پاکستان ا سٹیل،پی آئی اے اورطوارقی اسٹیل،حقائق کیا ہیں: ایک تفصیلی جائزہ (3)

پاکستان ا سٹیل،پی آئی اے اورطوارقی اسٹیل،حقائق کیا ہیں: ایک تفصیلی جائزہ (3)
 پاکستان ا سٹیل،پی آئی اے اورطوارقی اسٹیل،حقائق کیا ہیں: ایک تفصیلی جائزہ (3)

  

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ آج جس ائر لائن کو خسارے سے نکالنے کے لئے نجی شعبے میں دینے کی باتیں کی جا رہی ہیں، اس کے قیام کی ضرورت اس لئے پیش آئی تھی کہ نجی شعبے میں چلنے والی پاکستان کی پہلی ایئر لائن مسلسل خسارے میں جا رہی تھی، چنانچہ 11مارچ 1955ء کو اسے مدغم کرتے ہوئے پی آئی اے کے نام سے قومی ایئر لائن شروع کی گئی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ترقی اور کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ 2005ء میں پیش آنے والے بحران سے قبل گزشتہ پچاس سال کے دوران سرکاری سرپرستی میں چلنے والے اس قومی ادارے کا ریکارڈ نہ صرف پی آئی اے کے لئے بلکہ پورے ملک کے لئے قابلِ فخر ہے۔ 1971ء میں ملک کے دو ٹکڑے ہونے پر پی آئی اے کو بھی زبردست دھچکا لگا تھا، لیکن حکومت کی جانب سے بھرپور سرپرستی کے نتیجے میں اس بحران سے نکل کر یہ ائر لائن 1976ء تک ایشیا کی بہترین ایئر لائن کے طور پر ابھرتے ہوئے ایک ادارے کی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔پی آئی اے نے ایئر فلپائن، ایئر مالٹا سمیت دنیا کی کئی ایئر لائنز کو انتظامی و تکنیکی معاونت کے علاوہ لیز پر جہاز فراہم کرکے ان کو قدم جمانے میں مدد دی، حتیٰ کہ 1980ء میں متحدہ عرب امارات کو تکنیکی و انتظامی تعاون فراہم کرنے کے علاوہ لیز پر دو جہاز دے کر ایمریٹس کے قیام میں مدد دی جو اس وقت دنیا کی بہترین ائر لائنوں میں سے ایک ہے۔

