دہشت گردی کا مکمل خاتمہ فکری قیادت کے ذریعے

دہشت گردی کا مکمل خاتمہ فکری قیادت کے ذریعے
دہشت گردی کا مکمل خاتمہ فکری قیادت کے ذریعے

  



ہمارے وطن عزیز میں دہشت گردی نے لاکھوں گھروں کا سکون لوٹ لیا ہے۔ آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحہ نے تو گویا پوری قوم کے دل چھلنی کر دیئے ہیں۔ دینی اور اخلاقی قدریں بے معنی ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہر طرف من مانی کا راج قائم ہے، یعنی جو جی میں آئے کرتے چلے جاؤ، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حسرت آتی ہے کاش ایک نصاب ہوتا، ایک قومی تعلیم ہوتی، تعلیم سے ترقی ہوتی اور ترقی سے تعلیم کو مزید فروغ ملتا۔ کافی جانی اور مالی نقصان کے بعد اب جو آپریشن شروع ہوا ہے تو کچھ امید ہو چلی ہے کہ حالات قابو میں آ جائیں گے۔ البتہ یہ سوال ذہنوں میں ضرور سر اٹھاتا ہے کہ دہشت گردی کے پیچھے جو انتہا پسندانہ سوچ کارفرما ہے، کیا اس کا بھی کچھ تدارک ہو سکے گا؟۔۔۔ضرورت تو اس بات کی ہے کہ درندگی اور نفرت کے رویئے ہی ختم نہ ہوں ان کی جگہ صحت مند فکر بھی پیدا ہو۔ آپریشن کرنے والوں کے ساتھ ساتھ دین و دانش رکھنے والے اصحاب مذہب کی ایسی تشریح و توضیح پیش کریں جو رواداری، اخوت اور امن پسندی کے فروغ کا باعث بن جائے۔ جب سوچ صحیح نہج پر آئے گی تو جنونی رویئے خود بخود ختم ہوتے چلے جائیں گے۔ بقول اقبالؒ :

پس نخستیں بالاش تطہیرِ فکر

بعدازاں آساں شود تعمیرِ فکر

آزادی کے بعد سے ہمیں تین حلقوں سے قیادت میسر رہی ہے: ایک ہمارا دینی حلقہ ہے۔ دوسرا گروہ اہل سیاست کا ہے اور تیسرا دانشوروں کا۔ ہمارے علماء دین عالمی اور مقامی تبدیلیوں کے ادراک سے قاصر رہے ہیں۔ دینی عقائد اور اقتدار کی ایسی تفسیر و تاویل پیش نہیں کرتے رہے جس سے نت نئے پیدا ہونے والے مسائل کی تفہیم کا راستہ کشادہ ہوتا۔ انہوں نے یہی بات بتکرار کہی کہ دنیا میں کامیابی نہیں ملتی تو نہ سہی، آخرت تو سنور ہی جائے گی۔ ہمارا اصل گھر تو اگلی دنیا ہی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دنیاوی معاملات کی دُرستی کی کوئی سبیل نہ بن سکی۔ علماء یہ حقیقت فراموش کر گئے کہ اگلی دنیا میں کامیابی کا انحصار موجودہ دنیاکی صحت مند تعمیر ہی سے ممکن ہے۔ اسلام کی تعلیم تو یہ ہے کہ ہمارا ہر عمل اپنا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ خداوند تعالیٰ نے ہر شئے کے اندر اس کی تاثیر اور نتیجہ رکھ دیا ہے۔ مذہبی قیادت سے سوال یہ ہے کہ وہ بتائے کہ دینی مدارس کا وسیع سلسلہ معاشرے کی تعمیر میں کس حد تک ممد و معاون ثابت ہوا ہے۔ ’’ہم نتائج کے ذمہ دار نہیں، نتائج اللہ کے ذمے ہیں‘‘ والی فکر کتنی بودی ثابت ہوئی ہے۔ اس بارے میں حکیم العصر ڈاکٹر برہان احمد فاروقیؒ فرماتے ہیں: ’’اگر حیاتِ ارضی میں نتائج برآمد نہ ہوں تو معاذ اللہ خدائی کے سب دعوے اور وعدے صرف شاعرانہ تعلی بن جاتے ہیں‘‘۔ ابوالنظر رضویؒ فرقہ بندیوں کو تمدنی عذاب قرار دیتے ہیں۔ جاوید احمد غامدی کہتے ہیں کہ انتہا پسند تنظیموں نے جو بے سکونی پیدا کی ہے تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے دینی مدارس میں دین کی تفسیر ہی اس انداز سے کی جاتی رہی ہے کہ اس سے عدم برداشت کے رویئے کو فروغ ملتا رہا ہے۔ اسلام کی ترجیحات تو روشن فکری، ترقی پسندی اور عقل دوستی کی ہیں۔

