تین پاکستانی ٹیمیں دبئی میں پروجیکٹ پیش کریں گیتعل یم

تین پاکستانی ٹیمیں دبئی میں پروجیکٹ پیش کریں گیتعل یم

دورِ حاضر کا اہم ترین شعبہ ہے جس کی اہمیت سے انکار کسی طور ممکن نہیں،لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے تعلیم میں سے تربیت اور تدریس کا عنصر جدا کر رکھا ہے۔ کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر تو اِس کا عموماً خیال رکھا ہی نہیں جاتا، طلبہ و طالبات کی فکری صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کی طرف دھیان کم ہے، جس وجہ سے ہماری نوجوان نسل جب میدانِ عمل میں آتی ہے تو ڈلیوری اُس طرز کی نہیں ہوتی،جس کی ضرورت ہوتی ہے۔ مغرب میں یہ طریقہ عام ہے کہ ہائر ایجوکیشن میں سٹوڈنٹس کو اِس نہج کی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ جس بھی فیلڈ میں جائیں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر سکیں۔ ویسے تو یہ اُمتِ مسلمہ کا طرۂ امتیاز رہا ہے کہ وہ تعلیم کو تربیت سے جدا نہیں ہونے دیتی، لفظِ تعلیم تربیت کے بغیر ادھورا اور نامکمل سمجھا جاتا تھا، لیکن شاید ہم نے یہ سبق بھلا ڈالا اور اِس خط�ۂ پاک میں اکثر مقامات پر تعلیم مکمل کرنے والے تربیت سے خالی ہوتے ہیں۔پیشہ ورانہ تعلیم کی صورتِ حال قدرے بہتر ہے اور پروفیشنل سٹوڈنٹس عملی زندگی میں کچھ بہتر ثابت ہوتے ہیں،لیکن عام تعلیم حاصل کرنے والے تربیتی عوامل سے نابلد ہی دیکھے گئے ہیں۔

بعض ممالک میں کئی تعلیمی ادارے،این جی اوز یا دیگر تنظیمیں طلبہ و طالبات کی صلاحیتیں نکھارنے کے لئے مختلف اقدامات کرتی رہتی ہیں اور تعلیمی اداروں کے اشتراک سے ایسے ایونٹس کرائے جاتے ہیں جن سے سٹوڈنٹس کو تحقیقی امور پر بھی دسترس حاصل ہوتی ہے اس سے اُن کا ویژن بھی بڑھتا ہے۔ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن اور اُن کے ہمنواؤں نے بل کلنٹن فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ایسی ہی تنظیم بنا رکھی ہے جو دُنیا بھر میں یونیورسٹی سٹوڈنٹس کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت، تحقیق اور فکری صلاحیتوں کے حوالے سے مختلف مواقع فراہم کرتی رہتی ہے۔ رواں ہفتے میں اِس تنظیم نے اِسی طرز کی ایک ایکٹویٹی کروائی اور عالمگیر سطح پر ہزار سے زائد یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات کو ایک پراجیکٹ دیا گیا جس کا عنوان تھا ’’ری اویکننگ ہیومن پوٹینشل‘‘۔ اِس موضوع کے تحت پاکستان میں250یونیورسٹیز کے سٹوڈنٹس کے مابین ایک پراجیکٹ کمپٹیشن کروایا گیا۔ اسلام آباد کے نیشنل اینکوبیشن سنٹر میں منعقدہ اِس بین الجامعاتی مقابلے میں ملک کی تمام بڑی جامعات کے طلبہ و طالبات نے حصہ لیا جبکہ اِسی قسم کی مشق دُنیا کے کئی ممالک میں یونیورسٹی سٹوڈنٹس کے درمیان کروائی گئی۔پہلے مرحلے میں250 یونیورسٹیز میں سے25یونیورسٹیز کی ٹیموں کا انتخاب کیا گیا، جس کے بعد دوسرے مرحلے میں ٹاپ 6یونیورسٹیز کی ٹیمیں آگے آئیں، جن کے درمیان ہونے والے مقابلوں میں تین پوزیشنز ہولڈرز منتخب ہوئے جن میں ای ایم ای کالج نسٹ اسلام آباد پہلے، یونیورسٹی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی دوسرے اور لاہور گیریژن یونیورسٹی تیسرے نمبر پر قرار پائی۔ مختلف ممالک میں اِسی طرز کے مقابلے منعقد کروائے گئے جن میں سے تین تین ٹیموں کا انتخاب کیا گیا، اب یہ منتخب ٹیمیں دُنیا کے چار ممالک میں ہونے والے ریجنل مقابلہ جات میں شریک ہوں گی، جو 4مارچ2017ء کو شروع ہو رہے ہیں، برطانیہ، چائنہ، یو اے ای اور سینٹ فرانسسکو(امریکہ) میں کروائے جا رہے ہیں۔ دُنیا بھر سے 60،60 ٹیمیں اِن مقابلوں میں شریک ہو رہی ہیں پاکستان کی تینوں ٹیمیں دبئی میں ہونے والے ریجنل کمپیٹیشن میں حصہ لیں گی۔ پاکستان میں تیسرے نمبر پر آنے والی لاہور گریژن یونیورسٹی کی ٹیم محمد عاقب، محمد جاوید اور رابعہ ملک پر مشتمل تھی جس نے مقابلے میں حصہ لینے کے لئے ایک انوکھے پروجیکٹ کا انتخاب کیا جس کا موضوع تھا ’’خانہ بدوشوں کی عزتِ نفس کیسے بحال کی جا سکتی ہے‘‘ اِس موضوع پر کی گئی تحقیق کو ہر سطح پر سراہا گیا اور موضوع کے انتخاب پر ٹیم کو خوب مبارکباد کی گئی۔ یہ پروجیکٹ اِن نوجوانوں نے ’’آبِ حیات‘‘ کے عنوان سے مکمل کیا۔

ایل جی یو کی ٹیم آج تیسرے مرحلے کے لئے دبئی روانہ ہو رہی ہے جس کے اراکین کا عزم ہے کہ وہ اِس ریجنل مرحلے میں مزید محنت کے تحت اپنا پروجیکٹ60غیر ملکی مندوبین کے سامنے بڑی خوش اسلوبی سے پیش کریں گے اور پاکستان میں بسنے والے ’’مہاجرین یا جھگی نشینوں‘‘ کی عزت بحال کرنے کے حوالے سے اپنی تحقیق سے دُنیا کو روشناس کرائیں گے۔یوں پاکستان اور اہلِ پاکستان کا امیج بہتر ہو گا ان ٹیم اراکین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ جانے والی دونوں پاکستانی ٹیمیں بھی خوب تیاری کے ساتھ جا رہی ہیں اور امید ہے کہ ہم پاکستان کو ٹاپ رینکرز میں شامل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور پاکستانی یونیورسٹیوں کی ساکھ عالمی سطح پر بحال ہو گی۔

مزید : ایڈیشن 2