پاکستان اسٹیل کا قیام بھی مکمل طور پر ایک سیاسی فیصلہ تھا جو اس تناظر میں کیا گیا تھا کہ ایوب خان کی مسلسل کوششوں کے باوجود نہ تو نجی شعبہ فولاد کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لئے تیار تھا اور نہ ہی امریکہ سمیت کوئی مغربی ملک فولاد سازی کی تکنیک پاکستان کو منتقل کرنے پر آمادہ تھا، جبکہ فولاد کی صنعت کو ملک میں انجینئرنگ کی ترقی کے لئے بنیاد کی حیثیت سے پاکستان میں فولاد ساز ادارے کے قیام کا فیصلہ 1955ء میں ہی کر لیا گیا تھا۔ ان دنوں پاکستان میں صنعتوں کے جال بچھانے والے معروف زمانہ سرکاری ادارے پی آئی ڈی سی نے اپنے قابل فخر سربراہ غلام فاروق کی سربراہی میں فولاد ساز ادارے کے قیام کے لئے کوششیں بھی شروع کر دی تھیں، جن میں کافی پیش رفت ہوئی تھی۔ پاکستان اسٹیل کے قیام کی پیشکش روس کی طرف سے یحییٰ خان کے دور میں ہوئی تھی جسے حتمی شکل اختیار کرنے میں 3سال لگے اور پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بھٹو صاحب نے 30دسمبر 1973ء کو اس کا سنگ بنیاد رکھا۔ کراچی میں (پپری کے مقام پر) اسٹیل مل لگانے کی وجہ صرف یہ تھی کہ بھاری مقدار میں خام لوہے اور کوئلے کی درآمد کے سبب اس کا کسی بندرگاہ کے قریب ہونا ضروری تھا اور یہ بھی کہ اس کی مشینوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے روزانہ لاکھوں ٹن پانی کی ضرورت تھی۔ پاکستان اسٹیل کے قیام کی زبردست مخالفت اس وقت بھی کی گئی تھی، جس میں فولاد کے درآمد کنندگان پیش پیش تھے، جنہیں مغربی حلقوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور جو بھاری صنعت پاکستان میں لگانے کے سخت خلاف تھے۔ پاکستان اسٹیل کے مخالف حلقوں کا یہ کہنا تھا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں جب فولاد سستے داموں دستیاب ہے تو اتنے بھاری خرچ پر کارخانہ فولاد لگانے کی کیا ضرورت ہے۔ اس دلیل کے جواب میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ فولاد نہ صرف ملک کے دفاع کے لئے اہم ہے، بلکہ ملک کی صنعتی ترقی کے لئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے جو حقیقی معنوں میں ملک کی اقتصادی ترقی اور سیاسی خود مختاری کے لئے ضروری ہے، چنانچہ ہمارا نصب العین فولاد کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرنا ہے اور یہ کہ پاکستان اسٹیل کو نفع نقصان کے بجائے اسی قومی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اس وقت تک پاکستان نے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل نہیں کی تھی اور اسٹیل ٹیکنالوجی کا حصول اس سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔اس زاویے سے ملک کے لئے پاکستان اسٹیل کی اہمیت اگر کہوٹہ پلانٹ کے برابر نہیں تو اس سے کم نہیں تھی۔ خاص طور پر انجینئرنگ کی صنعت کی ترقی کے لئے اس کی وہی حیثیت تھی جو ملک میں بجلی کی فراہمی کے لئے تربیلا یا منگلا ڈیم کی ہے۔ اس کا اندازہ ملک میں سیم لیس پائپ سے لے کر لارج ڈایا میٹرپائپس، سلنڈر، الیکٹرک پینلز اور دیگر کئی صنعتوں کے قیام سے لگایا جا سکتا ہے جن کا پاکستان اسٹیل سے قبل وجود ہی نہیں تھا۔ پاکستان اسٹیل کے قیام سے ملک میں گنی چنی فاؤنڈریز کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا، جن میں وہ فاؤنڈریز بھی شامل تھیں جو پاکستان اسٹیل سے حاصل کردہ معیاری فولادسے گاڑیوں کے پرزے بنا کر امریکہ کی فورڈ کمپنی کو برآمد کرتی تھیں۔ پاکستان اسٹیل کی تو بھٹیوں کی راکھ بھی نمی سے محفوظ خصوصی اینیٹیں بنانے کے کام آئی جو تعمیراتی کام میں استعمال کی جاتی تھیں اور جن کے کئی کارخانے کھل گئے تھے۔