قوم کی رہنمائی کرنے والا دوسرا طبقہ اہل سیاست کا ہے۔وہ اپنی گروہی سیاست میں اتنا مصروف رہا کہ فرقہ واریت کے عذاب کی روک تھام کے لئے بروقت کوئی اقدام نہ کر سکا۔ جب پانی سروں سے گزر گیا ہے تو اب وزیراعظم کے زیر قیادت پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں ایک ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ،جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی،جمعیت علمائے اسلام، ایم کیو ایم اور اے این پی شامل ہیں۔ بعداز خرابی ء بسیار اہل سیاست کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جانا غنیمت ہے۔ انہوں نے مذہبی قیادت سے بھی رابطہ کیا۔ ان سے میل ملاقات کو مفید سمجھا۔ راقم الحروف کے خیال میں دانشور طبقے سے بھی اس بحرانی صورت حال میں مشاورت ضروری تھی۔ مجھے نہیں معلوم اربابِ دانش سے بے اعتنائی کیوں برتی گئی ہے۔ صحافی، اساتذہ اور ادیب و شاعر کسی بھی معاشرے کے تہذیبی اور تمدنی رجحانات پر نگاہ رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی سوچ اور فکر سے بھی استفادہ کرنے کی ضرورت تھی۔

دور غلامی میں سرسید احمد خان ،نواب محسن الملک، سید امیر علی اور علامہ اقبال ایسے اصحاب نظر کی خدمات اظہر من الشمس ہیں۔ یہ ہمارے نظریہ ساز رہبر تھے۔ حصول آزادی کے بعد ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، ڈاکٹر برہان احمد فاروقی اور پروفیسر وارث میر مرحوم نے ہمیں جو صحت مند افکار عطا کئے، ہم ان کی روشنی میں اپنے حال اور مستقبل کو جگمگا سکتے ہیں۔ جب تک ہم روشن فکر اہل قلم کی درخشندہ فکریات سے اپنے ذہنی دریچے وا نہیں کریں گے، اس وقت تک فکری پسماندگی اور گمراہ سوچوں سے نہیں نکل سکیں گے اور نہ مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ ایکشن پلان کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے ضروری ہے کہ دہشت گردی کے ابعاد کو پھیلایا اور گہرا کیا جائے۔ صرف گولی اور تشدد سے دہشت گردی کا خاتمہ ناممکن ہوگا۔نئی نسلوں کو زندگی کرنے کے صحت مند راستے دکھانے کے لئے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں ایسے مباحثوں کا آغاز کیا جائے، جن میں اصحاب فکر و نظر کو مدعو کیا جائے اور ان کے افکار تازہ سے ذہنوں کو منور کیا جائے۔ جذباتیت کی جگہ عقل و فکر کا درس دیا جائے۔ صحیح تاریخی شعور عام کیا جائے۔ اسی طرح سے ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر عالمی برادری میں باوقار مقام حاصل کر سکیں گے۔

مزید : کالم