاخر پیدا ہونے والی تعطل کی صورتحال پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف الیکشن جیتنے کے فوری بعد اس معاملہ پر مختلف سطحوں پر غور کرتے رہے تھے اور پہلے ہی روز سے ان کی خواہش تھی کہ تشدد سے جلد از جلد نجاتپا کر ملک میں امن و امان بحال کیا جائے کیونکہ قوم ایک عشرے سے بھی زیادہ عرصہ سے دہشتگردی کا شکار رہی اور بے چینی سے اس لمحے کا انتظار کر رہی تھی جب ملک میں امن و امان قائم ہو۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے اپنی نامزدگی سے پہلے ہی امن و امان کے قیام کے حوالے سے گفتگو کی تھی الیکشن جیتنے کے بعد بھی انہوں نے اس پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا۔ وزیر اعظم کا حلف اٹھانے کے فوری بعد وہ اس پہلو پر غور کرتے رہے کہ مذاکرات کے ذریعے تشدد کا خاتمہ کیسے ہو سکتا ہے اس دوران وزیر اعظم کی ہدایت پر چوہدری نثار علی خان بھی اس سلسلے میں سرگرم عمل رہے اور جب یہ امکان پیدا ہوا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے توڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود مارا گیا جس کے ردعمل میں طالبان نے مذاکرات شروع کرنے سے انکار کر دیا پھرکئی ماہ بعد یہ سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے لئے وزیر اعظم نواز شریف نے چار رکنی کمیٹی بنا دی جن میں ان کے علاوہ میجر عامر، رحیم اللہ یوسفزئی اور رستم شاہ مہمند شامل تھے۔ اس سے قبل جب انہیں معاون خصوصی مقرر کیا گیا تو وزیر اعظم نے ان سے مشاورت کی اور کمیٹی کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا۔ عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر صادق کو رکن کمیٹی نامزد کرنا چاہتے تھے لیکن انہوں نے معذرت کی چونکہ وہ دیگر مصروفیات کی بنا پر دستیاب نہ تھے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے تفصیلاً وہ کہانی بیان کی جو مذاکرات کے سلسلے میں دونوں کمیٹیوں کا مختلف میٹنگز تعطل اور جنگ بندی تک کے تمام مراحل پر مشتمل تھی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے طالبان کی کمیٹی کو ہیلی کاپٹر فراہم کیا۔جو کمیٹی اراکین کو لیکر شمالی وزیرستان گیا جہاں انہوں نے تین روز تک قیام کیا اور پھر اسی ہیلی کاپٹر پر واپس آئے۔ یہ سلسلہ جاری تھا کہ پشاور میں دہشتگردی کے دو بڑے واقعات ہوئے۔ اس کے بعد کراچی میں 11پولیس اہلکار شہید کر دیئے گئے اور اگلے ہی روز یہ خبر آ گئی کہ ایف سی کے اغواءشدہ 23اہلکاروں کو بھی شہید کر دیا گیا ہے۔ اس دوران 40روز میں اوپر تلے ہونے والے 17واقعات میں 178افراد مارے گئے۔ ایک واقعہ کی ذمہ داری طالبان کے ایک گرو نے جبکہ کراچی سانحہ کی ذمہ داری براہ راست طالبان نے قبول کی۔جس کے بعد مذاکرات کے مستقبل پر سوالیہ نشان تک گیا۔ کیونکہ اس ماحول میں مذاکرات جاری رکھنا مشکل تھا۔ سرکاری کمیٹی کے اراکین بھی آپس میں اس بات پر غور کرتے رہے کہ اس ماحول اور فضا میں مذاکرات کیسے جاری رکھے جا سکتے ہیں اور نتیجہ خیز کیوں کر ہو سکتے ہیں۔ عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ چنانچہ سرکاری کمیٹی نے اعلان کیا کہ اس صورتحال میں مذاکرات بے سود ہوں گے اور یہ کہا گیا کہ جب تک دہشتگردی کا سلسلہ نہیں رکتا مذاکرات جاری نہیں رہ سکتے۔ اس دوران شمالی وزیرستان میں ٹارگٹڈ کارروائیاں کی گئیں جن میں بہت سے دہشتگرد مارے گئے۔ مذاکرات کے تعطل بحالی اور جنگ بندی کے اعلان کے حوالے سے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں تعطل پیدا ہونے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے بھی ملے اور ان کے ساتھ تمام امور پر گفتگو کی، اس دوران چوہدری نثار علی خان نے ایک قدم آگے بڑھایا اور موقف اختیار کیا کہ مذاکرات کا تعطل ختم ہونا چاہئے اور طالبان کے ساتھ سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے جبکہ کمیٹی کے کچھ اراکین اس پر رضامند نہ تھے۔ پھر ہم نے طالبان کمیٹی سے ملاقات کی دو گھنٹے جاری رہنے والی یہ میٹنگ بڑی سنجیدہ تھی۔ مولانا سمیع الحق نے اس بات کی گارنٹی دی کہ میں معاملہ حل کروا دونگا اور طالبان کو غیر مشروط جنگ بندی پر راضی کر لوں گا۔ چنانچہ گزشتہ روز طالبان کی طرف سے ایک ماہ کے لئے جنگ بندی کا اعلان آ گیا۔ تاہم یہ دیکھنا ہو گا کہ اس اعلان پر کس حد تک عملدرآمد ہو گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ طالبان نے جنگ بندی کا اعلان حکمت عملی کے تحت تو نہیں کیا۔ وہ کس حد تک امن کے قیام میں سنجیدہ ہیں۔ ہماری پہلی شرط یعنی غیر مشروط جنگ بندی پر طالبان راضی ہوئے ہیں کل یا پرسوں ہم حکومتی کمیٹی بلا کر اس پر تفصیلی بات کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت کی قائم کردہ کمیٹی نے ابتدا میں دو بڑی کامیابیاں حاصل کر لی ہیں اول یہ کہ 15سال کے دوران طالبان کے ساتھ پہلا براہ راست اور باقاعدہ رابطہ ہوا ہے سرکاری کمیٹی کو طالبان نے تسلیم کیا ہے دوسرا یہ کہ قوم مذاکرات کے ضمن میں تمام تفصیلات سے آگا ہ ہو گئی ہے اور قوم کو یہ بات سمجھ آ گئی ہے کہ مذاکرات کا عمل کس حد تک مفید ہے کون کہاں کھڑا ہے کون قصور وار ہے اور کون امن کا صحیح خواہش مند، عرفان صدیقی نے انکشاف کیا کہ جب حکومتی کمٹی نے طالبان کمیٹی کو مراسلہ بھجوایا تو اس کے جواب میں طالبان کی طرف سے اردو میں تحریر کردہ کمپوز خط موصول ہوا جس میں انہوں نے نفاذ شریعت کی کوئی بات نہیں کی تھی۔ اسلام کے حوالے سے محض یہ گفتگو ہوئی کہ یہ ہمارا مذہب ہے اور مذاکرات بھی اسلام کی اصل روح کے تحت ہی ہوں گے۔ جہاں تک آئین پاکستان کا تعلق ہے تو طالبان نے نہ کبھی اس سے انکار کیا اور نہ ہی خط میں کوئی تذکرہ موجود ہے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ طالبان نے اپنے خط میں عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھالیکن یہ رہائی یکطرفہ طور پر ممکن نہیں کیونکہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا بیٹا، اسلامیہ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر اجمل سمیت تین اہم شخصیات طالبان کی حراست میں ہیں، قبل ازیں ناشتے کی اس دعوت میں سی پی این ای کے سابق صدور عارف نظامی، ضیاءشاہداور جمیل اطہر نے بھی اظہار خیال کیا جبکہ تقریب کے میزبان اور سی پی این ای کے صدر مجیب الرحمٰن شامی نے عرفان صدیقی کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ سی پی این ای اپنے قلمکار ساتھی عرفان صدیقی کا ناشتے کی اس دعوت میں خیر مقدم کرتی ہے وہ ہمارے پرانے ساتھی ہیں اور آ ج کل اہم حکومتی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا اہم فریضہ بھی انجام دے رہے ہیں۔ناشتے کی اس تقریب میں روزنامہ پاکستان گروپ ایڈیٹر قدرت اللہ چوہدری ، ایڈیٹر عمر مجیب شامی ،سی پی این ای کے سابق صدور عارف نظامی، ضیاءشاہد ، جمیل اطہر، صوبائی سیکرٹری اطلاعات آغا مومن ،روزنامہ ایکسپریس کے ایڈیٹر ایاز خان ،روزنامہ سٹی 42کے گروپ ایڈیٹر نوید چوہدری،روزنامہ جنگ کے سید ارشاد احمد عارف، مقصود بٹ، روزنامہ دنیا کے ایڈیٹر سلمان غنی،روزنامہ دن کے ایڈیٹر ملک لیاقت، روزنامہ آفتاب کے چیف ایڈیٹر ممتاز طاہر ، روزنامہ ڈان کے اشعر رحمان،روزنامہ اب تک کے چیف ایڈیٹر سجاد بخاری، روزنامہ جناح کے ایڈیٹر اویس خوشنود،ساﺅتھ ایشین جرنل انٹرنیشنل کے ایڈیٹر امتیاز عالم ،روزنامہ طاقت کے ایڈیٹر رحمت علی رازی ،روزنامہ پیغام فیصل آباد ایڈیٹرمنیرجیلانی ،ممتاز کالم نگار اوریا مقبول جان ، اسد اللہ غالب ، اکرم چوہدری ،ادیب جاودانی، حفیظ اللہ نیازی،رﺅف طاہر، سجاد میر، افضال ریحان،اینکر پرسنز جیو کے محمد رﺅف ،نجم ولی خان، حبیب اکرم،پی جے میر،ممتاز صنعت کار چوہدری وحید، ماہنامہ الحریہ کے چیف ایڈیٹر علامہ طاہر محمود اشرفی، نیشنل بینک کے گروپ چیف شہزاد شامی، ایگزیکٹو ایڈیٹر روزنامہ پاکستان عثمان مجیب شامی ، ڈائریکٹر علی مجیب شامی ،عامر شامی ،آئینہ قسمت کے ایڈیٹر انتظار حسین زنجانی ان کے فرزند محمد علی زنجانی،پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب، دنیا نیوز کے پروڈیوسر نوشاد علی،روزنامہ دنیا کے عامر خاکوانی، ایوان صدر کے ڈائریکٹر جنرل کوآرڈی نیشن نوید الٰہی،پاک بینکار ودنیا پاکستان کے ایڈیٹر اجمل شاہ دین،اسلام آباد ٹائمز کے فیصل شامی سمیت الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

مزید : لاہور /اہم خبریں