سرد جنگ کے زمانے میں رو س نے جو اس وقت فولاد پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک تھا، مغرب کو نیچا دکھانے اور اپنے کارخانوں کو چلتا رکھنے کے لئے تقریباً مفت میں پاکستان کو نہ صرف فولاد ساز کارخانہ دیا، بلکہ فولاد سازی کی منتقلی کے ذریعے فولاد سازی کے ماہرین کا ذخیرہ بھی فراہم کیا، جس سے حکومت نے تو کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، البتہ ان ماہرین کی بدولت ملک میں فولادی مصنوعات تیار کرنے والے کئی قابل ذکر کارخانے وجود میں آ گئے ہیں، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کا انحصار اب پاکستان اسٹیل سے حاصل کردہ پیداوار کے بجائے درآمدات پر ہے، بلکہ پاکستان اسٹیل کی بدولت وجود میں آنے والا صنعتوں کا بہت بڑا جال اب مکمل طور پر درآمد شدہ فولاد کا محتاج ہے، جس پر بھاری زرمبادلہ خرچ ہو رہا ہے، لیکن درآمدکنندگان کے پاؤ بارہ ہیں، جبکہ ان میں سے کئی صنعتیں درآمد کا بار نہ اٹھا پانے کے سبب بند ہو چکی ہیں۔ سوال اٹھتا ہے کہ کل تک ملک و قوم کے لئے پاکستان اسٹیل کی جو سیاسی اہمیت تھی، وہ ختم ہو گئی ہے؟ اگر نہیں تو اسے کہوٹہ کے مساوی اہمیت دینے کے بجائے ایک لاغر گائے کی طرح قسائی کے حوالے کرنے کے لئے کیوں سوچا جا رہا ہے؟پھر یہ کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جو کام حکومت اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ ٹھیک سے انجام نہ دے سکی، وہ کام نجی شعبہ اپنے محدود وسائل کے ساتھ بہتر طریقے سے انجام دے سکے گا؟ حکومت کو فولاد ساز کارخانے کے حوالے سے نجی شعبے سے یہ توقعات کس بنیاد پر ہیں، جبکہ اسی نجی شعبے کا پاکستان اسٹیل سے زیادہ استعداد کا حامل جدید تر کارخانہ جسے 2008ء میں پیداوار شروع کرنی تھی، ابھی تک چپ چاپ ہاتھ باندھے کھڑا ہے۔ پاکستان اسٹیل کے اوپر قائم یہ کارخانہ فولاد جو پاکستان کی محبت میں ایک سعودی ملٹی نیشنل نے لگایا تھا حکومت پاکستان کی بے وفائی کا زخم خوردہ ہے۔ اس کارخانے میں سوئی گیس بطور ایندھن نہیں، بلکہ بطور خام مال استعمال ہوتی ہے، جس کی فراہمی کی ضمانت جنرل پرویز مشرف نے بطور صدر پاکستان خود دی تھی۔ اس ضمانت کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب سوئی سدرن کی طرف سے رد و کد کے نتیجے میں سعودی کمپنی طوارقی اسٹیل بوریا بستر لپیٹ کر واپس جا رہی تھی۔ تب پرویز مشرف نے جو اس منصوبے کی پاکستان کے لئے اہمیت سے آگاہ تھے، طوارقی کے چیئرمین ڈاکٹر بلال طوارقی کو جو پرویز مشرف کی بہت عزت کرتے تھے، یہ منصوبہ ترک کرنے سے روکا تھا۔ یہ وہی کمپنی ہے، جس نے پاکستان اسٹیل کو اپنی تحویل میں لینے کے لئے صرف اس لئے بولی لگائی تھی کہ بھاری مقدار میں اسے درکار خام مال بھی ساڑھے چار کلو میٹر لمبی اس کنوئیربیلٹ کے ذریعے آنا تھا جو پورٹ قاسم سے پاکستان اسٹیل تک اس مقصد کے لئے لگائی گئی تھی۔طوارقی کا اس سلسلے میں پاکستان اسٹیل سے معاہدہ ہو چکا تھا، لیکن یہ ادارہ نجی شعبے میں کسی اور پارٹی کے پاس چلے جانے کی صورت میں طوارقی اسٹیل کی شاہ رگ اس کے ہاتھ میں چلی جاتی۔ اس مجبوری کے تحت طوارقی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ڈاکٹر بلال طوارقی کی شدید مخالفت کے باوجود پاکستان اسٹیل کو خریدنے کے لئے 22ارب روپے کی بولی لگائی تھی، جس کے صلے میں اس پر سستے داموں خریدنے کے لئے سازباز کا الزام لگا، جس کا ڈاکٹر بلال کو بے حد افسوس ہوا تھا۔ یہ تو بھلا ہو سابق چیف جسٹس افتخارچودھری کا جن کی مہربانی سے طوارقی کی بدنامی تو ہوئی، لیکن انہوں نے سعودی کمپنی کو بہت بڑے نقصان سے بچا کر ڈاکٹر بلال کی سات پشتوں پر احسان کر دیا۔(جاری ہے)

مزید :

کالم -